پاکستاناہم خبریں

خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم شہباز شریف کا اہم بیان

“جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہم نے ہر ممکن سفارتی اور عملی اقدامات کیے ہیں، اور یہ کوششیں تاحال جاری ہیں۔”

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی، وزیراعظم آفس کے ساتھ

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے خطے میں جاری جنگی صورتحال کے تناظر میں ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق اور سیاسی استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام طبقات کو مل کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا، جبکہ خاص طور پر اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔


اعلیٰ سطحی اجلاس، قومی قیادت کی شرکت

اسلام آباد میں خطے کی موجودہ صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم سمیت اہم شخصیات شریک تھیں۔


خطے میں جنگ، پاکستان کی سفارتی کوششیں

وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران ہونے والی جانی نقصان پر پاکستان کو شدید افسوس ہے۔ انہوں نے کہا:

“پاکستان نے ایک مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں۔”

انہوں نے اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایران سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے متعدد رابطے کیے اور چین کا اہم دورہ بھی کیا، حتیٰ کہ زخمی ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔


عسکری قیادت کا کردار اور جنگ بندی کی امید

وزیراعظم نے عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بھی جنگ بندی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی ہے اور امید ہے کہ اللہ کے فضل سے خطے میں امن قائم ہوگا۔


معاشی مشکلات اور حکومتی بوجھ

شہباز شریف نے واضح کیا کہ جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت پر شدید دباؤ آیا ہے۔ ان کے مطابق:

  • گزشتہ دو سال کی کوششوں سے معیشت کو میکرو سطح پر مستحکم کیا گیا تھا
  • تاہم حالیہ جنگی صورتحال نے ترقی کے عمل کو متاثر کیا
  • وفاقی حکومت اب تک 129 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کر چکی ہے

انہوں نے بتایا کہ صرف تین ہفتوں میں حکومت نے بڑے پیمانے پر مالی وسائل فراہم کیے تاکہ صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔


پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ اور عوامی بوجھ

وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنا پڑا، جو کہ کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ تھا۔

انہوں نے عوام کے صبر اور برداشت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے اس صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا گیا۔


کفایت شعاری مہم اور حکومتی اقدامات

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے:

  • کابینہ ارکان نے دو ماہ کی تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا
  • تیل کی کھپت میں 50 فیصد کمی کی گئی
  • سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی لائی گئی

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ارکان اور دیگر قومی قیادت نے بھی اس مہم میں بھرپور حصہ لیا۔


آبنائے ہرمز اور توانائی کی فراہمی

وزیراعظم نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے پاکستان کے دو تیل بردار جہازوں کی آمد ممکن بنائی گئی، جبکہ مزید 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے لیے بھی راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس کامیابی کو اسحاق ڈار اور عاصم منیر کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔


ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی

وزیراعظم کے مطابق:

  • پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی
  • کم اہم منصوبوں کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا

انہوں نے ہدایت دی کہ وفاق اور صوبے ایسے منصوبے روکیں جن سے فوری عوامی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا، تاکہ وسائل کو عوامی فلاح پر خرچ کیا جا سکے۔


زرعی شعبہ اور ٹرانسپورٹ کا تحفظ

وزیراعظم نے خاص طور پر زرعی شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گندم کی کٹائی اور آئندہ فصلوں کی بوائی کے لیے ڈیزل اور پٹرول کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ:

“پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی بچانا ہوگا تاکہ مہنگائی کا بوجھ عام آدمی پر منتقل نہ ہو۔”


قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام کی ضرورت

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری اور تمام وزرائے اعلیٰ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ:

“یہ یکجہتی اس بات کی علامت ہے کہ قوم مشکل وقت میں متحد ہے۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔


اشرافیہ کو قربانی کا پیغام

وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اشرافیہ ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور کفایت شعاری کے ذریعے ہی عام آدمی کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔


اعلیٰ سطحی اجلاس میں اہم شخصیات کی شرکت

اجلاس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی، جن میں شامل تھے:

  • نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار
  • چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر
  • پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
  • چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم
  • وفاقی وزرا

یہ اجلاس خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور اس کے پاکستان پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا۔


مشترکہ حکمت عملی سے بحران کا مقابلہ

وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ تمام ادارے اور طبقات مل کر کام کریں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button