پاکستانتازہ ترین

حکومت نے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے امدادی رقوم کی فراہمی شروع کر دی، عام شہریوں کو ریلیف اولین ترجیح ہے: وزیر اعظم شہباز شریف

"بسوں، ویگنوں، ٹرکوں اور دیگر سامان بردار گاڑیوں کے مالکان کو ڈیجیٹل طریقے سے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ریلیف جلد اور شفاف انداز میں پہنچ سکے۔"

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے حالیہ معاشی دباؤ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مالی امداد کی فراہمی کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ اعلان ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس کی صدارت وزیر اعظم نے کی۔ اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، قیمتوں کی صورتحال اور عوامی ریلیف اقدامات کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفاف امداد کی فراہمی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ایک مؤثر اور شفاف نظام کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور گڈز ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں کو سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقوم جدید ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے براہ راست مستحق افراد تک منتقل کی جا رہی ہیں تاکہ کرپشن اور تاخیر جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا:
"بسوں، ویگنوں، ٹرکوں اور دیگر سامان بردار گاڑیوں کے مالکان کو ڈیجیٹل طریقے سے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ریلیف جلد اور شفاف انداز میں پہنچ سکے۔”

عوامی ریلیف حکومت کی اولین ترجیح

وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشکل معاشی حالات میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عام شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا:
"ہم مشکل وقت میں اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ حکومتی کفایت شعاری سے ہونے والی بچت عوام پر خرچ کی جائے گی۔”

پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد اقدامات

اجلاس میں حکام نے وزیر اعظم کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ ملک میں پٹرولیم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور سپلائی میں کسی قسم کی کمی کا خدشہ نہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد حکومت نے عوامی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں قیمت میں جزوی کمی ہوئی۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے خصوصی پیکج

حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکج کے تحت:

  • موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو 100 روپے فی لیٹر سبسڈی
  • چھوٹے ٹرک مالکان کو 70,000 روپے ماہانہ امداد
  • بڑے ٹرک مالکان کو 80,000 روپے
  • پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو 100,000 روپے ماہانہ

یہ اقدامات ایک ماہ کے لیے نافذ کیے گئے ہیں تاکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کو روکا جا سکے اور مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

زرعی شعبے کے لیے امداد

حکومت نے زرعی شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ چھوٹے کاشتکاروں کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ کے حساب سے مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ زرعی پیداوار متاثر نہ ہو اور کسانوں کو ریلیف مل سکے۔

ریلوے کرایوں میں استحکام

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان ریلوے کی اکانومی کلاس کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے، تاکہ کم آمدنی والے مسافروں پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

ملک گیر اطلاق

حکومت نے واضح کیا کہ یہ تمام ریلیف اقدامات نہ صرف ملک کے چاروں صوبوں بلکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نافذ کیے جائیں گے، اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

اجلاس میں شرکت

اجلاس میں وفاقی وزراء مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طلحہ برکی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

نتیجہ

ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے امدادی رقوم کی فراہمی حکومت کی جانب سے ایک اہم اقدام ہے، جس کا مقصد نہ صرف شفافیت کو یقینی بنانا ہے بلکہ ریلیف کو تیزی سے مستحق افراد تک پہنچانا بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ مستقبل میں سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے اور عوامی اعتماد میں اضافہ کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button