پاکستاناہم خبریں

پاکستان اور بھارت کے سفیروں میں سخت جملوں کا تبادلہ، اقوام متحدہ کا اجلاس سفارتی معرکہ بن گیا

بھارتی سفیر نے مزید کہا،''اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمسائے ممالک کو ٹھہرانا پاکستان کی پرانی عادت ہے۔ دنیا کو دھوکا دینے کی یہ کوشش ناکام ہو گی۔‘‘

مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز

افغانستان کی صورت حال کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت میں ایک بار پھر لفظی جنگ دیکھنے میں آئی۔ دونوں نے ایک دوسرے پر دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام میں معاونت کے الزامات لگائے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی دہلی نے اسلام آباد کی طرف سے  مخصوص گروہوں کے لیے ”فتنۃ الہندوستان‘‘ کی اصطلاح استعمال کیے جانے پر سخت تنقید کی۔

اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے سفیر ہریش پروتھانینی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر کے سرکاری اداروں کو ہدایت دینا کہ وہ اپنے ہی ملک کے اندر موجود گروہوں کو ‘فتنہ الہندوستان’ قرار دیں، دراصل مذہبی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری سطح پر گمراہ کن معلومات اور غلط بیانی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں۔

بھارتی سفیر نے مزید کہا،”اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمسائے ممالک کو ٹھہرانا پاکستان کی پرانی عادت ہے۔ دنیا کو دھوکا دینے کی یہ کوشش ناکام ہو گی۔‘‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مختلف علاقائی اور سفارتی معاملات پر کشیدگی برقرار ہے، اور اقوام متحدہ کے فورمز پر ایک دوسرے کے خلاف الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے الزام عائد کیا کہ بھارت دہشت گردی کا ریاستی سرپرست ہے۔تصویر: Bianca Otero/ZUMA Press Wire/IMAGO

پاکستان کا جواب

پاکستان نے اپنے جواب میں کہا کہ اسلام آباد بھارت کی پالیسیوں اور مبینہ کردار سے بخوبی واقف ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو کسی قسم کی کوئی حیرت نہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نئی دہلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بھارت کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی پوسٹ کی ہے۔

عاصم افتخار احمد نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کا ریاستی سرپرست ہے۔ وہ نہ صرف بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بلکہ افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھی، بلکہ دیگر مقامات پر بھی دہشت گردی کی معاونت، پشت پناہی اور مالی مدد کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے بھارت کی پالیسی کا ایک ہی مقصد ہے، جسے انہوں نے ”پاکستان کو غیر مستحکم کرنا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے نئی دہلی پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد تنظیموں، بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے بی ایل اے کو ”فتنۃ الہندوستان‘‘ سے تعبیر کیا۔

اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے سفیر ہریش پروتھانینی
اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے سفیر ہریش پروتھانینی نے پاکستان کی جانب سے اپنے ہی ملک کے اندر موجود بعض گروہوں کو ‘فتنہ الہندوستان’ قرار دینے کی نکتہ چینی کیتصویر: ANI News/IMAGO

پاکستان نے طالبان اور کشمیر کے بارے میں کیا کہا؟

طالبان کے حوالے سے بھارت کے مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے بھارت کے بدلتے ہوئے رویّے کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو بھارت کی طالبان سے بڑھتی ہوئی قربت پر حیرت نہیں، کیونکہ یہ پالیسی تبدیلی پاکستان کی کامیاب انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

کشمیر پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت ”جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ‘‘ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے بھارت کو بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والا ملک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں سمیت اقلیتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے بھارتی میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں اختلافی بیانیے کے لیے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ ”خود احتسابی‘‘ سے کام لے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی کو بھی دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کرنے یا اس کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button