
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے قیام کے دو سال مکمل، 69 ارب روپے سے زائد ترقیاتی پروگرام، ملک بھر میں ایوی ایشن انفراسٹرکچر کی بڑی توسیع
گوادر ایئرپورٹ کی تکمیل کو بلوچستان اور بالخصوص گوادر کے فضائی رابطوں، علاقائی تجارت، کاروباری سرگرمیوں اور مستقبل کے معاشی امکانات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) نے اپنے قیام کے دو سال مکمل کرلیے ہیں۔ 9 اگست 2024 کو قائم ہونے والے ادارے کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران ملک کے ایوی ایشن نیٹ ورک میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جدید کاری، ڈیجیٹل تبدیلی، ایئرپورٹ آپریشنز اور فضائی تحفظ کے شعبوں میں متعدد اہم منصوبے مکمل اور کئی بڑے منصوبے زیرِ تعمیر یا منصوبہ بندی کے مراحل میں ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے 9 اگست 2026 کو جاری میڈیا فیکٹ شیٹ کے مطابق ادارہ اس وقت ملک کے 26 فعال ہوائی اڈوں کا انتظام و آپریشن سنبھال رہا ہے، جہاں سالانہ 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد مسافروں کو فضائی سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ادارے کے مطابق پاکستان اس وقت 37 بین الاقوامی اور 24 اندرونِ ملک مقامات سے فضائی رابطے میں ہے، جبکہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی سے 7 ہزار سے زائد ایوی ایشن پروفیشنلز وابستہ ہیں۔
پی اے اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال کو محض ادارہ جاتی تشکیل کا عرصہ نہیں بلکہ ملک کے فضائی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے سفر کا اہم مرحلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اہم سنگ میل
پاکستان کے ایوی ایشن انفراسٹرکچر میں گزشتہ دو برس کے دوران نمایاں اضافوں میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔
میڈیا فیکٹ شیٹ کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 55 ارب روپے لاگت آئی ہے اور ایئرپورٹ اب آپریشنل ہے۔
گوادر ایئرپورٹ کی تکمیل کو بلوچستان اور بالخصوص گوادر کے فضائی رابطوں، علاقائی تجارت، کاروباری سرگرمیوں اور مستقبل کے معاشی امکانات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے مرکزی رن وے کی تعمیر نو
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم کام مکمل کیا گیا ہے۔
مرکزی رن وے کی تعمیر نو پر تقریباً 10 ارب روپے لاگت آئی، جبکہ منصوبہ جنوری 2026 میں مکمل کیا گیا۔
رن وے کی تعمیر نو کو ایئرپورٹ کی آپریشنل صلاحیت، فضائی حفاظت اور بڑے طیاروں کی آمد و رفت کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مریدکے جنرل ایوی ایشن ایروڈروم کا پہلا مرحلہ مکمل
لیاقت علی خان جنرل ایوی ایشن ایروڈروم مریدکے میں ترقیاتی منصوبے کے پہلے مرحلے پر تقریباً 2.6 ارب روپے لاگت آئی۔
فیز ون کی تکمیل کے بعد جنرل ایوی ایشن کے بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملی ہے۔
مریدکے ایروڈروم کے دوسرے مرحلے کے لیے تقریباً 7 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے ذریعے اس سہولت کو مزید ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان، پاراچنار اور تربت ایئرپورٹس میں بحالی کا کام مکمل
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں علاقائی فضائی رابطوں کی بحالی کے لیے بھی متعدد منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان ایئرپورٹ کے ایئر سائیڈ انفراسٹرکچر کی بحالی پر تقریباً 11 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہوئے اور یہ کام مارچ 2026 میں مکمل کیا گیا۔
پاراچنار ایئرپورٹ کی بحالی پر تقریباً 28 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئی اور منصوبہ جون 2026 میں مکمل ہوا۔
اسی طرح تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن پر تقریباً 94 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ یہ کام مارچ 2026 میں مکمل ہوا۔
ان منصوبوں کا مقصد دور دراز اور حساس علاقوں میں فضائی رابطوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور ایئرپورٹس کو جدید آپریشنل تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔
لاہور ایئرپورٹ کی توسیع پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پی اے اے کے مستقبل کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
میڈیا فیکٹ شیٹ کے مطابق لاہور ایئرپورٹ کے ٹرمینل کی توسیع کے منصوبے پر تقریباً 43.043 ارب روپے لاگت آئے گی۔ منصوبہ جاری ہے اور اس کی تکمیل 2026 میں متوقع ہے۔
اس کے علاوہ لاہور ایئرپورٹ کے ایئر سائیڈ پےومنٹس کے لیے تقریباً 19.02 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کی تکمیل جنوری 2029 میں متوقع ہے۔
لاہور ایئرپورٹ کے حتمی توسیعی منصوبے کے لیے 125 سے 140 ارب روپے تک لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ منصوبے کی منظوری اور کام ایوارڈ ہونے کے بعد اس کی تکمیل کا متوقع دورانیہ تقریباً چار سال ہوگا۔
یہ منصوبے مستقبل میں لاہور ایئرپورٹ کی مسافر اور فضائی آپریشنل استعداد میں نمایاں اضافے کے لیے اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔
اسکردو ایئرپورٹ کے لیے 70 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام
گلگت بلتستان کے فضائی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے تقریباً 70 ارب روپے کا بڑا ترقیاتی پروگرام جاری ہے۔
پی اے اے کے مطابق منصوبے کی تکمیل تقریباً 2030 میں متوقع ہے۔
اس کے علاوہ اسکردو، گلگت اور چترال کے لیے جدید RNP-AR فلائٹ پروسیجرز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبے اس وقت فزیبلٹی کے مراحل میں ہیں۔
ماہرین کے مطابق جدید نیوی گیشن طریقہ کار دشوار جغرافیائی علاقوں میں پروازوں کی آپریشنل کارکردگی اور فضائی حفاظت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ پر کمرشل جیٹ آپریشنز کی بحالی
فاروق احمد خان لغاری انٹرنیشنل ایئرپورٹ ڈیرہ غازی خان میں ایئر سائیڈ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے تقریباً 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
منصوبے کا بنیادی مقصد کمرشل جیٹ آپریشنز کی بحالی کے لیے ضروری انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔
اس اقدام سے جنوبی پنجاب کے اہم علاقوں کے لیے فضائی رابطوں میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
پشاور ایئرپورٹ پر 14 ارب روپے کا ترقیاتی منصوبہ
باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور کے ایئر سائیڈ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے تقریباً 14 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔
منصوبے میں اہم ایئر سائیڈ ڈویلپمنٹ کے ساتھ نیا ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور بھی شامل ہے۔
نئے انفراسٹرکچر کا مقصد ایئرپورٹ کی آپریشنل صلاحیت اور فضائی ٹریفک مینجمنٹ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
کراچی میں کارگو ولیج کا منصوبہ
کراچی میں فضائی کارگو انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لیے کراچی کارگو ولیج کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
اس منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 10.09 ارب روپے ہے۔
کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز ہونے کے باعث فضائی کارگو کے حوالے سے اہم مقام رکھتا ہے، اس لیے کارگو انفراسٹرکچر میں توسیع سے ملکی تجارت اور لاجسٹکس کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر جنرل ایوی ایشن اور MRO سہولت
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جنرل ایوی ایشن اور مینٹیننس، ریپیئر اینڈ اوورہال (MRO) سہولت قائم کرنے کا منصوبہ بھی پی اے اے کے بڑے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
اس منصوبے پر تقریباً 10.72 ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے۔
منصوبے کا مقصد جنرل ایوی ایشن اور طیاروں کی دیکھ بھال، مرمت اور اوورہال کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
بنوں، دالبندین اور خضدار ایئرپورٹس کی بحالی
پی اے اے کے مطابق بنوں، دالبندین اور خضدار کے ایئرپورٹس پر بھی بحالی کے کام جاری ہیں۔
ان منصوبوں کو ملک کے کم ترقی یافتہ اور دور دراز علاقوں کے فضائی رابطوں کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیش رفت
