پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

لاہور کے علاقے اچھرہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ: تین کمسن بچوں کا بہیمانہ قتل، والدہ گرفتار

ابتدائی طور پر بچوں کے چچا کو بھی حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں تفتیش کا رخ تبدیل ہونے پر والدہ کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا۔

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گنجان آباد علاقے Ichhra میں جمعرات کی صبح ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک رہائشی مکان سے تین کمسن بچوں کی گلا کٹی لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس اندوہناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا جبکہ شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔


جاں بحق بچوں کی شناخت

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں میں پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ شامل ہیں۔ تینوں بچوں کو نہایت بے دردی سے تیز دھار آلے کے ذریعے قتل کیا گیا۔


والدہ گرفتار، ابتدائی اعتراف

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا کے مطابق بچوں کی والدہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے ابتدائی تفتیش میں گھریلو ناچاکی کے باعث اپنے ہی بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

ان کے مطابق ملزمہ نے بچوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی چھری ایک روز قبل خریدی تھی، جس سے اس واقعے کی منصوبہ بندی کا عندیہ بھی ملتا ہے۔


پولیس کی فوری کارروائی

پولیس کے انویسٹی گیشن اور آپریشنز ونگ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے انتہائی کم وقت میں ملزمہ کو گرفتار کر لیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کی مدد سے پولیس ملزمہ تک پہنچی۔

ابتدائی طور پر بچوں کے چچا کو بھی حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں تفتیش کا رخ تبدیل ہونے پر والدہ کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا۔


جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے

واقعے کی اطلاع ملتے ہی Rescue 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور تینوں بچوں کی لاشیں اپنی تحویل میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیں۔

پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے فرانزک ٹیموں کی مدد سے اہم شواہد اکٹھے کیے، جنہیں مزید تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔


والدین کی عدم موجودگی

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے وقت بچوں کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے۔ جب وہ واپس آئے تو اپنے بچوں کی لاشیں دیکھ کر شدید صدمے میں آ گئے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔


سینئر افسران کی نگرانی میں تفتیش

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا سمیت دیگر سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے اور تفتیشی عمل کی خود نگرانی کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔


پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائی

مقتول بچوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔


سماجی و نفسیاتی پہلوؤں پر سوالات

یہ واقعہ نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ گھریلو مسائل، ذہنی دباؤ اور معاشرتی حالات پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرتی آگاہی، ذہنی صحت کی سہولیات اور گھریلو تنازعات کے حل کے مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔


شہریوں میں تشویش

واقعے کے بعد علاقے کے مکینوں میں شدید خوف اور تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button