وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کاروباری افراد کی جانب سے پیش کی جانے والی بجٹ تجاویز کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے کیلئے اصلاحات جاری ہیں۔
بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور کرنا حکومت کی ترجیح ہے کیونکہ ملک کی ترقی میں اس طبقے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بجٹ کو زیادہ سے زیادہ بزنس فرینڈلی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری خسارے میں کمی کیلئے نجکاری کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے جبکہ معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ناگزیر ہے، جس کیلئے برآمدات کو فروغ دینا ضروری ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ عالمی حالات، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑے ہیں، تاہم حکومت نے عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےصدر آر سی سی آئی عثمان شوکت اور گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کاروباری سہولیات میں اضافے اور ٹیکسوں میں کمی کی ضرورت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur.