
تمام حجاج کی میدانِ عرفات روانگی مکمل ہوگئی:وزارتِ حج
مشعر میں جدید الیکٹرانک نظام بھی نصب کیا گیا ہے ،جو حجاج کی بھیڑ کی نگرانی اور نقل و حرکت کے انتظام میں مدد دیتا ہے۔
وزارتِ حج نے آج منگل کے روز اعلان کیا کہ تمام حجاج کرام کو حج کے سب سے بڑے رکن، یعنی وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق یہ مرحلہ صبح 10 بجے (مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق) مکمل ہوا۔
حجاج کرام کو میدانِ عرفات پہنچانے کے عمل کے دوران انتہائی منظم اور مؤثر منصوبہ بندی پر عمل کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مشاعرِ مقدسہ ٹرین کے ذریعے تقریباً ساڑھے تین لاکھ حجاج کو منتقل کیا گیا، جبکہ 24 ہزار سے زائد بسیں مخصوص راستوں اور جامع آپریشنل منصوبوں کے تحت مسلسل چلائی گئیں تاکہ آمد و رفت رواں رہے اور مختلف مشاعر کے درمیان سفر کا وقت کم سے کم ہو۔
یومِ عرفہ کے سورج غروب ہونے کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کے ساتھ ادا کریں گے، رات وہیں قیام کریں گے اور پھر مناسکِ حج کی تکمیل کے لیے منیٰ کی طرف روانہ ہوں گے۔
میدانِ عرفات میں مختلف سکیورٹی، صحت، بلدیاتی اور خدماتی اداروں کی بھرپور موجودگی دیکھی جا رہی ہے۔ اس دوران جبلِ رحمت اسپتال اور متعدد طبی مراکز کے ساتھ ساتھ مشعر کے مختلف حصوں میں قائم ایمرجنسی پوائنٹس کو فعال رکھا گیا ہے تاکہ چوبیس گھنٹے طبی امداد اور ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
مشعر میں جدید الیکٹرانک نظام بھی نصب کیا گیا ہے ،جو حجاج کی بھیڑ کی نگرانی اور نقل و حرکت کے انتظام میں مدد دیتا ہے۔

اس کے علاوہ آگاہی اور رہنمائی ٹیمیں بھی موجود ہیں، جبکہ خطبۂ عرفہ کا 35 زبانوں میں فوری ترجمہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
مزید یہ کہ اسمارٹ ایپلیکیشنز کے ذریعے حجاج کو اپنے مقامات، نقل و حرکت کے اوقات اور مشاعر کے درمیان آمد و رفت کی معلومات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
وزارتِ صحت کی ہدایت
سعودی وزارتِ صحت نے ضیوفِ رحمان کو ہدایت کی ہے کہ وہ یومِ عرفہ کے دوران دوپہر 4 بجے تک خیموں میں ہی رہیں اور براہِ راست دھوپ سے بچنے کے لیے باہر نہ نکلیں، تاکہ شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ حجاج بلندیوں پر چڑھنے سے گریز کریں اور مناسک کی ادائیگی کے دوران مناسب آرام ضرور کریں تاکہ جسمانی تھکن کم ہو اور عبادات صحت و سکون کے ساتھ مکمل کی جا سکیں۔
یومِ وقوفِ عظیم
نو ذوالحجہ کا دن، جسے ”یومِ وقوفِ عظیم” کہا جاتا ہے، حج کا سب سے اہم دن ہے۔ اس دن حجاج کرام میدانِ عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کے ساتھ ادا کرتے ہیں، اس کے بعد وہ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں جہاں رات قیام کیا جاتا ہے اور پھر منیٰ جا کر مناسکِ حج کی تکمیل کرتے ہیں۔

مشعرِ عرفات کا رقبہ تقریباً 33 مربع کلومیٹر ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی تمام تر انتظامی، آپریشنل اور لاجسٹک صلاحیتیں بروئے کار لا کر لاکھوں حجاج کی میزبانی کر رہا ہے اور انہیں اعلیٰ معیار کی سکیورٹی، صحت اور خدمات فراہم کر رہا ہے۔
جبلِ رحمت، عرفات کی اہم علامت
میدانِ عرفات کے اطراف متعدد پہاڑ واقع ہیں، جن میں سب سے نمایاں جبلِ رحمت ہے جو مشعر کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ یہ حج کی تاریخی اور مشہور نشانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ سیاہ رنگ کی ایک پتھریلی ٹیلہ نما ساخت ہے جس کی لمبائی تقریباً 300 میٹر ہے، جبکہ یہ اردگرد کی سطح زمین سے تقریباً 65 میٹر بلند ہے۔
اس کے اوپر 7 میٹر بلند ایک علامتی ستون بھی موجود ہے۔اس پہاڑ کو تاریخ میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے، جن میں جبلِ رحمت، جبلِ دعا اور جبلِ توبہ شامل ہیں۔
ہر سال یومِ عرفہ کے موقع پر بڑی تعداد میں حجاج اس کے اطراف جمع ہوتے ہیں اور عبادات و دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں۔




