
By www.vogurdunews.de
یورپ: یورپی یونین نے اپنے نئے بارڈر چیک نظام کے تحت سکیورٹی اور امیگریشن کنٹرول کو مزید سخت کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو رکن ممالک میں داخلے سے روک دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس جدید نظام کے نفاذ کے بعد سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انٹری/ایگزٹ سسٹم (EES) کیا ہے؟
یورپی کمیشن کے مطابق انٹری/ایگزٹ سسٹم (EES) روایتی پاسپورٹ اسٹیمپنگ کے عمل کی جگہ لے رہا ہے۔ اس ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مسافروں کی آمد و رفت کا مکمل ریکارڈ محفوظ کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سکیورٹی بہتر ہوگی بلکہ امیگریشن کے عمل میں شفافیت بھی آئے گی۔
یہ نظام جمعہ کے روز مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور اب یورپ کی بیرونی سرحدوں پر جدید ڈیجیٹل رجسٹریشن کے ذریعے مسافروں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
لاکھوں کراسنگز رجسٹر، ہزاروں افراد کو روک دیا گیا
یورپی کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ابتدائی آغاز کے بعد سے اب تک 5 کروڑ 20 لاکھ سے زائد بارڈر کراسنگز اس نظام کے تحت رجسٹر کی جا چکی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 27 ہزار سے زائد مواقع پر افراد کو یورپی یونین میں داخل ہونے سے روکا گیا، جبکہ تقریباً 700 افراد کو سکیورٹی خطرہ قرار دیا گیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نیا نظام ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
29 ممالک میں باضابطہ نفاذ
یہ جدید بارڈر سسٹم مجموعی طور پر 29 ممالک میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس میں یورپی یونین کے 27 رکن ممالک (آئرلینڈ اور قبرص کے علاوہ) شامل ہیں، جبکہ ناروے، آئس لینڈ، سوئٹزرلینڈ اور لخٹنشٹائن جیسے غیر رکن ممالک بھی اس نظام کا حصہ ہیں، کیونکہ یہ شینگن زون میں شامل ہیں۔
حکام کا مؤقف
یورپی یونین کے داخلی امور کے کمشنر میگنس برونر نے اس نظام کو سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
“ای ای ایس کے ذریعے ہم اس بات پر مکمل کنٹرول حاصل کر رہے ہیں کہ کون، کب اور کہاں سے یورپی یونین میں داخل اور خارج ہوتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام غیر قانونی امیگریشن، جعلی دستاویزات اور سکیورٹی خطرات کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
سفر اور امیگریشن پر اثرات
ماہرین کے مطابق اس نئے نظام کے نفاذ سے یورپ کا سفر زیادہ محفوظ تو ہوگا، تاہم ابتدائی مرحلے میں مسافروں کو اضافی چیکنگ اور ڈیجیٹل رجسٹریشن کے باعث کچھ تاخیر کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
خاص طور پر ایسے مسافر جو پہلی بار یورپی سرحد عبور کریں گے، ان کے لیے بایومیٹرک ڈیٹا (فنگر پرنٹس اور چہرے کی شناخت) کی رجسٹریشن لازمی ہوگی۔
نتیجہ
یورپی یونین کا یہ نیا بارڈر چیک سسٹم جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اگرچہ اس سے امیگریشن قوانین مزید سخت ہو گئے ہیں، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ یہ اقدام یورپ کو محفوظ بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گا۔





