صحتاہم خبریں

کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا بحران شدت اختیار کر گیا، امریکی شہری بھی وائرس سے متاثر، امریکہ نے ہنگامی پابندیاں نافذ کر دیں

سی ڈی سی نے تصدیق کی ہے کہ کانگو میں خدمات انجام دینے والے ایک امریکی شہری میں ایبولا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

کنشاسا / واشنگٹن: افریقی ممالک جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں پھیلنے والی خطرناک ایبولا وبا نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے وائرس سے متاثرہ علاقوں سے داخلے کو محدود کرنے کے لیے ہنگامی صحت عامہ کے قوانین نافذ کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی اداروں کے مطابق موجودہ وبا میں اب تک 130 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس صورتحال کو “بین الاقوامی تشویش کی صحت عامہ ایمرجنسی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

امریکی شہری میں ایبولا کی تصدیق

سی ڈی سی نے تصدیق کی ہے کہ کانگو میں خدمات انجام دینے والے ایک امریکی شہری میں ایبولا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

بین الاقوامی عیسائی امدادی تنظیم سرج کے مطابق متاثرہ شخص طبی مشنری ڈاکٹر پیٹر اسٹافورڈ ہیں، جنہوں نے وائرس سے مطابقت رکھنے والی علامات ظاہر ہونے کے بعد ٹیسٹ کروایا، جو مثبت آیا۔

تنظیم کے مطابق ڈاکٹر پیٹر اسٹافورڈ اس وقت کانگو کے شہر بونیا میں خدمات انجام دے رہے تھے جہاں ایبولا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔

ادھر ان کی اہلیہ ربیکا اسٹافورڈ اور ایک اور ڈاکٹر، جو متاثرہ مریضوں کے علاج میں شامل تھے، فی الحال علامات سے محفوظ ہیں تاہم انہیں مسلسل نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ جوڑے کے چار بچوں کی طبی نگرانی بھی جاری ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا ہائی الرٹ

عالمی ادارۂ صحت نے اتوار کو وبا کو “پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آف انٹرنیشنل کنسرن” قرار دیا۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگرچہ صورتحال ابھی عالمی وبا کے معیار تک نہیں پہنچی، تاہم متاثرہ علاقوں میں مثبت کیسز کی بلند شرح، تیزی سے بڑھتی ہوئی اموات اور صحت کے محدود وسائل اس بحران کو مزید خطرناک بنا سکتے ہیں۔

کانگو کے وزیر صحت سیموئل راجر کمبا کے مطابق منگل تک اس وبا سے 131 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں جبکہ 513 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

افریقہ سی ڈی سی نے ایمرجنسی نافذ کر دی

افریقہ سی ڈی سی نے بھی وبا کو “پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آف کانٹی نینٹل سیکیورٹی” قرار دے دیا ہے تاکہ پورے براعظم میں مربوط طبی اور ہنگامی ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق مشرقی کانگو میں برسوں سے جاری جنگ، بدامنی اور امدادی فنڈز میں کمی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

بین الاقوامی امدادی ادارے آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل جھڑپوں اور نقل مکانی کے باعث نگرانی کے اہم نظام متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے وبا کا بروقت پتہ نہیں چل سکا۔

امریکہ نے “ٹائٹل 42” نافذ کر دیا

امریکہ نے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک بار پھر متنازع صحت عامہ قانون “ٹائٹل 42” نافذ کر دیا ہے۔

یہ قانون متعدی بیماریوں کے دوران امریکہ میں داخلے پر پابندی یا سخت کنٹرول کی اجازت دیتا ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق یہ پابندی کم از کم 30 دن کے لیے نافذ کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ “ٹائٹل 42” اس سے قبل کووڈ-19 وبا کے دوران مارچ 2020 سے مئی 2023 تک استعمال کیا گیا تھا۔ ایبولا کے معاملے میں یہ دوسری مرتبہ فعال کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے امریکہ آنے والے افراد کی سخت اسکریننگ، سفری پابندیوں اور طبی نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔

انسانی حقوق پر تشویش

امریکہ کی متعدی امراض کی سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر جین مارازو نے خبردار کیا کہ سفری پابندیاں وائرس کے پھیلاؤ کو کم کر سکتی ہیں، لیکن انہیں انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق نافذ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ “وائرس پاسپورٹ نہیں دیکھتے”، اس لیے صرف غیر امریکی شہریوں پر پابندیاں مسئلے کا مکمل حل نہیں۔

جرمنی منتقلی کی تیاری

امریکی حکام نے بتایا کہ کانگو سے سات افراد کو طبی نگرانی کے لیے جرمنی منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جن میں متاثرہ امریکی ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

جرمن وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ مریض کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

یوگنڈا میں بھی کیسز رپورٹ

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایبولا کی وبا اب یوگنڈا تک بھی پہنچ چکی ہے، جہاں دارالحکومت کمپالا میں دو تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں ایک مریض ہلاک ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ وبا ایبولا وائرس کی “Bundibugyo” قسم سے پھیل رہی ہے، جو نسبتاً کم عام مگر انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہے۔

ماہرین کی تشویش

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ علاقوں میں فوری طبی امداد، نگرانی، ویکسینیشن اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط نہ کیا گیا تو وبا سرحدوں سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔

عالمی ادارے اس وقت کانگو اور یوگنڈا میں قرنطینہ مراکز، موبائل لیبارٹریز، طبی ٹیموں اور حفاظتی سامان کی فراہمی پر کام کر رہے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button