
امن زندگی ہے جنگ بربادی ہے………ناصف اعوان
بہرحال امریکا کو یہ چیز اندر سے کھائے جا رہی ہے کہ اس نے جنگ میں ایران کو شکست کیوں نہیں دی اسے خاصا نقصان بھی پہنچایا اس کے باوجود بھی وہ کھڑا ہے لہذا امریکا کو مان لینا چاہیے
صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران اس کی شرائط تسلیم نہیں کرتا تو اس پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ بہت بڑا حملہ کرے گا جس سے اس کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہے گا ۔ جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی بیان دیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو اسے لگ پتا جائے گا۔ ٹرمپ کی اس دھمکی سے تجزیہ کار یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شاید چین نے پولے منہ کہہ دیا ہو گا کہ وہ ایران کی کسی بھی طور سے کوئی مدد نہیں کرے گا کیونکہ اس کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کے مالکان جو ٹرمپ کے دورہ چین پراس کے ہمراہ گئے تھے نے کچھ تجارتی معاہدے کیے ہیں لہذا اس نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے منہ کھائے آنکھیں شرمائے کے مصداق کہہ دیا ہو گا کہ اب وہ ایران کی پشتی بانی نہیں کرے گا لہذا صدر امریکا نے یہ دھمکی دے ڈالی۔
بات صاف اور سیدھی ہے کہ چین ایران کو کسی بھی صورت گرنے نہیں دے گا ۔ فرض کیااگر امریکا ایران میں رجیم چینج کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس میں اپنے اڈے قائم کر لیتا ہے تو کیا چین کو یہ بات وارے میں ہو گی اس کے ساتھ روس بھی یہ چاہے گا کہ اس کا حریف اس کے قریب آکر بیٹھ جائے اور اس کے خلاف منصوبے بنانے لگے۔ ایسا چین اور روس کبھی بھی نہیں چاہیں گے پھر اس موقع پر چین کے صدر نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ امریکا تائیوان کے حوالے سے اپنی ٹانگ نہ اڑائے تائیوان اس کا حصہ ہے جسے وہ ہرصورت حاصل کرکے رہے گا اس سے ٹرمپ ضرور تلملایا ہو گا اگر ایسا نہیں ہوتا تو چینی حکام کے دئیے ہوئے تحفے کوڑا دان میں نہ پھینکتے ۔
چلئے یہ بھی مان لیا کہ چین نے مدد نہ کرنے کی بھی بات کر دی ہو گی تو یہ پتھر پر لکیر نہیں۔ چین کا ایران کے ساتھ کاروباری گہرا تعلق ہے لہذا وہ ٹرمپ کی ایسی کسی خواہش کا احترام نہیں کر سکتا اس طرح تو چین کی سُپر میسی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
بہرحال امریکا کو یہ چیز اندر سے کھائے جا رہی ہے کہ اس نے جنگ میں ایران کو شکست کیوں نہیں دی اسے خاصا نقصان بھی پہنچایا اس کے باوجود بھی وہ کھڑا ہے لہذا امریکا کو مان لینا چاہیے کہ وہ سپر پاور نہیں رہا چین سپر پاور ہے اسے اپنے دورہ چین کے دوران اس امر کا احساس بھی ہو گیا ہو گا لہذا اس خطے کا کوئی بھی ملک نہیں چاہے گا کہ وہ یہاں آکر نمبرداری کرے اب تک اس نے جو کیا سو کیا ‘ آئندہ سپر پاور چین کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ اس خطے کا امن و سکون برباد کرے۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد یہ جو بھارت کی فوج کے سربراہ نے پاکستان کو مارنے مکونے کی دھمکی دی ہے تو ہمیں اس پر ہنسی آتی ہے ۔
بھارت کو یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ جب بھی حملہ آور ہو گا اسے معرکہ حق کی طرح شکست فاش سے دو چار ہونا پڑے گا کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اسے مٹانے کی خواہش دل ہی دل میں رہے گی اس نے جنگی جنون میں کوئی حرکت کر ڈالی تو اسے دن میں تارے نظر آئیں گے۔ اسے علم ہونا چاہیے کہ ہم آپس میں دست و گریباں بھی ہوں مگر کوئی دشمن ہم پر حملہ کرتا ہے تو وہ ہمیں سیسہ پلائی دیوار پائے گا لہذا بھارت کسی بھلیکے میں نہ رہے ۔ اسے اپنے لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں اس نے اب تک اسلحہ بنانے اورخریدنے کو ترجیح دی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت میں سیاسی منظر تبدیل ہو رہا ہے حال ہی میں تامل میں جو انتخابات ہوئے ہیں اور ایک ایسا شخص جس نے دو برس پہلے پارٹی بنائی وہ ایک سو آٹھ نشستیں لے کر کامیاب ہو گیا اور تامل کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ بجائے اس کے کہ بھارت اپنے ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ ماحول میں رہنے کی کوشش کرے۔ ان کی حثیت کو تسلیم کرےمگر وہ علاقائی تھانیدار بن کر رہنا چاہتا ہے جبکہ علاقائی بھی اور عالمی بھی سپر پاور چین ہے لہذا اس کی دال کسی بھی صورت نہیں گل سکتی اس لئے یہ دھمکیاں کسی اور کو دے۔ہم سے بھول کر بھی نہ ٹکرانا۔
امن زندگی ہے اور ترقی کا راز بھی اسی میں ہے۔ توسیع پسندی سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ۔ اسی طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے عوام کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچائیں غاصبانہ طرز عمل کو ترک کرتے ہوئے یہ نعرہ لگائیں کہ آو مل کر انسانیت کے لئے کام کریں مگر وہ انسانوں کو ختم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں جبکہ ان کے عوام کی غالب اکثریت اس عمل کے خلاف ہے مگر ٹرمپ کو ان کی کوئی پروا نہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہر ملک اس کی مرضی کے مطابق چلے جو نا ممکن ہے کیونکہ غلامانہ سوچ حکمرانوں کے اندر تو ہو سکتی ہے لوگوں میں نہیں۔ یہ شعوری دور ہے معلومات کا زمانہ ہے لہذا جاگتے ذہنوں کو قید نہیں آزاد فضا چاہیے جس میں وہ کھل کر سانس لے سکیں مگرڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو نہیں مانتے وہ ہر کمزوملک پر اپنا حکم چلانا چاہتے ہیں جو ان کے حکم کو نہیں مانتا اس پر چڑھائی کر دیتے ہیں۔ ایران سے اور کیا شکایت ہے لہذا وہ اس کو برباد کرکے اپنی مرضی کی حکومت دیکھنے کے لئےبے چین ہو رہے ہیں مگر ہنوز دلی دور است کہ اب آرڈر چین کا چلے گا مگر اس طرح نہیں جس طرح امریکا جاری کرتا ہے ۔چین کسی ملک کو پسماندہ نہیں دیکھنا چاہتا روس کا بھی یہ کہنا ہے وہ ہر ملک کو بنیادی ٹیکنالوجی دے کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا خواہاں ہے اس کے برعکس امریکا کبھی بھی ایسی کوئی ٹیکنالوجی نہیں دیتا کہ جس سے کوئی ملک آگے بڑھ سکے۔
اب چونکہ دنیا امریکی رویے اور چالاکیوں کو سمجھ گئی ہے لہذا وہ اس کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں اس کا ثبوت ایران کے ساتھ پنگا لینے پر یورپی ممالک سمیت کینیڈا اور چند خلیجی ملکوں کا اس کی ہاں میں ہاں ملاناچھوڑ دینا ہے کیونکہ وہ جان گئے ہیں کہ امریکا امن کے قیام کے لئے اقدامات نہیں کر رہا بلکہ وہ دنیا کا تباہ کر رہا ہے اس کے جنگی جنون نے ہر ملک کو معاشی طور سے زبردست نقصان پہنچایا ہے جبکہ اس وقت کمزور ملکوں کی معیشت کو مضبوط ہونا چاہیے کیونکہ غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوان طبقہ مایوس ہو کر جرائم کی دنیا کا رخ کر رہا ہے۔
در اصل امریکا اب سپر پاور نہیں رہا لہذا نفسیاتی طور سے وہ دنیا کو گیدڑ بھبکیوں اور بے بس کمزور ملکوں کو ڈرانے لگا ہے سپر پاور کو بھی دھمکی دے ڈالتا ہے تاکہ دنیا کہے کہ وہی سپر پاور ہے مگر حقیقت میں سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے اسی لئے وہ جنگ کا میدان گرم کر رہا ہے جس میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہو گی ۔



