
ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہو گا !……ناصف اعوان
اس نے وہ آسامیاں ہی ختم کر دی ہیں نہ رہے بانس نہ بجے بانسری نہ ہوں ملازمین نہ انہیں تنخواہیں دینا پڑیں اور نہ ہی وہ احتجاج کرسکیں
جن محکموں میں خالی آسامیاں ہیں انہیں ختم کیا جا رہا ہے اور یہ تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ بے روزگاری اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی خزانے میں موجود پیسا اتنا نہیں کہ اس سے بے روزگاروں کو روزگار فراہم کیا جا سکے اور باروزگاروں کو آسائشیں مہیا کی جا سکیں مگر سوال یہ ہے کہ حکومتیں کس لئے ہوتی ہیں ؟
جب وہ اقتدار میں آتی ہیں تو آنے سے پہلے عوام سے وعدے تو بہت کرتی ہیں مگر جونہی تخت نشیں ہوتی ہیں تو پھر‘ تو کون اور میں کون ؟ جب لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے تو فلاں فلاں وعدے کیے تھے تو وہ کہتی ہیں کہ ٹھیک ہے مگر ہم جن عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیتے ہیں ان کی کچھ شرائط ہوتی ہیں جن پر عمل درآمد لازمی ہوتا ہے ۔ حیرت مگر یہ ہے کہ آئی ایم ایف یا دوسرے مالیاتی ادارے ہمیشہ عوام کو سہولتیں دینے سے متعلق نہیں بلکہ انہیں جو چند ایک میسر ہوتی ہیں ان کو واپس لینے کی شرائط آگےرکھتے ہیں مگر اشرافیہ کے بارے میں کبھی بھی ایسی شرائط پیش نہیں کرتے لہذا ان کی تنخواہیں جتنی بھی بڑھانی ہوں بڑھا دی جاتی ہیں ان پر ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوتے۔ لیے گئے قرضے بھی ان کے معاف کر دئیے جاتے ہیں لہذا اب معیشت کی صورت حال بے حد خراب ہو چکی ہے جس کو ٹھیک کرنے کے لئے موجودہ حکومت ایک تو اداروں کو نجی تحویل میں دے رہی ہے دوسرے جن محکموں میں نئی بھرتیاں کرنا تھیں وہ نہیں کر رہی الٹا اس نے وہ آسامیاں ہی ختم کر دی ہیں نہ رہے بانس نہ بجے بانسری نہ ہوں ملازمین نہ انہیں تنخواہیں دینا پڑیں اور نہ ہی وہ احتجاج کرسکیں ۔ کوئی حکومت سے پوچھے کہ ریاست شہریوں کے بنیادی حقوق کی زمہ دار نہیں ہوتی اس نے ہی لوگوں کے لئے روزگار کے موقع پیدا کرنا ہوتے ہیں تعلیم صحت کی سہولتوں کا انتظام اس نے ہی کرنا ہوتا ہے مگر یہاں تو گنگا الٹی بہتی ہے آج تک ہماری کسی بھی حکومت نے اپنا فرض ادا نہیں کیا اس نے ہمیشہ لولی پاپ ہی دئیے ہیں لوگوں کی جیبوں کو جتنا ہو سکا خالی کیا گیا ۔
یہ بات درست ہے کہ حکومت کو ٹیکس دینا عوام کا فرض ہوتا ہے مگر کیا ان ٹیکسوں سے عوام کا مستفید ہونا ان کا حق نہیں مگر دیکھا گیا ہے کہ بہت کم ان ٹیکسوں سے عوام کو فائدہ پہنچا اس کے بر عکس اشرافیہ نے خوب موجیں کیں اب بھی یہی کچھ ہو رہا ہے عوام کی حالت انتہائی دگر گوں ہے مگر اہل اقتدار شاہانہ طرز زندگی بسر کر رہے ہیں آئے روز ان کے مالی مفادات میں اصافہ ہور ہا ہے جبکہ ملازمین ۔مزدور اور محنت کش طبقے آنسو بہا رہے ہیں ان کی آمدنی انتہائی قلیل ہے جب وہ حکومت کے آگے گزر بسر نہ ہونے کا رونا روتے ہیں تو وہ آئی ایم ایف کو مورد الزام ٹھہراتی ہے؟ اس میں قصور وار وہ ہے تو حکومت بھی بری الزمہ قرار نہیں پاسکتی کیونکہ کسی بھی حکومت کا یہ فرض منصبی ہوتا ہوتا ہے کہ وہ خزانہ بھرنے کے لئے منصوبے بنائے اس بارے سوچ بچار کریے مگر وہ قرضے لے کر ملک چلانے پر اکتفا کرتی ہے اور اب اتنا قرضہ لیا جا چکا ہے کہ جسے اتارنے کے لئے اداروں کو فروخت کیا جارہا ہے یہ حل نہیں معیشت کو مستحکم کرنے کا اس کے لئے صنعتیں لگانے کی ضرورت ہے بد عنوانی پر قابو پایا جائے۔ بے جا اخراجات کم کیے جائیں غیر پیداواری سکیموں پر عمل درآمد ااس وقت تک روک دیا جائے جب تک خزانہ بھر نہ جائے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے کیونکہ حکمران طبقہ تو خود کو بڑا دانا و بینا تصور کرتا ہے ؟
بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح کے اقدامات کیے جا رہے ہیں ان میں زیادہ تر غیر موافق ہیں کچھ ‘موافق بھی ہیں مگر ان سے پیٹ نہیں بھرتا جن سے پیٹ بھر سکتا ہے وہ بہت کم نظر آتے ہیں لہذا اگر اہل اختیار عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں تو انہیں آئی ایم ایف سے چھٹکارا پانے کا کوئی راستہ نکالنا ہو گا اسے بتایا جائے کہ ان کی ہر شر ط پر عمل ممکن نہیں کیونکہ عوام کی اکثریت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں مگر عوامی مفاد میں فیصلے کرنا ہر حکومت کے بس میں نہیں ہوتا لہذا وہ انتظامی امور چلانے کے لئے لوگوں کو قربانی کا بکرا بناتی ہے ۔
اسے یہ خیال نہیں رہتا کہ جب مہنگائی بے روزگاری اور غربت کی انتہا ہو تو حکومت کو ان کی مالی مدد کرنا ہوتی ہے مگر وہ ان کی جمع پونجی پر بھی نظریں گاڑ دیتی ہے ۔ وہ کیسے جئیں گے کہاں سے اپنے بچوں کے لئے اتنے پیسے لائیں گے ۔آج مورخہ بائیس اپریل کے اخبار میں ایک خبر چھپی ہے کہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے ۔ لوگ تو موجودہ بلوں کی ادائی کرنے سے قاصر ہیں مزید اضافہ پر تو ان کی چیخیں نکل جائیں گی ۔ کیا وہ ممالک ہیں جہاں بجلی مفت دی جاتی ہے جن میں ایسا نہیں وہاں اس کی معمولی قیمت ہے کیونکہ ان کی حکومتیں اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کے لیے پوری کوشش کرتی ہیں ۔ بے روزگاروں کے وظیفے مقرر کرتی ہیں ۔ کسی نے قرضہ بھی لینا ہو تو اسے بلا سود دیتی ہیں یا پھر برائے نام وصول کرتی ہیں ۔ ہمارے ہاں تو ایسا رواج ہی نہیں کیونکہ ہم مالیاتی اداروں سے سود پر قرضے لیتے ہیں اور آگے بھی اسی طرح دیتے ہیں۔ اس نظام نے ہماری ترقی کو آگے نہیں بڑھنے دیا اور قرضوں کے جال میں الجھ کر آج ہمیں بدحالی کا سامنا ہے مگر مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی اور اس کی ایک وجہ سیاسی عدم استحکام بھی ہے جس کو شاید قابل توجہ نہیں خیال کیا جا رہا اور غیر پیداواری منصوبوں کا اجراء کرکے عوامی بے چینی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر جب تک نظام حیات جس میں لوگوں کو سہولتیں نہیں ملتیں غربت افلاس سے نجات نہیں ملتی تعلیم صحت مفت فراہم نہیں کیے جاتے ناانصافی کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آسکتا نہ ہی لوگوں کے معاشی حالات بہتر ہو سکتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ آئی ایم ایف ایسے اداروں کے قرضوں اور احکامات سے گلو خلاصی کے لئے قومی حکومت بنائی جائے جس میں ہر کسی کا بقدر جثہ حصہ ہو تاکہ ملک میں خوشحالی آئے۔


