
حتمی ایرانی شکست تک امریکہ جنگ جاری رکھے، خلیجی عرب ممالک
اے پی نے اپنے مراسلے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کے لیے اس نے امریکہ، اسرائیل اور خلیجی عرب ریاستوں کے اعلیٰ حکام کے غیر اعلانیہ بیانات کے حوالے دیے ہیں۔
اے پی کے ساتھ
نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق یہ عرب ریاستیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی رائے کا قائل کرنے کے لیے یہ دلیلیں دے رہی ہیں کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ میں تہران پہلے ہی عسکری حوالے سے بہت کمزور ہو چکا ہے اور اب امریکہ کو یہ جنگ ایران کی فیصلہ کن شکست تک جاری رکھنا چاہیے۔
اے پی نے اپنے مراسلے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کے لیے اس نے امریکہ، اسرائیل اور خلیجی عرب ریاستوں کے اعلیٰ حکام کے غیر اعلانیہ بیانات کے حوالے دیے ہیں۔

عرب ریاستیں اچانک حملوں پر ناخوش تھیں
اس امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے پر نجی گفتگو میں عرب ممالک کے رہنماؤں نے اس بات پر ناگواری کا اظہار کیا تھا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز سے قبل واشنگٹن نے انہیں قبل از وقت اطلاع نہیں دی تھی۔
اس ناگواری کا بڑا سبب ان عرب ریاستوں کی طرف سے امریکہ کو کی جانے والی ان متعدد تنبیہات کا نظر انداز کیا جانا بھی تھا کہ کوئی بھی نئی جنگ خطے کے لیے تباہ کن سیاسی اور اقتصادی نتائج کی وجہ بنے گی۔
اب لیکن جزیرہ نما عرب کی امریکی اتحادی ریاستوں میں سے کئی امریکی صدر تک یہ پیغام پہنچا رہی ہیں کہ موجودہ وقت ہی ایسا وقت ہے کہ ایران کو حتمی طور پر شکست دی جا سکتی ہے اور یہ تہران میں مذہبی قیادت کے زیر اثر قائم حکومت کے ہمیشہ کے لیے خاتمے کا تاریخی موقع بھی ہے۔

نجی مشاورتوں میں امریکہ کے لیے پیغام
اے پی نے لکھا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کے حکام نے نجی مشاورتوں میں امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ تک یہ پیغام پہنچانے کی کوششیں کی ہیں کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیاں تب تک ختم نہیں ہونا چاہییں، جب تک کہ ایرانی حکوت، قیادت اور ایرانی رویوں میں کوئی واضح تبدیلیاں نہ آ جائیں۔
اس خبر رساں ادارے کے نامہ نگاروں کو امریکہ، اسرائیل اور خلیج کے خطے میں یہ باتیں جن اعلیٰ اہلکاروں نے بتائیں، وہ اس لیے اپنی شناخت خفیہ رکھنا چاہتے تھے کہ انہیں ایسی کوئی بات سرعام کہنے کا اختیار نہیں۔
خلیجی عرب ممالک کا یہ غیر اعلانیہ نقطہ نظر موجودہ حالات میں اس لیے بھی بہت اہم اور معنی خیز ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ان دنوں بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے ایرانی قیادت بہت کمزور ہو چکی ہے اور اب وہ اس بات پر آمادہ ہے کہ جنگی تنازعے کا کوئی نہ کوئی حل نکالا جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے مطابق اگر ایران کے ساتھ جلد ہی کوئی ڈیل طے نہ پائی، تو امریکہ ایران کی توانائی کی تنصیبات اور بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا۔
جہاں تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہے، تو ایران کئی مرتبہ اس دعوے کی تردید کر چکا ہے کہ اس کی امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت جاری ہے۔ تہران نے تاہم یہ کہا ہے کہ پاکستان نے ایک 15 نکاتی امریکی امن منصوبہ ایران کو پیش کیا تھا، جسے تہران مسترد کر چکا ہے۔

ایران پر مزید فوجی دباؤ کی حمایت
ایک خلیجی عرب ریاست کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا، ”خلیجی ممالک کے رہنما ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ ترین فوجی کارروائیوں کے بھی زیادہ تر حامی ہیں۔ ان میں سے مقابلتاﹰ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی سوچ زیادہ سخت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران پر ڈالا جانے والا فوجی دباؤ مزید بڑھا دیں۔‘‘
اس عرب سفارت کار نے کہا کہ سعودی عرب نے تو یہ دلیل بھی دی ہے کہ اگر ایران جنگ اس وقت ختم کر دی گئی، تو اس کا نتیجہ کسی ایسی ”اچھی ڈیل‘‘ کی صورت میں نہیں نکلے گا، جس میں مستقبل کے لیے ایران کے ہمسایہ عرب ممالک کی سلامتی کی ضمانت بھی دی گئی ہو۔
خلیجی عرب ریاستیں خود ابھی تک ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئیں اور نہ ہی اب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں یہ خلیجی ممالک خود بھی عملی طور پر شامل ہوں۔



