پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاک بحریہ اور پی ایل اے نیوی کی مشترکہ مشق "سی گارڈین IV” کا کامیاب انعقاد

مشق میں پی ایل اے نیوی کے جنگی جہاز، آبدوزیں، اور فضائی اثاثے شامل تھے، جبکہ پاکستان نیوی نے بھی اپنی جدید ترین جنگی جہاز، آبدوز، اور فضائی معاونت فراہم کی

سید عاطف ندیم کنٹری ہیڈ پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان نیوی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی نیوی (پی ایل اے این) کے درمیان مشترکہ سمندری مشق "سی گارڈین IV” کا کامیاب انعقاد کراچی اور شمالی بحیرہ عرب میں کیا گیا۔ اس مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون، سمندری تعاون، اور علاقائی بحری سلامتی میں اضافہ کرنا تھا۔ پانچ روزہ بندرگاہ مرحلے اور دو روزہ سمندری مرحلے پر مشتمل اس مشق نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کیا۔

مشق کا مقصد اور پس منظر

سی گارڈین IV کا مقصد دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان روابط کو مزید بڑھانا، پیشہ ورانہ مہارت کا تبادلہ کرنا اور علاقائی بحری سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ اس مشق کی نوعیت کے حوالے سے دونوں افواج نے ایک دوسرے کے آپریشنل طریقہ کار، حکمت عملی، اور ٹیکنیکس سے استفادہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

مشق میں پی ایل اے نیوی کے جنگی جہاز، آبدوزیں، اور فضائی اثاثے شامل تھے، جبکہ پاکستان نیوی نے بھی اپنی جدید ترین جنگی جہاز، آبدوز، اور فضائی معاونت فراہم کی۔ یہ مشق دونوں ممالک کے درمیان سمندری حکمت عملی کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم تھی، جس سے دونوں افواج کی مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

بندرگاہ کے مرحلے کی تفصیلات

مشق کا بندرگاہ مرحلہ 25 سے 29 مارچ تک کراچی میں منعقد کیا گیا، جس میں پی ایل اے نیوی کے جہاز نے پی این ایس تیمور (پاکستان نیوی کے جنگی جہاز) پر ڈاکنگ کی، جہاں پاکستانی نیوی کے افسران اور عملے نے ان کا استقبال کیا۔ اس مرحلے میں مختلف پیشہ ورانہ اور تعلیمی سرگرمیاں شامل تھیں۔

اہم سرگرمیاں:

  1. تبادلے کے دورے: پی ایل اے نیوی اور پاکستان نیوی کے افسران کے درمیان دورے کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں افواج کے افسران نے ایک دوسرے کے آپریشنل طریقوں، ٹیکنیکوں اور مشقوں کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی اور ایک دوسرے کے بحری اثاثوں کو دیکھا۔
  2. بحری تنصیبات پر واقفیت: اس دوران دونوں ممالک کے افسران نے کراچی میں موجود پاکستانی بحری تنصیبات کا دورہ کیا، جن میں پاکستان نیوی کی اہم بحریہ کے اثاثے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے مراکز شامل تھے۔
  3. پیشہ ورانہ گفتگو: دونوں افواج کے درمیان بحری چیلنجز اور آپریشنز کے حوالے سے پیشہ ورانہ گفتگو ہوئی، جس میں بحرِ عرب میں سمندری دہشت گردی، غیر قانونی سمندری سرگرمیاں، اور آبی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
  4. ینگ آفیسرز سیمینار: ایک خاص ینگ آفیسرز سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں دونوں افواج کے نوجوان افسران نے مختلف موضوعات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ یہ سیمینار دونوں ممالک کی افواج کے نئے اور متحرک افسران کے درمیان رابطے کا ایک اہم فورم تھا۔

سمندری مرحلے کی تفصیلات

سی گارڈین IV کا سمندری مرحلہ 30 مارچ سے 1 اپریل تک شمالی بحیرہ عرب میں کیا گیا، جس میں پاکستان نیوی اور پی ایل اے نیوی کے جنگی جہازوں نے مشترکہ آپریشنز میں حصہ لیا۔ اس مرحلے میں دونوں افواج نے کئی اہم اور پیچیدہ سمندری مشقوں کو انجام دیا۔

اہم مشقیں:

  1. کثیر ڈومین بھیڑ کے خطرات کے خلاف فضائی دفاعی مشقیں: اس مشق میں دونوں افواج نے سمندر پر مختلف فضائی حملوں کو روکنے کی تکنیکوں پر توجہ مرکوز کی۔ اس میں جنگی طیاروں کی مدد سے سمندری فضائی دفاع کی مشق کی گئی، جس میں دونوں بحری افواج کے طیاروں نے ایک دوسرے کے جہازوں کی حفاظت کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔
  2. پاک بحریہ کی آبدوز کے ساتھ آپریشنز: پاکستان نیوی کی آبدوز نے اس مشق میں حصہ لیا، جس کے دوران پی ایل اے نیوی کے جہازوں کے ساتھ مشترکہ زیر آب آپریشنز کی مشق کی گئی۔ یہ مشق آبدوزوں کی اہمیت اور ان کے استعمال کے طریقوں پر مرکوز تھی۔
  3. روایتی جنگی سمندری مشقیں: اس مرحلے میں دونوں بحری افواج نے روایتی جنگی آپریشنز کی مشق کی، جس میں سمندر میں فائرنگ، دشمن جہازوں کو ناکام بنانا اور سمندری سرحدوں کے تحفظ کی تدابیر شامل تھیں۔
  4. لائیو گنری فائرنگ مشقیں: لائیو گنری فائرنگ مشقوں کے ذریعے دونوں افواج نے اپنے آپریشنل اور ٹیکٹیکل کوآرڈینیشن کو مزید مستحکم کیا۔ اس میں دونوں ممالک کے جنگی جہازوں نے اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے جنگی میدان میں مشق کی۔

بحیرہ عرب میں مربوط گشت

مشق کا اختتام 1 اپریل کو بحیرہ عرب میں ایک مربوط گشت کے ساتھ کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے جنگی جہازوں نے مل کر سمندر میں امن اور استحکام کے لیے ایک مضبوط پیغام دیا۔ یہ گشت اس بات کا عکاس تھا کہ پاکستان اور چین کی بحری افواج مشترکہ طور پر بحرِ عرب اور جنوبی ایشیائی سمندری حدود میں سلامتی کی حفاظت کے لیے مضبوط اور ہم آہنگ ہیں۔

علاقائی بحری سلامتی اور استحکام

سی گارڈین IV نے علاقائی بحری سلامتی اور استحکام کے لیے دونوں افواج کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مشق نے نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعلقات کو مستحکم کیا بلکہ بحرِ عرب میں سمندری تحفظ کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کو اجاگر کیا۔ دونوں افواج نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سمندری سرحدوں کی حفاظت اور غیر قانونی سمندری سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

پاکستان اور چین کے دفاعی تعلقات

سی گارڈین IV کی کامیاب مشق نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان اور چین کے دفاعی تعلقات نہ صرف مضبوط ہیں بلکہ ان کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس مشق نے دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان عملی تعاون کو مزید مستحکم کیا اور بحری سلامتی کی حفاظت کے لیے ایک نئے عزم کا آغاز کیا۔

نتیجہ

پاک بحریہ اور پی ایل اے نیوی کے درمیان سی گارڈین IV مشق ایک کامیاب اقدام تھی جس نے دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان عملی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت کا تبادلہ، اور علاقائی بحری سلامتی کے لیے ایک مشترکہ عزم کو تقویت دی۔ یہ مشق نہ صرف دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ عالمی سطح پر سمندری سلامتی اور استحکام کے لیے ایک اہم پیغام بھی دیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button