بین الاقوامیاہم خبریں

مالی میں فوجی اڈے پر بڑا دہشت گرد حملہ، کم از کم 10 فوجی ہلاک، القاعدہ سے وابستہ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین نے ذمہ داری قبول کرلی

مالی کی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی اور علاقے میں صورتحال کو دوبارہ قابو میں لے لیا گیا۔

بماکو: مغربی افریقی ملک مالی میں عسکریت پسندوں کے ایک بڑے حملے کے نتیجے میں کم از کم 10 فوجی ہلاک ہوگئے، جبکہ القاعدہ سے وابستہ مسلح گروپ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (JNIM) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سیکیورٹی اور مقامی ذرائع کے مطابق حملہ مالی کے وسطی علاقے سیگو ریجن میں واقع شہر سان کے قریب ایک فوجی کیمپ پر کیا گیا۔ حملے کے دوران شدید فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ عسکریت پسندوں نے کچھ وقت کے لیے فوجی کیمپ کے ایک حصے پر قبضہ بھی کرلیا۔

مالی کی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی اور علاقے میں صورتحال کو دوبارہ قابو میں لے لیا گیا۔

علی الصبح فوجی کیمپ پر حملہ

مقامی رہائشیوں کے مطابق حملہ اتوار کی صبح سویرے شروع ہوا۔ علاقے میں اچانک شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ایک مقامی شہری کے مطابق فائرنگ کافی دیر تک جاری رہی، جبکہ دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد علاقے میں صورتحال نسبتاً معمول پر آگئی۔

ایک سیکیورٹی اہلکار نے ابتدائی معلومات کی بنیاد پر بتایا کہ حملے میں تقریباً 10 فوجی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور ممکنہ زخمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

JNIM کا فوجی کیمپ پر قبضے کا دعویٰ

القاعدہ سے وابستہ گروپ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (JNIM) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے سیگو ریجن کے شہر سان میں مالی فوج کی بیرک پر حملہ کیا اور کچھ عرصے کے لیے اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔

گروپ کی جانب سے جاری بیان میں حملے کو مالی کی فوج کے خلاف کارروائی قرار دیا گیا۔

تاہم فوجی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو پسپا کردیا اور علاقے میں فوجی کنٹرول بحال کرلیا۔

مذکورہ دعووں کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔

مالی فوج کی جوابی کارروائی

مالی کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے حملہ آوروں کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کی۔

فوجی حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے حملے کے بعد علاقے میں آپریشن کیا اور عسکریت پسندوں کو فوجی تنصیب سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی کیے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ کسی ممکنہ حملہ آور یا سہولت کار کی موجودگی کا سراغ لگایا جاسکے۔

حکام کے مطابق حملے کے بعد فوجی تنصیبات اور اہم مقامات کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

مالی میں ایک دہائی سے جاری سیکیورٹی بحران

مالی گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے شدید سیکیورٹی بحران کا شکار ہے۔ 2012 کے بعد ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔

القاعدہ اور داعش سے وابستہ گروہوں کے علاوہ مقامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور مختلف مسلح گروہ بھی ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم رہے ہیں۔

دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں میں فوجی تنصیبات، سیکیورٹی فورسز کے قافلے، سرکاری ادارے اور بعض اوقات عام شہری بھی نشانہ بنتے رہے ہیں۔

مالی کے وسطی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال خاص طور پر پیچیدہ ہے، جہاں دہشت گرد گروہوں کے علاوہ مقامی مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیاں بھی ریاستی عمل داری کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

فوجی حکومت کے باوجود حملوں کا سلسلہ جاری

مالی میں 2020 اور 2021 کے دوران ہونے والی دو فوجی بغاوتوں کے بعد ملک میں فوجی حکومت قائم ہے۔

فوجی قیادت نے اقتدار سنبھالتے وقت ملک میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کیا تھا۔

تاہم حکومتی دعوؤں کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں عسکریت پسندوں کے حملے جاری ہیں اور متعدد علاقوں میں ریاستی اداروں کو مسلح گروہوں کی جانب سے مسلسل چیلنج کا سامنا ہے۔

حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی کی فوج کو ایک ہی وقت میں متعدد محاذوں پر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

JNIM خطے کا اہم عسکری گروپ

جماعت نصرت الاسلام والمسلمین خطے میں القاعدہ سے منسلک ایک اہم مسلح تنظیم سمجھی جاتی ہے۔

گروپ نے مالی سمیت مغربی افریقہ کے مختلف ممالک میں فوجی اور سیکیورٹی اہداف پر متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

JNIM کی سرگرمیوں کا مرکز بنیادی طور پر مالی اور اس کے آس پاس کے علاقے رہے ہیں، تاہم اس کے اثرات سرحد پار بھی دیکھے گئے ہیں۔

گروپ کی کارروائیوں نے مالی کے علاوہ برکینا فاسو، نائجر اور دیگر مغربی افریقی ممالک میں بھی علاقائی سیکیورٹی کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

