
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،وزارت اطلاعات و نشریات کا فیکٹ چیک کے ساتھ
اسلام آباد: وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک تفصیلی وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود ساختہ ترجمان حمداللہ فطرت ایک بار پھر بے بنیاد اور گمراہ کن دعووں کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ وزارت کے مطابق ایسے بیانات حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد عوام کو غلط معلومات فراہم کرنا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی کارروائیاں انتہائی محتاط اور مخصوص اہداف تک محدود ہوتی ہیں، جن میں صرف تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) اور افغان طالبان کے مبینہ دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وزارت کے مطابق ان کارروائیوں میں درستگی کو یقینی بنانے کے لیے جدید انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائیوں، چوکیوں کی تباہی اور قبضے، اور دہشت گردوں کے نقصانات کی تفصیلات باقاعدگی سے جاری کی جاتی ہیں۔ ان رپورٹس میں ہلاک اور زخمی ہونے والے عناصر کی تعداد، ضبط کیے گئے اسلحہ و سازوسامان، اور دیگر شواہد شامل ہوتے ہیں۔ مزید برآں، ان کارروائیوں کی ویڈیوز بھی عوام کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
بیان میں اس کے برعکس الزام عائد کیا گیا کہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کے ذریعے جعلی اور فرضی انفوگرافکس کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق اس مہم کا مقصد نہ صرف حقائق کو مسخ کرنا ہے بلکہ پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنا بھی ہے۔
وزارت اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ عالمی برادری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ افغان طالبان حکومت اور اس کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس خطے میں سرگرم ہیں۔ بیان میں حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ڈومیل بنوں میں ہونے والا حملہ اس کی ایک مثال ہے، جہاں خواتین اور بچوں سمیت 10 شہری شہید ہوئے۔ اس حملے کو “بزدلانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے وزارت نے کہا کہ ایسے واقعات خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ افغان شہریوں کو مسلسل پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور اس کے شواہد عوامی سطح پر موجود ہیں۔ وزارت نے 5 اپریل کو بلوچستان میں ہونے والی ایک اہم پریس کانفرنس کا حوالہ دیا، جس میں سرحد پار دہشت گردی کے مبینہ روابط کے شواہد پیش کیے گئے تھے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی قیادت کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ متعدد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، جو مبینہ طور پر افغان طالبان حکومت کی سرپرستی میں سرگرم ہیں۔
آخر میں وزارت اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ حمداللہ فطرت اور دیگر ترجمان مسلسل جعلی، پرانی حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز اور دعوے پھیلاتے رہتے ہیں۔ بیان کے مطابق ان عناصر کو بھارتی سرپرستی اور ایک منظم پروپیگنڈا نیٹ ورک کی حمایت حاصل ہے، جس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر قائم رہے گا اور ہر سطح پر حقائق کو دنیا کے سامنے لاتا رہے گا، تاکہ گمراہ کن بیانیے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔



