
سکیورٹی خدشات اور علاقائی کشیدگی، ریکوڈک منصوبہ سست روی کا شکار بیرک گولڈ نے ترقیاتی کام اور جائزے کی مدت بڑھا دی
کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس توسیع کا مقصد ممکنہ سکیورٹی خطرات اور جغرافیائی سیاسی حالات کا بہتر انداز میں جائزہ لینا ہے تاکہ منصوبے کی تکمیل کے لیے زیادہ مؤثر اور محفوظ حکمت عملی ترتیب دی جا سکے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے اہم ترین معدنی منصوبوں میں شامل ریکوڈک منصوبہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے، جہاں کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ نے سکیورٹی خدشات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث ترقیاتی کام کی رفتار کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو ملکی معیشت اور بالخصوص بلوچستان کی ترقی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف منصوبے پر جاری ترقیاتی سرگرمیوں کو سست کیا جا رہا ہے بلکہ اس کے جامع جائزے، یعنی فزیبیلٹی اسٹڈی، کی مدت میں بھی ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق جولائی 2026 سے ہوگا۔ کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں منصوبے کے پہلے سے طے شدہ بجٹ اور ٹائم لائنز متاثر ہوں گی۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس توسیع کا مقصد ممکنہ سکیورٹی خطرات اور جغرافیائی سیاسی حالات کا بہتر انداز میں جائزہ لینا ہے تاکہ منصوبے کی تکمیل کے لیے زیادہ مؤثر اور محفوظ حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور خطے میں سکیورٹی صورتحال نے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں پر براہ راست اثر ڈالا ہے، جس کے باعث عالمی کمپنیوں کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔
یاد رہے کہ ریکوڈک منصوبہ گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قانونی اور انتظامی تنازعات کا شکار رہا ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد کمپنی نے عالمی سطح پر قانونی چارہ جوئی کی۔ اس تنازع کے نتیجے میں پاکستان کو اربوں ڈالر جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس نے اس منصوبے کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔
بعد ازاں مارچ 2022 میں پاکستان اور بیرک گولڈ کے درمیان معاملات عدالت سے باہر طے پا گئے، جس کے بعد بلوچستان اور وفاقی کابینہ نے نئے معاہدے کی منظوری دی۔ اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ اب یہ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھے گا۔
اسی سلسلے میں مارک برسٹو نے اسلام آباد میں ایک بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ ابتدائی مطالعاتی رپورٹ 2024 تک مکمل کر لی جائے گی جبکہ 2027-28 تک باقاعدہ پیداوار کا آغاز متوقع ہے۔ تاہم موجودہ حالات کے باعث اس ٹائم لائن میں تاخیر کا امکان بڑھ گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق ریکوڈک میں کان کنی کے لیے جدید اوپن پٹ (کھلی کان) اور ملنگ آپریشن کا طریقہ اختیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے اعلیٰ معیار کے سونے اور تانبے کا کنسٹریٹ حاصل کیا جا سکے گا۔ منصوبے کی تعمیر دو مراحل میں کی جائے گی، جہاں پہلے مرحلے میں پلانٹ سالانہ تقریباً 40 ملین ٹن دھات کی پراسیسنگ کی صلاحیت رکھے گا، جبکہ پانچ سال کے اندر اس صلاحیت کو دوگنا کرنے کا منصوبہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ریکوڈک منصوبہ بلوچستان اور پاکستان کی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، جو نہ صرف بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری لائے گا بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ تاہم موجودہ سکیورٹی خدشات اور عالمی حالات اس منصوبے کی رفتار پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تاخیر ایک عارضی رکاوٹ ہے، لیکن طویل المدتی نقطہ نظر سے کمپنی کا محتاط رویہ سرمایہ کاری کے تحفظ اور منصوبے کی پائیداری کے لیے ضروری ہے۔ بہتر سکیورٹی صورتحال اور علاقائی استحکام کی صورت میں یہ منصوبہ دوبارہ اپنی رفتار حاصل کر سکتا ہے اور پاکستان کی معدنی معیشت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔


