کے الیکٹرک کا بجلی چوری کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، سائٹ صنعتی ایریا کے فیڈرز اپ گریڈ کرنے اور انفراسٹرکچر بہتر بنانے کا اعلان
اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی کنکشنز کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کراچی: کے الیکٹرک نے سائٹ صنعتی ایریا میں بجلی چوری، غیر قانونی کنڈوں اور تکنیکی خرابیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے صنعتی صارفین کو بجلی کی بہتر اور مستحکم فراہمی یقینی بنانے کے لیے فیڈرز اپ گریڈ کرنے اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی بہتری کا عندیہ دیا ہے۔
یہ اعلان کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طحہٰ نے سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے دورے کے موقع پر صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کے الیکٹرک کے سینئر افسران کے علاوہ صنعتوں سے وابستہ اہم شخصیات، سابق عہدیداران اور مختلف صنعتی شعبوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
صنعتی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ مشاورت
اجلاس میں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے سرپرست سلیم پاریکھ، قائم مقام صدر احمد ذوالفقار چوہدری، سابق صدر جاوید بلوانی، سابق سینئر نائب صدر خالد ریاض، چیئرمین انرجی سب کمیٹی محمد کامران عربی، اپٹپما کے زونل چیئرمین انور عزیز، نائب صدر محمد طاہر گوریجا اور دیگر صنعتکاروں نے شرکت کی۔

شرکاء نے صنعتی آپریشنز، بجلی کی فراہمی، تکنیکی خرابیوں، انفراسٹرکچر کی کمزوری، کراس سبسڈی، یوٹیلیٹی کوآرڈینیشن اور فالٹ مینجمنٹ سے متعلق مسائل پر تفصیلی گفتگو کی اور مطالبہ کیا کہ صنعتی علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
بجلی چوری اور غیر قانونی کنڈوں کے خلاف سخت کارروائی
سی ای او سید محمد طحہٰ نے کہا کہ کے الیکٹرک صنعتی علاقوں میں بجلی چوری اور غیر قانونی کنڈوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجلی چوری نہ صرف ادارے کے مالی نقصانات کا سبب بنتی ہے بلکہ اس سے پورے نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور قانونی صارفین متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی کنکشنز کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے اور بجلی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ، اسمارٹ ٹیکنالوجی، آؤٹیج مینجمنٹ سسٹم اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی مرحلہ وار اپ گریڈیشن پر کام جاری ہے۔
11 کے وی اے لائنز کو 33 کے وی اے میں تبدیل کرنے کا اعلان
سید محمد طحہٰ نے صنعتکاروں کو یقین دہانی کرائی کہ صنعتی علاقوں میں بجلی کے بوسیدہ انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 11 کے وی اے ٹرانسمیشن لائنز کو مرحلہ وار 33 کے وی اے لائنز سے تبدیل کیا جائے گا تاکہ بجلی کی ترسیل مزید مستحکم اور قابلِ اعتماد بنائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اہم صنعتی فیڈرز اور پی ایم ٹی زونز کی اپ گریڈیشن سے وولٹیج کے مسائل، تکنیکی فالٹس اور بجلی کی بندش میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ ہنگامی صورتحال میں رسپانس ٹائم کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔
سی ای او نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بعض صنعتی علاقوں میں مختلف اداروں کی مشترکہ حدود ہونے کی وجہ سے تکنیکی خرابیوں کے حل میں تاخیر ہوتی ہے کیونکہ بعض اوقات مرمتی کام کے لیے مختلف اداروں سے اجازت درکار ہوتی ہے۔
ایم وائی ٹی اور آئی ایس پی اے چارجز سے متعلق پیش رفت
کے الیکٹرک کے سربراہ نے بتایا کہ ملٹی ایئر ٹیرف (MYT) سے متعلق معاملات رواں سال ستمبر تک حل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد بجلی کی قیمتوں اور سرمایہ کاری سے متعلق کئی اہم امور میں پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایس پی اے چارجز کا معاملہ بھی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے تاکہ صنعتوں کو درپیش مالی اور تکنیکی مسائل کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔
سائٹ صنعتی ایریا ملکی برآمدات کا اہم مرکز
اس موقع پر قائم مقام صدر احمد ذوالفقار چوہدری نے کے الیکٹرک کے سی ای او کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 4700 ایکڑ پر محیط سائٹ صنعتی ایریا پاکستان کی صنعتی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور سالانہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سید محمد طحہٰ نے ماضی میں پاکستان اسٹیٹ آئل میں بطور سی ای او نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور امید ہے کہ ان کی قیادت میں صنعتوں اور کے الیکٹرک کے درمیان روابط مزید بہتر ہوں گے۔
صنعتکاروں کی شکایات اور مطالبات
سائٹ ایسوسی ایشن کے سرپرست سلیم پاریکھ نے صنعتی شکایات کے فوری ازالے، جدید فالٹ ڈی ٹیکشن سسٹم اور مؤثر آپریشنل رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو مسلسل تکنیکی مسائل اور غیر اعلانیہ بندشوں کا سامنا رہتا ہے، جس سے پیداواری عمل متاثر ہوتا ہے۔
سابق صدر جاوید بلوانی نے بار بار آنے والے تکنیکی فالٹس، کراس سبسڈی کے اثرات اور عالمی منڈی میں صنعتی مسابقت کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگی بجلی اور غیر مستحکم فراہمی پاکستانی صنعتوں کی برآمدی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے۔

چیئرمین انرجی سب کمیٹی محمد کامران عربی نے کے الیکٹرک اور سائٹ ایسوسی ایشن کے درمیان بہتر رابطوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تکنیکی خرابیوں کے فوری حل اور رابطہ نظام کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اپٹپما کے زونل چیئرمین انور عزیز نے “انکریمنٹل یوز بینیفٹ” سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صنعتی شعبے کے لیے توانائی پالیسی کو زیادہ مؤثر اور کاروبار دوست بنایا جائے۔
صنعتوں کے لیے مثبت اشارہ
تجزیہ کاروں کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے صنعتی فیڈرز کی اپ گریڈیشن، بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے اعلانات کراچی کی صنعتوں کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان اقدامات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو اس سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔



