پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام میں 80 ارب روپے کی ریکارڈ بچت، وزیراعلیٰ مریم نواز کا شفافیت اور معیار پر زیرو ٹالرنس کا اعلان

پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی پروگرام پر تیزی سے کام جاری، سیوریج، ڈرینج اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات

انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (PDP) کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، سیوریج اور ڈرینج سسٹم کی بہتری، بارشی پانی کے مؤثر انتظام اور شہری سہولیات کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ای ٹینڈرنگ سسٹم کے ذریعے شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے 80 ارب روپے کی مجموعی بچت کی گئی ہے، جو پاکستان کی تاریخ کے کسی بھی بڑے ترقیاتی پروگرام میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی مالی بچت قرار دی جا رہی ہے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سرکاری فنڈز عوام کی امانت ہیں اور ان کی پائی پائی کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ شفافیت، معیار اور جوابدہی ان کی طرز حکمرانی کے بنیادی ستون ہیں اور ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی بدعنوانی، غفلت یا ناقص معیار کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔


ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کی نئی مثال

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تمام بڑے منصوبوں میں جدید ای ٹینڈرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا، جس کے نتیجے میں مقابلے کی فضا پیدا ہوئی اور قومی خزانے کو 80 ارب روپے کی بچت حاصل ہوئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس کامیابی کو عوامی وسائل کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ شفافیت کے ذریعے بچائی گئی رقم عوامی فلاح و بہبود اور مزید ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔


سیوریج اور ڈرینج منصوبوں کی فوری تکمیل کا حکم

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے بھر میں جاری سیوریج اور ڈرینج منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ 30 جون تک تمام منصوبے ہر صورت مکمل کیے جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر عوام کو مشکلات میں مبتلا نہیں کیا جا سکتا۔

مریم نواز شریف نے کہا:

"گلیاں، محلے اور سڑکیں کھود کر چھوڑ دینا ناقابل قبول ہے۔ عوام کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔”

انہوں نے لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام شہروں میں کھدائی کے بعد گڑھے کھلے چھوڑنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی بھی ہدایت کی۔


بارشی پانی کے مؤثر انتظام کے لیے جدید نظام

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ صوبے بھر میں بارشی پانی کے مؤثر انتظام کے لیے جدید انڈر گراؤنڈ سٹوریج واٹر ٹینک تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

ان منصوبوں میں ڈی سلٹنگ اور انڈر گراؤنڈ واٹر ری چارج سسٹم بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنایا جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ پنجاب بھر میں روڈ سائیڈز پر 110 انڈر گراؤنڈ سیوریج سٹوریج ٹینک مکمل کیے جا چکے ہیں جن کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 24.5 ملین گیلن ہے۔


مین ہول سیفٹی پراجیکٹ پر تیز رفتار پیش رفت

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 838,555 مین ہولز کی جیو ٹیگنگ مکمل کر لی گئی ہے جبکہ ان پر حفاظتی نیٹ (Mesh) لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

اب تک مختلف شہروں میں 3 ہزار سے زائد مین ہولز پر حفاظتی نیٹ نصب کیے جا چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ تمام مین ہولز پر جلد از جلد حفاظتی جال نصب کیے جائیں تاکہ شہریوں خصوصاً بچوں کو حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اجلاس میں تاجر برادری، سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کو بھی مین ہول سیفٹی منصوبے میں شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ اس مہم کو عوامی تعاون سے مزید مؤثر بنایا جا سکے۔


پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر ڈرینج سسٹم کی صفائی

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 41 شہروں میں ڈرین نالوں اور سیوریج لائنوں کی جامع ڈی سلٹنگ کی جا رہی ہے۔

اس مہم کے دوران اب تک 550 ٹن سے زائد گارا، سلٹ اور دیگر فضلہ نکالا جا چکا ہے۔

اسی طرح بارشی پانی کی نکاسی کے لیے 196 کلومیٹر طویل ڈرین سسٹم جبکہ 3497 کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی صفائی مکمل کی جا چکی ہے۔

حکام کے مطابق ان اقدامات سے مون سون کے دوران شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔


جدید مشینری کی فراہمی

اجلاس میں بتایا گیا کہ صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے جدید مشینری کی خریداری اور فراہمی کا عمل جاری ہے۔

پنجاب کے مختلف شہروں میں:

  • 91 جیٹنگ اور سکشن مشینیں
  • 77 ڈی سلٹنگ مشینیں
  • 100 ڈی واٹرنگ سیٹ

فراہم کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق جدید مشینری سے سیوریج لائنوں کی صفائی، نکاسی آب اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔


دو لاکھ مین ہول کورز کی تنصیب

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے بھر میں دو لاکھ مین ہولز پر نئے حفاظتی ڈھکن نصب کیے جا چکے ہیں۔

یہ اقدام شہریوں کی حفاظت اور سیوریج نظام کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔


پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت صوبے کے 51 شہروں میں 261 ارب روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

پروگرام کے فیز ون اور فیز ٹو کے تحت مجموعی طور پر 204 ارب روپے کی لاگت سے سیوریج، ڈرینج، انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔


مختلف شہروں میں نمایاں پیش رفت

بریفنگ کے مطابق فیز ون کے تحت:

  • سرگودھا
  • ڈیرہ غازی خان
  • گجرات
  • اوکاڑہ
  • جھنگ
  • ملتان
  • سیالکوٹ

میں 57 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔

جبکہ فیز ٹو کے تحت:

  • جہلم
  • حافظ آباد
  • ساہیوال
  • فیصل آباد
  • گوجرانوالہ
  • شیخوپورہ
  • ننکانہ صاحب
  • راولپنڈی

میں بھی 57 فیصد سے زیادہ ترقیاتی کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔


عوامی سہولت حکومت کی اولین ترجیح قرار

اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کا مقصد صرف ترقیاتی منصوبے مکمل کرنا نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں حقیقی آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور عوام کو درپیش مشکلات کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب کو جدید، صاف ستھرا، محفوظ اور ترقی یافتہ صوبہ بنانے کے لیے حکومت اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے گی اور عوامی وسائل کے شفاف استعمال کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button