کَیس لاہور میں “فضائی طاقت اور تنازعات کی بدلتی نوعیت” پر اہم سیمینار، جدید جنگی رجحانات پر جامع بحث
جنگی حکمت عملی اب پلیٹ فارم پر مبنی نظام سے نکل کر نیٹ ورک پر مبنی اور کثیر سطحی نظام کی طرف منتقل ہو چکی ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سنٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (کَیس) لاہور کے زیر اہتمام 30 اپریل 2026 کو “فضائی طاقت اور تنازعات کی بدلتی ہوئی نوعیت” کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔
اس علمی نشست میں ماہرینِ تعلیم، دفاعی تجزیہ کاروں، سینئر عسکری افسران اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی، جہاں جدید جنگی حکمت عملی، ڈرون ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے تنازعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
تقریب کا آغاز ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر محترمہ ندا شاہد کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جنہوں نے سیمینار کے مقاصد اور موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
غیر ریاستی ڈرون جنگ کا ارتقا
عامر رانا، صدر پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے اپنے خطاب میں غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ڈرون جنگ ابتدائی تجرباتی مرحلے سے نکل کر ایک جدید اور منظم شکل اختیار کر چکی ہے۔ مسلح گروہ اب ان ٹیکنالوجیز کو نگرانی، دباؤ ڈالنے اور حملہ آور کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان بھی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں مسلح کواڈکاپٹرز محدود واقعات سے نکل کر ایک منظم اور جغرافیائی طور پر پھیلے ہوئے خطرے کی شکل اختیار کر رہے ہیں، جس سے سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جدید جنگ میں فضائی طاقت کی اہمیت
طارق غازی، ڈی جی پروجیکٹس ایئر ہیڈکوارٹرز، نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے فضائی طاقت کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگی حکمت عملی اب پلیٹ فارم پر مبنی نظام سے نکل کر نیٹ ورک پر مبنی اور کثیر سطحی نظام کی طرف منتقل ہو چکی ہے، جہاں:
- انسانی عملے کے حامل طیارے
- بغیر پائلٹ کے فضائی نظام
- درست نشانہ بنانے والے میزائل
ایک مربوط نظام کے طور پر کام کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلا، سائبر اسپیس اور الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم بھی جدید تنازعات میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں، اور کامیابی اب ان تمام عناصر کے مؤثر انضمام پر منحصر ہے۔
اسٹریٹیجک خطرات اور جوہری اشارہ رسانی
ظاہر کاظمی، مشیر آرمز کنٹرول، اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن نے اپنے تجزیے میں جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک خطرات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ:
- دوہری صلاحیت کے حامل میزائل
- ہائپرسانک ہتھیار
- فیصلہ سازی کے کم ہوتے اوقات
خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق جدید جنگ میں روایتی اور جوہری اشارہ رسانی کے درمیان فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے، جس سے غلط فہمیوں اور غیر ارادی تصادم کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول اور واضح حکمت عملی کو استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
جنگ کی بدلتی نوعیت اور پاکستان کا تجربہ
اختتامی خطاب میں عاصم سلیمان، صدر کَیس لاہور، نے کہا کہ جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور فضائی میدان اب مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
- ڈرونز اور اسمارٹ ہتھیاروں نے جنگ کی رفتار بڑھا دی ہے
- نگرانی، فیصلہ سازی اور حملے کے درمیان فاصلہ کم ہو گیا ہے
- کثیر جہتی آپریشنز (فضائی، سائبر، خلا اور الیکٹرانک) ناگزیر ہو چکے ہیں
انہوں نے مئی 2025 کے پاک-بھارت تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی صرف جدید ٹیکنالوجی یا تعداد پر نہیں بلکہ مربوط حکمت عملی، مضبوط ڈاکٹرائن اور مؤثر قیادت پر منحصر ہوتی ہے۔
اس ضمن میں انہوں نے ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستان ایئر فورس کی حکمت عملی کو سراہا۔
سوال و جواب سیشن اور مباحثہ
سیمینار کے اختتام پر ایک جامع سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے جدید جنگی رجحانات، فضائی حدود کی اہمیت اور کثیر جہتی آپریشنز پر تفصیلی سوالات کیے۔
ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل کے تنازعات میں فضائی طاقت اور جدید ٹیکنالوجی کا کردار مزید بڑھ جائے گا، اور ریاستوں کو اس کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔
نتیجہ
یہ سیمینار جدید جنگی رجحانات کو سمجھنے اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیاری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ کَیس لاہور کی جانب سے اس بامقصد اور فکر انگیز مکالمے کا انعقاد ماہرین کی جانب سے سراہا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے فورمز نہ صرف علمی و دفاعی شعور کو فروغ دیتے ہیں بلکہ پالیسی سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔



