پاکستاناہم خبریں

‘سی ڈی ایف عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر’، ٹرمپ نے ایران کی جانب سے تجویز پیش کرنے تک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا

انہوں نے کہا:“ہم نے اپنی افواج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی برقرار رکھیں، مکمل تیاری کی حالت میں رہیں، اور ایران کی جانب سے کسی واضح اور متحد تجویز تک جنگ بندی جاری رکھیں۔”

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جا رہی ہے جب تک ایران اپنی جانب سے ایک “متفقہ تجویز” پیش نہیں کرتا اور مذاکرات کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ جاتے۔
جنگ بندی میں توسیع کا اعلان
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی اندرونی صورتحال غیر مستحکم ہے اور اسی تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر امریکا نے فوری عسکری کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا:“ہم نے اپنی افواج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی برقرار رکھیں، مکمل تیاری کی حالت میں رہیں، اور ایران کی جانب سے کسی واضح اور متحد تجویز تک جنگ بندی جاری رکھیں۔”
ایران کا محتاط ردعمل
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بگھائی نے کہا ہے کہ تہران نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ پاکستان میں امریکا کے ساتھ ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں شرکت کرے گا یا نہیں۔
انہوں نے امریکی اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں “ریاستی دہشت گردی” اور “سمندری قزاقی” کے مترادف ہیں۔
یہ اقدامات امریکا کی غیر سنجیدہ اور متضاد پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
سمندری کشیدگی میں اضافہ
حالیہ دنوں میں خلیجی پانیوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے:
امریکی افواج نے ایک آئل ٹینکر Tiffany کو تحویل میں لیا، جو مبینہ طور پر پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارت میں ملوث تھا۔
جہاز پر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل موجود تھا، جو جزیرہ خارگ سے لوڈ کیا گیا تھا۔
اس سے قبل امریکی بحریہ ایک ایرانی پرچم بردار جہاز کو بھی روک چکی ہے، جس پر ناکہ بندی سے بچنے کا الزام لگایا گیا۔
پاکستان کا کلیدی کردار
پاکستان اس بحران میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑنے بتایا کہ:پاکستان ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے حوالے سے ایران کا باضابطہ جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔جنگ بندی کی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے ایران کا فیصلہ انتہائی اہم ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا:“پاکستان نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مخلصانہ اور مسلسل کوششیں کی ہیں، اور یہ عمل جاری ہے۔”
ممکنہ منظرنامہ
تجزیہ کاروں کے مطابق:
اگر ایران مذاکرات میں شامل ہوتا ہے تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔
بصورت دیگر، جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ عسکری تصادم کا خطرہ موجود ہے۔
پاکستان کی ثالثی کوششیں اس بحران کے حل میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
نتیجہ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سفارتکاری اور طاقت کے استعمال کے درمیان توازن قائم رکھنا عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ پاکستان کی کوششیں اس بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار ایران کے آئندہ فیصلے پر ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button