پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

کالعدم ایکشن کمیٹی کا مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے مترادف قرار

آزادجموں و کشمیرسپریم کورٹ کی مشاورتی رائے کے بعد ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی،

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کالعدم ایکشن کمیٹی کےمہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کےمطالبہ کو کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے مترادف قراردے دیا۔دنیا بھرمیں مقیم کشمیری کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مہاجرین کی بارہ نشستیں ختم کرنے کے مطالبہ کو مسترد کرچکے ہیں۔
چیئرمین ہیومن رائٹس کونسل فارکشمیرڈاکٹرسید نذیرگیلانی نے کہا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستیں دنیا بھر کے کشمیریوں کی نمائندگی کرتی ہیں ۔مہاجرین کی نشستوں کے بغیرآزادکشمیرکی قانون ساز اسمبلی مکمل نہیں ہوسکتی، بات صرف 12 نشستوں کی نہیں بلکہ 25 لاکھ کشمیریوں کے حق رائے دہی کی ہے۔
ڈاکٹرسید نذیرگیلانی نے کہا کہ دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے حقوق کو کوئی منسوخ نہیں کرسکتا۔ریاستی اورغیرریاستی کشمیری کا فرق کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری کہیں بھی ہو،وہ کشمیری ہے، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں کشمیری میرا حق لے لے گا۔
ڈاکٹرسید نذیرگیلانی نے مزید کہا کہ آزادجموں و کشمیرسپریم کورٹ کی مشاورتی رائے کے بعد ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، آزادجموں و کشمیر سپریم کورٹ نے اپنی مشاورتی رائے میں بتادیا کہ جو بھی تبدیلی ہوگی وہ آئینی طریقے سے ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آزادجموں و کشمیر سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے کے بعد ایکشن کمیٹی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے۔اگر ہم اپنی سپریم کورٹ کا احترام نہیں کریں گے تو افراتفری پھیل جائے گی،۔
ماہرین کے مطابق اگرآزادجموں و کشمیراسمبلی میں مہاجرین کیلئے مخصوص 12 نشستیں ختم کی گئیں تو 25لاکھ کشمیری بے آوازہوجائیں گے۔آزادجموں و کشمیراسمبلی سے مہاجرین کی نشستیں ختم کی جاتی ہیں تواس سے حق خودارادیت کے مؤقف کی سیاسی حیثیت متاثرہونے کا امکان ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button