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ایئرپورٹ آپریشنز میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی میں جدید ترین ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کیا گیا ہے، جس کے ذریعے پی اے اے کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور آپریشنل استعداد کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق جدید ڈیٹا سینٹر مستقبل کے ڈیجیٹل ایئرپورٹ آپریشنز، ڈیٹا مینجمنٹ اور اہم تکنیکی نظام کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گا۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پاکستان کا پہلا مکمل کیش لیس ایئرپورٹ
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو پاکستان کا پہلا مکمل کیش لیس ایئرپورٹ قرار دیا گیا ہے۔
اس اقدام کے ذریعے مسافروں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے اور ایئرپورٹ پر خدمات کے حصول کو مزید آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
پی اے اے کے مطابق کیش لیس نظام ایئرپورٹ سروسز میں شفافیت، سہولت اور جدید ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال کی جانب اہم قدم ہے۔
ایئر ٹریفک مینجمنٹ کی جدید کاری
فضائی حفاظت اور آپریشنل استعداد میں اضافے کے لیے ایئر ٹریفک مینجمنٹ کی جدید کاری کا منصوبہ بھی جاری ہے۔
اس منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 10 ارب روپے ہے اور اس کا ٹینڈر ہوچکا ہے۔
جدید ایئر ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز کے ذریعے فضائی ٹریفک کی نگرانی، پروازوں کی رہنمائی اور مجموعی آپریشنل صلاحیت میں بہتری لانے کا ہدف ہے۔
جدید سیکیورٹی اسکریننگ سسٹمز
ایئرپورٹس پر مسافروں اور سامان کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید سیکیورٹی اسکریننگ سسٹمز کی تنصیب کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
اس منصوبے کی لاگت تقریباً 30 ارب روپے ہے اور تکمیل دسمبر 2027 میں متوقع ہے۔
ای گیٹس اور خودکار بارڈر کنٹرول
پاکستان کے ایئرپورٹس پر مسافروں کی امیگریشن اور بارڈر کنٹرول کے عمل کو جدید بنانے کے لیے Automated Border Control / E-Gates کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
اس منصوبے پر تقریباً 12 ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے، جبکہ تکمیل جون 2027 میں متوقع ہے۔
ای گیٹس کے ذریعے مسافروں کی شناخت اور بارڈر کنٹرول کے عمل کو زیادہ تیز اور خودکار بنانے کا مقصد حاصل کیا جائے گا۔
فضائی حفاظت کے لیے برڈ ڈیٹیکشن سسٹم
لاہور ایئرپورٹ پر برڈ ڈیٹیکشن اینڈ ڈیٹرنس سسٹم بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
اس منصوبے پر تقریباً 66 کروڑ 78 لاکھ روپے لاگت کا تخمینہ ہے اور منصوبہ اس وقت تجرباتی مراحل اور کام کے مرحلے میں ہے۔
ایئرپورٹس کے اطراف پرندوں کی موجودگی طیاروں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پرندوں کی نشاندہی اور انہیں رن وے سے دور رکھنے کے نظام کو فضائی حفاظت کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔
موسم اور ہوا سے متعلق جدید نظام
لاہور ایئرپورٹ کے لیے Automated Weather Observing System کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے، جس کی تخمینی لاگت تقریباً 19 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے۔
اسی طرح اسلام آباد ایئرپورٹ پر Wind Shear Warning System کے لیے تقریباً 31 کروڑ 87 لاکھ 61 ہزار روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ان نظاموں کا مقصد موسم، ہوا کی رفتار اور ہوا میں اچانک تبدیلیوں سے متعلق بروقت معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ پائلٹس اور ایئر ٹریفک کنٹرول حکام بہتر فیصلہ سازی کرسکیں۔
کراچی ایئرپورٹ پر نیا ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے مستقبل کے انفراسٹرکچر میں نئے ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور اور ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ سروسز کی تعمیر بھی شامل ہے۔
اس منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 5 ارب روپے ہے، جبکہ تکمیل دسمبر 2028 میں متوقع ہے۔
