پاکستاناہم خبریں

پاکستان:مظفرآباد میں آل پارٹیز کانفرنس، جمہوری تسلسل، آئینی عمل اور مسئلہ کشمیر پر متفقہ قرارداد منظور

ریاست کی بڑی سیاسی قوتیں جمہوری تسلسل، آئینی عمل اور مسئلہ کشمیر کے بنیادی مؤقف پر مشترکہ سوچ رکھتی ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، جمہوری عمل، آئینی تسلسل، مسئلہ کشمیر اور آنے والے عام انتخابات کے حوالے سے اہم متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے جمہوری اداروں کے استحکام، قانون کی بالادستی اور ریاستی استحکام کے حق میں واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت ایوان وزیر اعظم میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی، جہاں ریاست کو درپیش سیاسی، آئینی اور عوامی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اہم سیاسی قیادت کی شرکت

آل پارٹیز کانفرنس میں ریاست کی نمایاں سیاسی شخصیات اور جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ کے شاہ غلام قادر، پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری یاسین، مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان، سابق وزیراعظم سردار فاروق حیدر خان، سابق صدر سردار یعقوب خان، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان، احمد رضا قادری، مولانا سعید یوسف، یاسر عباس نقوی اور ڈاکٹر الیاس سمیت مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے۔

اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو بھی باضابطہ دعوت دی گئی تھی، تاہم قرارداد کے متن کے مطابق انتظار کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی اجلاس میں شریک نہ ہوئی اور اس مشاورتی و جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنی۔

مسئلہ کشمیر پر غیر متزلزل مؤقف

آل پارٹیز کانفرنس نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیری عوام کی حقِ آزادی کے لیے جاری جدوجہد کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

اجلاس کے شرکاء نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کی شدید مذمت کی۔

بھارتی اقدامات پر تشویش

قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیا گیا۔

شرکاء نے حریت قیادت اور کشمیری سیاسی کارکنان کی مسلسل غیر قانونی نظربندی اور قید کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جبر، استبداد اور مظالم کسی صورت قابل قبول نہیں اور عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔

جمہوری عمل اور آئینی تسلسل پر زور

آل پارٹیز کانفرنس نے آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری تسلسل اور آئینی عمل کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری اداروں کو مزید مضبوط، فعال اور مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم اس اختلاف کو ریاستی اداروں، نظم و نسق یا جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی، سماجی اور عوامی قوتیں برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کے کلچر کو فروغ دیں گی تاکہ خطے میں سیاسی استحکام اور پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو سراہا گیا

آل پارٹیز اجلاس نے قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں آزاد جموں و کشمیر کے ریاستی استحکام اور سلامتی کا اہم ستون قرار دیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ دشمن ملک بھارت سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر رہا ہے اور ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی تمام کوششوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اور ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

عام انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کا اعلان

اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے بھی اہم مؤقف اختیار کیا گیا۔

متفقہ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق اپنی مقررہ مدت میں ہی منعقد ہوں گے اور انہیں آزادانہ، منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پرامن بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ووٹرز کو بلا خوف و خطر، دباؤ یا کسی قسم کی مداخلت کے بغیر اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا۔

انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے خلاف انتباہ

آل پارٹیز کانفرنس نے واضح کیا کہ انتخابی عمل کو مؤخر کرنے، متنازع بنانے یا سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

قرارداد کے مطابق انتخابی عمل کو پٹڑی سے اتارنے یا جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدباب کیا جائے گا۔

اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رکھنا تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کسی بھی غیر آئینی یا غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

مہاجرین جموں و کشمیر کو خراج عقیدت

آل پارٹیز کانفرنس نے مہاجرین جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کشمیر اور تحریک تکمیل پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم اجلاس کے شرکاء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مہاجرین کی نمائندگی سے متعلق بعض انتخابی اور انتظامی پیچیدگیاں موجود ہیں جنہیں آئینی اور قانونی اصلاحات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کا پیغام

سیاسی مبصرین کے مطابق مظفرآباد میں منعقد ہونے والی یہ آل پارٹیز کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کی وسیع شرکت اور متفقہ قرارداد کی منظوری اس بات کا اظہار ہے کہ ریاست کی بڑی سیاسی قوتیں جمہوری تسلسل، آئینی عمل اور مسئلہ کشمیر کے بنیادی مؤقف پر مشترکہ سوچ رکھتی ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی استحکام، جمہوری روایات، آئینی بالادستی اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button