
امریکی اور اسرائیلی فوجی حکمت عملیوں میں ناکامی: 80 تھنک ٹینکس کی رپورٹ
امریکہ اور اسرائیل کی فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی کی برتری کے باوجود ایران نے اپنے حکمت عملی کے طور پر اہم کامیابیاں حاصل کیں
By www.vogurdunews.de
دنیا کے 80 بڑے تھنک ٹینکس نے حالیہ تحقیقاتی رپورٹس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملیوں میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ایرانی نیوز ایجنسی کے سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز نے دنیا بھر کے تھنک ٹینکس کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس کا تجزیہ کیا، جس کے نتائج میں اہم اتفاق رائے پایا گیا کہ دونوں ممالک اپنی فوجی اور حکمت عملی کی کوششوں میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
رپورٹ کا مرکزی خیال
تحقیقی رپورٹ کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی فوجی حکمت عملیوں نے ایران کے خلاف کمزور نتائج دیے ہیں۔ خاص طور پر ایران کی طرف سے کی جانے والی غیر متناسب جنگ کی حکمت عملی نے امریکہ اور اسرائیل کو نہ صرف اپنے مقاصد سے ہٹایا بلکہ ان کے فوجی اور تکنیکی لحاظ سے برتری کا بھی مؤثر جواب دیا۔
ایران نے اس جنگ کو ایک پیچیدہ غیر متناسب جنگ کے طور پر استعمال کیا، جس میں اس نے اپنے مخالفین کے سیاسی نظام کو درہم برہم کرنے، ان کی دفاعی صلاحیتوں کو توڑنے، اور ان کے سماجی، اقتصادی نظام کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر قبضہ کر کے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے اس علاقے کو دوبارہ کھولنے کی تمام کوششوں کو ناکام کر دیا۔
جنگ میں ناکامی کے عوامل
امریکہ اور اسرائیل کی فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی کی برتری کے باوجود ایران نے اپنے حکمت عملی کے طور پر اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ایران کی اسٹرٹیجک ذہانت اور مضبوط دفاعی اقدامات نے امریکی اور اسرائیلی کوششوں کو جمود میں مبتلا کر دیا۔
سیاسی نظام کو اکھاڑ پھینکنا:
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کوششوں کا پہلا مقصد ایران کے سیاسی نظام کو اکھاڑ پھینکنا تھا۔ تاہم، ایران نے اپنے مضبوط حکومتی ڈھانچے اور عوامی حمایت کو مستحکم رکھا، جس کی وجہ سے ان کی حکومت پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔
دفاعی صلاحیتوں کو ختم کرنا:
دوسرا مقصد ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو ختم کرنا تھا، مگر ایران نے اپنے جدید دفاعی نظاموں، بشمول بیلسٹک میزائلز اور ڈرون ٹیکنالوجی کو انتہائی موثر انداز میں استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی حملے ناکام ہوگئے۔
سماجی اور سیاسی سازشیں:
اس کے علاوہ ایران نے سماجی و سیاسی میدان میں بھی اپنی حکمت عملی کو بہتر بنایا۔ اس کی جڑیں عوام میں گہری ہیں، اور ایرانی حکومت نے اپنی سیاست کو اس طرح منظم کیا کہ مخالفین کی کسی بھی داخلی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔
ایران کی کامیاب حکمت عملی
ایران نے اپنی حکمت عملیوں کے ذریعے امریکی اور اسرائیلی افواج کی ساکھ کو کمزور کیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنی جغرافیائی پوزیشن کو بہتر کیا اور اس کی کامیابیوں کے نتیجے میں جنگ میں عملی طور پر برتری حاصل کر لی۔
ایران کی طرف سے کیے گئے اقدامات نے امریکہ اور اسرائیل کو یہ باور کرایا کہ وہ ایک پیچیدہ جنگی منظرنامے کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں ایران نے اپنی حکمت عملی اور طاقت کو بخوبی استعمال کیا۔
جنگ میں وقت کا کردار
ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق، اس جنگ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وقت امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کے حق میں ہے۔ امریکی اور اسرائیلی فوجی حکمت عملیوں میں وقتی تاخیر اور فیصلہ کن کامیابیوں کی کمی نے ایران کو ایک نیا موقف دیا ہے۔ اس کے برعکس، ایران نے اپنے وسائل کا بہترین استعمال کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کی دفاعی حکمت عملی مسلسل مضبوط رہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی: پروپیگنڈے کی ضرورت
رپورٹ کے مطابق، اب امریکہ اور اسرائیل کو جنگ کو کامیابی سے ختم کرنے کے لیے یا تو پروپیگنڈے کی مدد سے فتح کا دعویٰ کرنا ہوگا، یا پھر جنگ کے بغیر کسی فیصلہ کن نتیجے تک پہنچنا ہوگا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کو جنگی مقصد کے حصول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب ان کے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے سٹریٹجک فیصلہ لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
تھنک ٹینکس کی فہرست
ایرانی نیوز ایجنسی کے سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز نے ان 80 تھنک ٹینکس کی فہرست بھی جاری کی ہے جنہوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا۔ ان تھنک ٹینکس کی فہرست میں دنیا کے مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے تھنک ٹینکس شامل ہیں:امریکہ: 22 تھنک ٹینکسبرطانیہ: 8 تھنک ٹینکسیورپ (فرانس، جرمنی، بیلجیم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین، سوئٹزرلینڈ، سویڈن وغیرہ): 18 تھنک ٹینکسایشیا (چین، جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، تائیوان): 9 تھنک ٹینکسکینیڈا: 2 تھنک ٹینکسآسٹریلیا: 3 تھنک ٹینکسلاطینی امریکہ (برازیل): 1 تھنک ٹینکافریقہ: 3 تھنک ٹینکسبین الاقوامی/ملٹی نیشنل آرگنائزیشنز: 14 تھنک ٹینکس
کون سے تھنک ٹینک امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی پر بات کرتے ہیں؟
ایرانی نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں ان اہم تھنک ٹینکس کے نام شامل ہیں جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی پر تجزیہ کرتے ہیں:بروکنگز انسٹی ٹیوٹکارنیگی اینڈومنٹچتھم ہاؤسسینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS)RAND کارپوریشنکونسل آن فارن ریلیشنز (CFR)انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS)پیتھرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس (PIIE)ہیریٹیج فاؤنڈیشنسینٹر فار امریکن پروگریس (CAP)ان تھنک ٹینکس نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں بظاہر کوئی واضح فتح نہیں حاصل ہوئی، اور ایران نے اپنی حکمت عملی سے دشمنوں کو ناکام بنایا۔
نتیجہ
ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جنگی حکمت عملیوں اور فوجی طاقتوں کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں ہوتا، بلکہ ایک پیچیدہ حکمت عملی اور ملکی حمایت بھی اہم ہوتی ہے۔ ایران نے اس جنگ میں ثابت کیا کہ وہ کسی بھی خارجی قوت کو اپنے سیاسی و دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔
اب امریکہ اور اسرائیل کو اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلی لانی ہوگی تاکہ وہ اس جنگ میں اپنی ناکامیوں کا ازالہ کر سکیں، یا پھر اس جنگ کو کسی پروپیگنڈے کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔



