
ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، توانائی کے ذرائع کو نشانہ بنانے کا عندیہ — عالمی منڈیوں میں ہلچل
ایران میں حکومت کی تبدیلی رونما ہو چکی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو سکتے ہیں
مدثر احمد-کنٹری ہیڈ امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز
واشنگٹن:
امریکہ کے سابق صدر Donald Trump نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے نہ پایا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کے توانائی کے اہم ذرائع کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایران کے توانائی کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے برقی پلانٹس اور تیل کے کنوؤں کو “مٹا” سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی رونما ہو چکی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری White House Press Secretary نے کہا کہ امریکی فوج کسی بھی کارروائی کے دوران بین الاقوامی اور ملکی قوانین کی پاسداری کرے گی۔ انہوں نے براہ راست ٹرمپ کے بیان کی توثیق یا تردید سے گریز کیا، تاہم یہ واضح کیا کہ امریکی پالیسی قانون کے دائرے میں رہ کر تشکیل دی جاتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ امریکی خام تیل کی قیمت جولائی 2022 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات نے قیمتوں کو اوپر دھکیلا ہے۔
ادھر AAA کے مطابق امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 3.99 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے، جو صارفین کے لیے اضافی مالی دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔
خطے میں کشیدگی اور تازہ حملے
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک یتیم خانے پر امریکی-اسرائیلی حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔
اسی دوران United Nations کے حکام نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں حالیہ جھڑپوں کے دوران اقوام متحدہ کے تین امن فوجی ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان کے بعض علاقوں پر حملوں کے بعد سامنے آئیں۔
مزید برآں اسرائیل میں ایک آئل ریفائنری کمپلیکس بھی حملے کی زد میں آ کر متاثر ہوا، جہاں ملبہ گرنے کے باعث نقصان کی اطلاعات ہیں۔
عالمی تشویش میں اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، بحری راستوں کی بندش اور فوجی کارروائیوں کے خدشات عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہے ہیں۔
نتیجہ
ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے ایک نئے جغرافیائی و سیاسی بحران کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی کوششیں اس کشیدگی کو کم کر پائیں گی یا صورتحال مزید بگڑتی جائے گی۔



