بین الاقوامیاہم خبریں

امریکہ ایران امن معاہدہ: تاریخی پیش رفت یا عارضی جنگ بندی؟ کامیابی کے راستے میں موجود بڑے چیلنجز،بین الاقوامی تجزیہ نگار

"اسرائیل کی رضامندی کے بغیر خطے میں مکمل استحکام کا حصول آسان نہیں ہوگا۔"اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن

19 جون کو متوقع دستخط، مگر کئی اہم سوالات ابھی باقی

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی، عسکری تصادم اور سفارتی تناؤ کے بعد ایک مجوزہ امن معاہدے کا اعلان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک نے فریم ورک معاہدے کی تصدیق کر دی ہے اور 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں باضابطہ دستخط کی تجویز بھی سامنے آ چکی ہے، تاہم سیاسی اور سفارتی حلقوں میں اس معاہدے کی کامیابی کے حوالے سے کئی سوالات اب بھی موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن اس کی مکمل کامیابی کا انحصار متعدد پیچیدہ اور حساس معاملات کے حل پر ہوگا، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، اسرائیل کے تحفظات اور علاقائی سلامتی کے مسائل شامل ہیں۔

ٹرمپ کا غیر متوقع سفارتی یوٹرن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور 19 جون کو اس پر دستخط کیے جائیں گے۔

یہ اعلان کئی مبصرین کے لیے حیران کن ثابت ہوا کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی ماہ سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے تھی۔ امریکی پالیسی میں فوجی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سخت بیانات کا تسلسل دیکھا جا رہا تھا، تاہم اچانک سفارتی راستہ اختیار کرنے اور امن معاہدے کی جانب پیش رفت نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے پہلے طاقت کے استعمال پر زور دیا اور بعد میں سفارت کاری کو ترجیح دی، جس کی وجہ سے بعض حلقے اس معاہدے کے طویل المدتی استحکام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

معاہدے میں کیا شامل ہے؟

تاحال معاہدے کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ابتدائی فریم ورک میں کئی اہم نکات شامل ہیں۔

ان میں:

  • فوری جنگ بندی کا نفاذ
  • آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل بحالی
  • علاقائی کشیدگی میں کمی
  • آئندہ 60 دنوں کے اندر جامع مذاکرات کا آغاز
  • ایران کے جوہری پروگرام پر نئی بات چیت
  • امریکی اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی
  • خطے میں سلامتی کے مشترکہ انتظامات

شامل بتائے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل امتحان دستخطی تقریب کے بعد شروع ہوگا، کیونکہ کئی اہم شقیں مستقبل کے مذاکرات سے مشروط ہیں۔

اسرائیل: معاہدے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ؟

معاہدے کے حوالے سے سب سے زیادہ توجہ اسرائیل کے کردار پر مرکوز ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کے سخت مخالف رہے ہیں۔ اسرائیل مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیتیں نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ موجودہ مذاکراتی عمل میں اسرائیل براہِ راست شریک نہیں رہا، جس کی وجہ سے کئی مبصرین خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اگر اسرائیل نے لبنان، شام یا دیگر علاقوں میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں تو امن معاہدے کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایک مغربی سفارت کار کے مطابق:

"اسرائیل کی رضامندی کے بغیر خطے میں مکمل استحکام کا حصول آسان نہیں ہوگا۔”

ایران کا جوہری پروگرام: اصل امتحان ابھی باقی

معاہدے کا سب سے پیچیدہ اور حساس پہلو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک طویل عرصے سے ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مجوزہ معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے اندر اس موضوع پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے، لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ یہی وہ مسئلہ ہے جو مستقبل میں کسی بھی وقت مذاکرات کو تعطل کا شکار کر سکتا ہے۔

پابندیوں میں نرمی کا معاملہ

اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا اختلافی نکتہ ہے۔

ایران مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اس پر عائد سخت امریکی پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے۔

دوسری جانب واشنگٹن پابندیوں میں نرمی کو ایران کے جوہری اور علاقائی رویے میں تبدیلی سے مشروط قرار دیتا رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر پابندیوں کے معاملے پر پیش رفت نہ ہو سکی تو معاہدے پر عمل درآمد مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بحالی سے عالمی معیشت کو ریلیف

عالمی سطح پر اس معاہدے کا سب سے فوری اثر توانائی کی منڈیوں پر متوقع ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

جنگ اور کشیدگی کے باعث:

  • خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
  • عالمی شپنگ متاثر ہوئی۔
  • توانائی کی فراہمی کے خدشات پیدا ہوئے۔
  • عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بے چینی دیکھی گئی۔

معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں اور عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ تیل کی رسد میں بہتری آئے گی۔

پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر پذیرائی

اس امن عمل میں پاکستان نے ایک فعال ثالث کا کردار ادا کیا۔

اسلام آباد نے امریکہ، ایران، قطر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی کاوشوں نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں مذاکرات کا راستہ ہموار ہوا۔

کیا 19 جون کو واقعی معاہدہ ہو جائے گا؟

سفارتی ذرائع کے مطابق فی الحال امریکہ اور ایران دونوں دستخطی تقریب کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں اور 19 جون کی تاریخ برقرار رکھی گئی ہے۔

تاہم بعض ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دستخط ہونا اور معاہدے کا کامیاب ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔

ان کے مطابق:

  • اسرائیلی تحفظات
  • جوہری پروگرام پر اختلافات
  • پابندیوں کا مسئلہ
  • علاقائی ملیشیا گروپوں کی سرگرمیاں
  • داخلی سیاسی دباؤ

ایسے عوامل ہیں جو مستقبل میں معاہدے کے نفاذ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

امن کی امید، لیکن احتیاط کے ساتھ

بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک مثبت اور تاریخی پیش رفت ضرور ہے، لیکن اسے حتمی کامیابی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

19 جون کو جنیوا میں متوقع دستخط ایک نئے سفارتی باب کا آغاز تو کر سکتے ہیں، مگر اس باب کی کامیابی کا انحصار آنے والے مہینوں میں ہونے والے مذاکرات، علاقائی طاقتوں کے رویے اور فریقین کے سیاسی عزم پر ہوگا۔

فی الحال دنیا کی نظریں جنیوا پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والی دستخطی تقریب نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا رخ متعین کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button