پنجاب اسمبلی اور اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کو تاریخی پیش رفت قرار
ایک ترقی یافتہ، متوازن اور ذمہ دار معاشرے کے قیام کے لیے خواتین، بچوں اور نوجوانوں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان سے اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کی نمائندہ ڈاکٹر گلنارا کادیئرکولووا نے وفد کے ہمراہ سپیکر ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں خواتین اور بچوں کے حقوق، آبادی میں توازن، صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور پائیدار ترقیاتی اہداف سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں چودھری عامر حبیب، سپیکر کے مشیر اور پارلیمنٹری ڈویلپمنٹ یونٹ کے سربراہ اسامہ خاور گھمن سمیت UNFPA کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں پنجاب اسمبلی اور اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کے درمیان جاری تعاون کو مزید مؤثر اور وسیع بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کو تاریخی اقدام قرار
وفد نے پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کو ایک تاریخی اور انقلابی قانون قرار دیتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔
اس قانون کے تحت لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، جسے بچوں کے حقوق کے تحفظ، کم عمری کی شادیوں کے خاتمے، خواتین کی فلاح اور سماجی انصاف کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران قانون پر مؤثر عملدرآمد کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے۔
خواتین اور بچوں کی فلاح پر خصوصی توجہ
اجلاس میں خواتین کی صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور بااختیار بنانے سے متعلق متعدد امور زیر بحث آئے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خواتین اور بچوں کی ترقی کسی بھی معاشرے کی مجموعی ترقی کا بنیادی جزو ہے اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ، متوازن اور ذمہ دار معاشرے کے قیام کے لیے خواتین، بچوں اور نوجوانوں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی عوامی فلاح، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر اور مضبوط بنائے گی۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے، صحت اور ترقی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی سازی، ادارہ جاتی اشتراک اور پارلیمانی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ری پروڈکٹیو ہیلتھ اور آبادی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال
ملاقات میں ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل، آبادی میں توازن، خاندانی منصوبہ بندی اور صحتِ عامہ سے متعلق پالیسیوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ آبادی اور وسائل کے درمیان توازن قائم کیے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ممکن نہیں۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خواتین کو صحت، تعلیم اور معاشی مواقع تک بہتر رسائی فراہم کرنا معاشرتی استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ اور پنجاب اسمبلی کے درمیان اشتراک کو مزید فعال بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت تعاون بڑھانے پر اتفاق
اجلاس میں اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ اور پنجاب اسمبلی کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا اور اس شراکت داری کو مزید مؤثر اور وسیع بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے خواتین کی صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور بااختیار بنانے کے شعبوں میں مزید مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی ایسے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی جو عوامی فلاح اور سماجی بہتری کے لیے مفید ہوں۔
ویمن کاکس اور چائلڈ رائٹس کاکس کی تعریف
UNFPA کی نمائندہ ڈاکٹر گلنارا کادیئرکولووا نے پنجاب اسمبلی کی اصلاحاتی قانون سازی، ویمن کاکس اور چائلڈ رائٹس کاکس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 صنفی مساوات، خواتین کے حقوق اور بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ پاکستان میں خواتین اور بچوں کی فلاح، صحتِ عامہ، آبادی سے متعلق آگاہی اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں پنجاب اسمبلی کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔
سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کی جانب اہم پیش رفت
سیاسی اور سماجی ماہرین کے مطابق پنجاب اسمبلی کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام سے متعلق قانون سازی نہ صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس قانون پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو اس سے کم عمری کی شادیوں، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مسائل اور تعلیمی محرومی جیسے چیلنجز میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جبکہ یہ اقدام پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا۔



