پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

دو ماہ کی بہتری کے بعد دہشت گردی میں پھر اضافہ، مئی میں 128 حملے ریکارڈ، چھ خودکش دھماکے: پی آئی سی ایس ایس رپورٹ

دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں بلکہ سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں دونوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر بھی عمل پیرا ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی تازہ ماہانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق دو ماہ تک نسبتاً بہتری کے بعد مئی 2026 میں ملک کی سکیورٹی صورتحال ایک مرتبہ پھر تشویش ناک حد تک خراب ہو گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کے باعث دہشت گرد حملوں، خودکش دھماکوں اور جانی نقصانات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پی آئی سی ایس ایس کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 128 حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اپریل میں ان حملوں کی تعداد 101 تھی۔ اس طرح صرف ایک ماہ کے دوران دہشت گرد حملوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق مارچ اور اپریل میں دہشت گردی کے واقعات میں نسبتاً کمی دیکھی گئی تھی، تاہم مئی میں یہ مثبت رجحان برقرار نہ رہ سکا اور شدت پسند گروہوں نے دوبارہ اپنی کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی۔

جانی نقصانات میں خطرناک اضافہ

رپورٹ کے مطابق دہشت گرد حملوں میں اضافے کے نتیجے میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مئی کے دوران دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 71 شہری، 68 سکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹیوں کے 6 ارکان جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 147 شہری، 35 سکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹیوں کے 3 ارکان زخمی ہوئے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اپریل کے مقابلے میں شہری ہلاکتوں میں 92 فیصد اضافہ ہوا۔ اپریل میں 37 شہری جاں بحق ہوئے تھے جبکہ مئی میں یہ تعداد بڑھ کر 71 تک پہنچ گئی۔ اسی طرح سکیورٹی فورسز کے شہداء کی تعداد 28 سے بڑھ کر 68 ہو گئی، جو 143 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں بلکہ سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں دونوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر بھی عمل پیرا ہیں۔

خودکش حملوں میں اچانک اضافہ

رپورٹ میں مئی کے دوران سب سے تشویش ناک رجحان خودکش حملوں میں نمایاں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر چھ خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں سے چار بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔

ان حملوں کے نتیجے میں 34 سکیورٹی اہلکار اور 9 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے برعکس مارچ اور اپریل کے مہینوں میں صرف ایک ایک خودکش حملہ رپورٹ ہوا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں نے دوبارہ خودکش کارروائیوں کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چھ خودکش حملوں میں سے تین خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ ان میں دو حملے سابق قبائلی اضلاع میں جبکہ ایک ضلع بنوں میں کیا گیا۔ پنجاب کے ضلع اٹک کے علاقے جنڈ میں بھی ایک خودکش حملے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ باقی خودکش حملے بلوچستان میں رونما ہوئے۔

بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ

پی آئی سی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق مئی 2026 کے دوران بلوچستان دہشت گردی اور شورش پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ رہا۔ صوبے میں جنگجوؤں کی جانب سے 71 حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ اپریل میں یہ تعداد صرف 34 تھی۔ اس طرح بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں 109 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں اغوا برائے تاوان اور جبری گمشدگی نما واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ مئی کے دوران ملک بھر میں اغوا ہونے والے 54 افراد میں سے 52 افراد صرف بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے، جو وہاں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش نہ صرف صوبائی امن و استحکام بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں بھی شدت پسند سرگرمیاں تیز

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ حملوں کی بڑی تعداد جنوبی اضلاع تک محدود رہی۔ جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اضلاع گزشتہ کئی ماہ سے شدت پسند عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں نے سکیورٹی چوکیوں، گشتی پارٹیوں اور مقامی امن کمیٹیوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا۔

سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیاں

دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں۔ پی آئی سی ایس ایس کے مطابق مئی کے دوران مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور مقابلوں میں 270 جنگجو ہلاک جبکہ 15 گرفتار کیے گئے۔

ہلاک ہونے والے جنگجوؤں میں:

  • 128 سابق فاٹا کے اضلاع میں
  • 62 خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں
  • 71 بلوچستان میں
  • 1 پنجاب میں

مارے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل کارروائیوں نے دہشت گرد گروہوں کو نقصان ضرور پہنچایا، تاہم ان تنظیموں کی جانب سے حملوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

2026 کے پہلے پانچ ماہ کی مجموعی تصویر

پی آئی سی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ مجموعی طور پر سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک ثابت ہوئے۔

جنوری سے مئی 2026 کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 1,904 افراد ہلاک ہوئے جن میں:

  • 1,258 جنگجو
  • 352 شہری
  • 281 سکیورٹی اہلکار
  • 13 دیگر افراد

شامل ہیں۔

اسی عرصے کے دوران 1,003 افراد زخمی ہوئے جن میں:

  • 629 شہری
  • 231 سکیورٹی اہلکار
  • 133 جنگجو
  • 10 امن کمیٹیوں کے ارکان

شامل تھے۔

بڑھتا ہوا خطرہ اور پالیسی چیلنج

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی 2026 کے اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کو دہشت گردی کے ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے کا سامنا ہے۔ خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، خودکش حملوں میں اضافہ اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی قومی سلامتی کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دہشت گردی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف انٹیلی جنس اور عسکری کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا بلکہ سرحدی نگرانی، مقامی سطح پر امن کمیٹیوں کی مضبوطی، انسداد انتہا پسندی پروگراموں اور سماجی و معاشی ترقی کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ شدت پسندی کے بنیادی اسباب کا تدارک کیا جا سکے۔

پی آئی سی ایس ایس کی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں ملک کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button