حملے کے خدشات کی بنا پر ایران کے رہبرِ اعلیٰ سے براہِ راست رابطہ منقطع ہے: رپورٹ
آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی قیادت نے انتہائی حفاظتی اقدامات اختیار کیے ہیں
دبئی – ایجنسیاں
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای ایک نامعلوم مقام سے کام کر رہے ہیں جہاں تک بیرونی دنیا کی رسائی محدود ہے اور پیغام رسانی کے لیے کورئیر نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ ملک کی قیادت کو مزید ہدفی حملوں کا خدشہ ہے۔
اتوار کے روز رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کے اندر مواصلاتی مسائل ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور واشنگٹن سے مذاکرات کے لیے مجاز ایرانی حکام اپنے ہی نظام کے اندر مواصلت کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
امریکی حکام نے بتایا کہ جب تہران کو تجاویز بھیجی گئیں تو جواب موصول ہونے سے پہلے ہی خاطرخواہ تاخیر ہوئی کیونکہ پیغامات سب سے پہلے رابطہ کنندگان کے ذریعے سپریم لیڈر تک پہنچنے تھے۔
آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی قیادت نے انتہائی حفاظتی اقدامات اختیار کیے ہیں۔ اس آپریشن کے بارے میں انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ متعدد سینئر ایرانی شخصیات کو نشانہ بنانے اور قتل کرنے میں مدد ملی۔
اب زیادہ تر اعلیٰ عہدیداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھاری قلعہ بند مورچوں میں کئی ہفتے گذارتے ہیں اور براہِ راست رابطے سے گریز اور صرف محدود مواصلات کرتے ہیں جب تک ضروری نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اعلیٰ سطحی ایرانی حکام کو بھی رہبرِ اعلیٰ کا درست ٹھکانہ معلوم نہیں یا وہ ان سے براہِ راست رابطہ میں نہیں ہیں۔
پیغامات قابلِ اعتماد کوریئرز کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں جن کا استعمال خاص طور پر ان کے مقام کو مبہم رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے جبکہ مبینہ طور پر وہ صرف یہ وسیع رہنمائی فراہم کرتے ہیں کہ کن مسائل پر بات ہو سکتی ہے اور کن سے دور رہا جائے۔
خامنہ ای جنہوں نے اپنے مقتول والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ سنبھالی، جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی منظرِ عام سے دور ہو گئے تھے۔



