سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو دہشت گردی اور ریاست میں انتشار پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت کالعدم قرار دے دیا ہے۔
جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب سامنے آنے والے حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ ’آزاد جموں و کشمیر اینٹی ٹیررازم ایکٹ ‘2014 کے تحت کیا گیا ہے۔
ریاست کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 5 جون 2026 کو مظفرآباد سے جاری ہونے والے اس باضابطہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے پاس ایسے ٹھوس اور معقول شواہد موجود ہیں جن کی بناء پر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ (جسے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی یا عوامی ایکشن کمیٹی بھی کہا جاتا ہے) ، یہ گروپ پر دہشت گردی اور ایسے اقدامات میں شامل ہونے کا الزام ہے جو ریاست کے امن و امان اور سکیورٹی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
نوٹیفیکشن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’یہ گروپ عوام کو ڈرا دھمکا کر معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے اور انارکی پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔‘
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ’یہ گروپ بڑے پیمانے پر منافرت پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔‘
اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت کارروائی
’آزاد جموں و کشمیر اینٹی ٹیررازم ایکٹ 2014‘ کے سیکشن 12 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے صدرِ آزاد جموں و کشمیر نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو مذکورہ ایکٹ کے فرسٹ شیڈول میں شامل کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر ‘کالعدم تنظیم’ قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔
واضح رہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تین برس سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں عوامی حقوق سے جڑے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔
گزشتہ برس عوامی ایکشن کمیٹی کے ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز تصادم میں کئی افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے تھے۔

بعدازاں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مذاکراتی کمیٹی قائم کر کے مظفرآباد بھیجی تھی اور پھر عوامی ایکشن کمیٹی اور اسلام آباد کے درمیان مطالبات کی منظوری کے لیے ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
رواں برس عوامی ایکشن کمیٹی تسلسل کے ساتھ یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ حکومت نے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا جس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو تمام اضلاع سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب احتجاج اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنے کی کال دی تھی۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد کی ہائی پاور کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مظفرآباد میں کئی گھنٹوں پر محیط مذاکرات ہوئے لیکن وہ بے نتیجہ ثابت ہوئے اور عوامی ایکشن کمیٹی اپنی نو جون کی احتجاج کی کال پر قائم رہی۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس وقت نو جون کے احتجاج کے لیے کشمیر کے مختلف اضلاع میں رابطہ مہم چلا رہی ہے۔

اسی دوران جمعے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے خطے میں عام انتخابات کا شیڈول جاری کرتے ہوئے پولنگ کے لیے 27 جولائی 2026 کی تاریخ کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کسی بھی تنظیم کو پابندی کا سامنا ’آزاد جموں و کشمیر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014‘ کے تحت کرنا پڑتا ہے۔
اس قانون کی دفعہ 12 کے تحت حکومتِ وقت کو یہ قانونی اختیار حاصل ہے کہ اگر اس کے پاس کسی تنظیم کے دہشت گردی یا انتہا پسندی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد یا معقول وجوہات ہوں تو وہ اسے باضابطہ طور پر ‘کالعدم’ قرار دے سکتی ہے۔
قانون کے مطابق کسی بھی گروپ کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں شائع کرے۔

اس قانون کے تحت کالعدم قرار دیے جانے کے بعد مذکورہ تنظیم پر سخت قانونی اور انتظامی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔
ان پابندیوں کے نتیجے میں نہ صرف اس تنظیم کے تمام مالیاتی اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جاتے ہیں بلکہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز تک اس کی رسائی بھی روک دی جاتی ہے۔
مزید برآں ایسی تنظیم کی رکنیت اختیار کرنا، اس کے لیے کام کرنا یا کسی بھی طرح اس کی حمایت کرنا سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ پہلو قابل توجہ ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی احتجاج کے لیے قائم کیا گیا ایک پلیٹ فارم ہے جو کوئی رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے۔
اس پلیٹ فارم کی قیادت پورے خطے سے 30 کور کمیٹی ارکان کے پاس ہے۔



