
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کے روز ایک بار پھر سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ بات پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔
اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور چین کی طرف سے قیام امن کے لیے پیش کیے گئے نکات پر بات چیت کی۔ تاکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم ہو سکے۔ وزیر خارجہ پاکستان نے چین کے دورہ میں وزیر خارجہ وانگ سے ہونے والی بات چیت اور مشترکہ طور پر تیار کردہ نکات کا بھی حوالہ دیا۔
چین کے ساتھ مشترکہ نکات میں جنگ روکنے، شہری انفراسٹرکچر اور شہریوں پر حملوں کو روکنا، کمرشل سرگرمیوں بشمول آبنائے ہرمز سے نقل و حمل کو کھولنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان یہ تجاویز اس وقت سامنے آئیں جب پاکستان نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کی اور اس کے فوری بعد وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین روانہ ہو گئے۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ 28 فروری سے جاری ہے۔ جس کے جواب میں ایرانی سیکیورٹی ادارے نہ صرف یہ کہ اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں بلکہ خلیجی ممالک میں بھی امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعویدار ہیں اور ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل و گیس کی نقل وحرکت بھی ان ملکوں کے لیے اعلان کر کے روک دی ہے جو امریکہ یا اسرائیل کے اتحادی ہیں۔
سعودی عرب اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے فون پر گفتگو کے دوران علاقے کی تازہ ترین صورتحال، کشیدگی کی سطح اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سلسلے میں پاکستان اور چین کے انیشی ایٹیو سے تیار کردہ 5 نکات پر بھی بات چیت ہوئی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم ان متحارب ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
یاد رہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ گزشتہ سال ماہ ستمبر میں کیا گیا ہے۔ جس میں ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ سمجھا جائے گا۔