طوارق علیحدگی پسندوں کی سرگرمیاں بھی جاری

مالی کی سیکیورٹی صورتحال صرف جہادی گروہوں تک محدود نہیں۔ ملک کے شمالی علاقوں میں طوارق علیحدگی پسند گروہوں کی سرگرمیاں بھی ایک اہم مسئلہ رہی ہیں۔

حالیہ عرصے میں ازواد لبریشن فرنٹ (FLA) اور JNIM کے درمیان بعض کارروائیوں میں تعاون یا اتحاد کی اطلاعات نے مالی حکومت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے۔

مسلح گروہوں کے درمیان بدلتے ہوئے اتحاد اور مختلف علاقوں میں مشترکہ کارروائیوں نے مالی فوج کے لیے ایک سے زیادہ محاذ پیدا کردیئے ہیں۔

اپریل کے آخر میں بڑے پیمانے پر کارروائی

رپورٹس کے مطابق اپریل کے آخر میں JNIM اور طوارق علیحدگی پسند گروپ ازواد لبریشن فرنٹ کے اتحاد نے مالی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کی تھیں۔

ان کارروائیوں کے دوران مالی کی فوج کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق لڑائی کے دوران مالی کے وزیر دفاع بھی ہلاک ہوئے، جبکہ شمالی علاقے کا اہم شہر کیدال باغیوں کے قبضے میں چلا گیا۔

کیدال طویل عرصے سے شمالی مالی میں سیاسی اور عسکری لحاظ سے اہم شہر سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے پر کسی مسلح گروہ کا کنٹرول مالی حکومت کے لیے ایک اہم سیکیورٹی چیلنج تصور کیا جاتا ہے۔

جولائی میں فوجی قافلے پر بڑا حملہ

حالیہ حملے سے قبل 18 جولائی کو بھی شمالی مالی میں JNIM اور FLA کے جنگجوؤں کی جانب سے مالی فوج کے ایک قافلے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس حملے میں کم از کم 50 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اگر ان اعداد و شمار کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ مالی فوج کے خلاف حالیہ مہینوں کے بڑے حملوں میں سے ایک شمار ہوگا۔

مسلسل حملوں نے مالی حکومت کے اس دعوے کو بھی چیلنج کیا ہے کہ فوجی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں سیکیورٹی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔

بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور علاقائی خطرات

مالی میں جاری شورش کا دائرہ ملک کی سرحدوں سے باہر بھی پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔

مغربی افریقہ کے ساحل کے خطے میں مالی، برکینا فاسو اور نائجر سمیت متعدد ممالک مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے متاثر ہیں۔

علاقائی سطح پر ریاستی اداروں کی کمزور موجودگی، وسیع جغرافیائی علاقے، غربت، بے روزگاری، مقامی تنازعات اور سرحدوں پر محدود نگرانی نے مسلح گروہوں کو اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں بعض علاقوں میں مقامی تنازعات اور حکومتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

فوجی حکومت کے لیے بڑھتا ہوا دباؤ

سان کے فوجی کیمپ پر تازہ حملہ مالی کی فوجی حکومت کے لیے ایک اور بڑا سیکیورٹی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

حکومت نے ملک میں سیکیورٹی بحال کرنے اور دہشت گرد گروہوں کو شکست دینے کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کیا تھا، لیکن مسلسل حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکریت پسند گروہوں کے نیٹ ورک اب بھی فعال ہیں۔

فوجی تنصیبات پر حملے خاص طور پر تشویش کا باعث ہیں کیونکہ ایسے حملے نہ صرف جانی نقصان کا سبب بنتے ہیں بلکہ فوجی اداروں کی سیکیورٹی اور ریاستی عمل داری کے بارے میں بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔

مزید کارروائیوں کا امکان

سان میں حملے کے بعد مالی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں مزید سرچ آپریشنز کیے جانے کا امکان ہے۔

حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حملہ آور کہاں سے آئے، انہیں مقامی سطح پر کس نوعیت کی مدد حاصل تھی اور حملے کے بعد وہ کس سمت فرار ہوئے۔

سیکیورٹی اداروں کے لیے یہ بھی اہم ہوگا کہ فوجی کیمپ پر حملے کے دوران عسکریت پسندوں نے کس نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے اور انہیں فوجی تنصیب کے قریب پہنچنے میں کس قسم کی سہولت حاصل ہوئی۔

نتیجہ

مالی کے وسطی علاقے سیگو میں سان کے قریب فوجی کیمپ پر ہونے والا تازہ حملہ ملک کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کی ایک اور مثال ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 10 فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ القاعدہ سے وابستہ JNIM نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوجی بیرک پر عارضی قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

مالی کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔

تاہم ملک میں جاری مسلح شورش، JNIM کی سرگرمیوں، طوارق علیحدگی پسند گروہوں کی کارروائیوں اور دیگر مسلح نیٹ ورکس کی موجودگی نے مالی کی فوجی حکومت کے لیے سیکیورٹی چیلنج مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں ہونے والے متعدد بڑے حملوں کے بعد یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ مالی کی فوجی حکومت ملک کے وسیع علاقوں میں ریاستی عمل داری اور دیرپا امن کس طرح بحال کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button