اس کے علاوہ کراچی ایئرپورٹ کے ایریا کنٹرول سینٹر کی توسیع کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس پر تقریباً 2 ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے اور اس کی تکمیل بھی دسمبر 2028 میں متوقع ہے۔
نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹس کی منصوبہ بندی
ملک کے فضائی رابطوں کو مزید وسعت دینے کے لیے نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹس کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے نئے ایئرپورٹ کی تخمینی لاگت تقریباً 90 ارب روپے بتائی گئی ہے۔
اسی طرح سکھر اور فیصل آباد میں گرین فیلڈ ایئرپورٹس کے لیے تقریباً 100، 100 ارب روپے کی تخمینی لاگت بتائی گئی ہے۔
پی اے اے کے مطابق سکھر اور فیصل آباد کے منصوبے اس وقت کنسلٹنسی مرحلے میں ہیں، جبکہ ان کی ابتدائی تکمیل کا ہدف 2031 رکھا گیا ہے۔
اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو ملک کے مختلف صنعتی، تجارتی اور علاقائی مراکز کے فضائی رابطوں میں نمایاں توسیع ممکن ہوگی۔
ترقیاتی بجٹ میں بڑا اضافہ
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترقیاتی پروگرام میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
میڈیا فیکٹ شیٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 33 ارب روپے تھا، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے یہ بڑھا کر 69.47 ارب روپے کردیا گیا ہے۔
یعنی ایک سال کے دوران ترقیاتی پروگرام میں تقریباً 110 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پی اے اے کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں یہ نمایاں اضافہ ایئرپورٹس کی توسیع، مسافر سہولیات میں بہتری، فضائی حفاظت، آپریشنل استعداد اور مستقبل کے ایوی ایشن انفراسٹرکچر کی تعمیر کو تیز کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔
ایوی ایشن سیکٹر میں جدید دور کی بنیاد
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران ادارے کی توجہ صرف نئے منصوبوں کی تعمیر تک محدود نہیں رہی بلکہ موجودہ ایئرپورٹس کو جدید بنانے، ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے، سیکیورٹی بہتر بنانے، ایئر ٹریفک مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور علاقائی فضائی رابطوں کو بحال کرنے پر بھی مرکوز رہی ہے۔
ادارے کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کو مسافروں، ایئرلائنز، کارگو آپریٹرز اور عالمی فضائی صنعت کی ضروریات کے مطابق مزید جدید بنانے کے لیے سرمایہ کاری جاری رکھی جائے گی۔
دو سال، مگر سفر ابھی جاری ہے
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے قیام کے دو سال مکمل ہونے پر جاری میڈیا فیکٹ شیٹ میں ادارے نے گزشتہ دو سال کی کارکردگی کو "ترقی، تعمیر و تبدیلی” کے سفر سے تعبیر کیا ہے۔
26 فعال ایئرپورٹس، سالانہ 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد مسافروں کی سہولت، 37 بین الاقوامی اور 24 اندرونِ ملک فضائی رابطے، ہزاروں ایوی ایشن پروفیشنلز اور اربوں روپے کے جاری و مستقبل کے منصوبے پاکستان کے ایوی ایشن انفراسٹرکچر میں ایک بڑے ترقیاتی پروگرام کی عکاسی کرتے ہیں۔
نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل سے لے کر کراچی کے رن وے کی تعمیر نو، لاہور اور اسکردو کے بڑے توسیعی منصوبوں، پشاور اور کراچی کے نئے ایئر ٹریفک انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل تبدیلی، ای گیٹس اور جدید سیکیورٹی نظام تک متعدد منصوبے پاکستان کے فضائی نظام کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق دو سال اس سفر کی منزل نہیں بلکہ ایک اہم سنگِ میل ہیں۔ آئندہ برسوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے ملک کے ایئرپورٹس، فضائی رابطوں، سیکیورٹی، ڈیجیٹل سہولیات اور ایوی ایشن آپریشنز کو مزید جدید بنانے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
ادارے کا آئندہ چیلنج یہ ہوگا کہ منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کو بروقت تکمیل، مؤثر آپریشنز، مسافروں کے بہتر تجربے اور عالمی ایوی ایشن معیار کے مطابق قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جائے۔



