
پنجاب بھر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کا عمل تیز، ہزاروں افراد ڈی پورٹ
ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد میں 13 ہزار سے زائد مرد، 6 ہزار 868 خواتین اور 14 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: پنجاب پولیس نے صوبہ بھر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 34 ہزار سے زائد افراد کو ملک بدر (ڈی پورٹ) کیا جا چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق ان افراد میں بڑی تعداد افغانستان سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ہے۔
حکام کے مطابق انخلا کے اس عمل کے دوران لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں خصوصی آپریشنز کیے جا رہے ہیں، جبکہ 201 غیر قانونی مقیم افراد اس وقت ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں، جنہیں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈی پورٹ کیا جائے گا۔
ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد میں 13 ہزار سے زائد مرد، 6 ہزار 868 خواتین اور 14 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ ایک وسیع پیمانے پر جاری آپریشن ہے۔ مزید تفصیلات کے مطابق ان افراد میں 10 ہزار 665 ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس رہائشی ثبوت موجود تھے، جبکہ 11 ہزار 114 افراد افغان سٹیزن کارڈ کے حامل تھے۔ اس کے علاوہ 12 ہزار 206 ایسے غیر ملکی بھی شامل ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔
عبدالکریم، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم تمام افراد کا انخلا ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل کو منظم اور قانون کے مطابق انجام دینے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔
آئی جی پنجاب نے واضح کیا کہ یہ مہم بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت جاری ہے، اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کسی کے ساتھ ناروا سلوک نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود افراد کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی باعزت واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق صوبہ بھر میں داخلی و خارجی راستوں، بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنز پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب میں جاری یہ وسیع آپریشن نہ صرف سکیورٹی کو بہتر بنانے کی کوشش ہے بلکہ امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے ریاستی نظم و ضبط بہتر ہوگا اور غیر قانونی قیام کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف کارروائیاں گزشتہ کچھ عرصے سے تیز کی گئی ہیں، جن کا مقصد سکیورٹی خدشات کو کم کرنا اور قانونی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

