
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حکام کے مطابق جھڑپوں کے دوران توپ خانے اور دیگر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرحد پار متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں اتوار کے روز اس وقت شروع ہوئیں جب سرحدی علاقوں میں کشیدگی اچانک بڑھ گئی۔ دونوں جانب سے فائرنگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی، جس کے باعث سرحدی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔

افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ صوبہ خوست کے مختلف علاقوں میں گولہ باری کی گئی، جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی سرحد پار حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ افغان طالبان کے ایک اہلکار کو اینٹی ائیر کرافٹ گن کے ساتھ تعینات دیکھا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتحال کس قدر کشیدہ ہو چکی ہے۔
یہ حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان چند روز قبل عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس جنگ بندی کا مقصد سرحدی تنازعات کو کم کرنا اور حالات کو معمول پر لانا تھا، تاہم تازہ جھڑپوں نے اس عمل کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
دوسری جانب، اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزراء خارجہ کی میزبانی کی۔ اس موقع پر پاکستانی حکام نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل قریب میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات بھی اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک طرف پاکستان علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
تاحال کسی جانی نقصان کی مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم دونوں ممالک کے حکام صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔



