
"اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گی، پاکستان اور ایران امن دشمن عناصر کے خلاف متحد ہیں: شہباز شریف، مسعود پزشکیان”
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت معاہدے کی شکل اختیار کرے گی اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پاکستان کے اہم کردار کے معترف ہیں،وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی مشترکہ نیوز کانفرنس
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز (خصوصی رپورٹ)
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ مستقبل میں ایک جامع اور مستقل معاہدے کی شکل اختیار کرے گی، جس سے نہ صرف خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا بلکہ ترقی، خوشحالی اور علاقائی تعاون کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا میں ایسے عناصر موجود ہیں جو امن عمل اور حالیہ سفارتی پیش رفت سے ناخوش ہیں، تاہم پاکستان اور ایران مل کر ایسے تمام عناصر کے خلاف آہنی دیوار ثابت ہوں گے۔
یہ بات انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ اور وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات بھی ہوئے جن میں خطے کی صورتحال، امن عمل، اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات خاندانی ماحول میں ہوئی، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز فارسی شعر سے کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ سچا دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہے۔
انہوں نے ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ ہونے والی ملاقات نہایت خوشگوار، دوستانہ اور نتیجہ خیز رہی۔
"یہ ملاقات کسی رسمی سفارتی نشست کے بجائے ایک خاندانی ملاقات کی مانند تھی، جہاں دو برادر ممالک کے رہنما مکمل اعتماد اور خلوص کے ساتھ اپنے مستقبل کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔”
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو ایک عظیم ملک کا عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے ان کی طبی، سماجی اور عوامی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن کے نئے باب کا آغاز
وزیراعظم نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور امن عمل میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مخلص ثالث کے طور پر امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات نے اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا اور اب امید کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک مستقل امن معاہدے کی بنیاد بنے گی۔
"ہم چاہتے ہیں کہ یہ عمل کامیابی سے مکمل ہو اور خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو۔”
امن دشمن عناصر کے خلاف مشترکہ مؤقف
شہباز شریف نے کہا کہ کچھ قوتیں ایسی بھی ہیں جو خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی نہیں دیکھنا چاہتیں۔
انہوں نے کہا:
"دنیا میں ایسے عناصر کی کمی نہیں جو اس جنگ بندی اور امن عمل سے مایوس ہیں اور مختلف افواہوں، شکوک و شبہات اور غلط معلومات کے ذریعے اس عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔”
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اور ایران ایسے عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں اور دونوں ممالک امن کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔
ایران کے عوام نے مثالی جرات کا مظاہرہ کیا
وزیراعظم نے حالیہ بحران کے دوران ایرانی عوام کے اتحاد، صبر اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران نے مشکل حالات میں غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے جنگ کے دوران جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور ایران کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے تہران کا دورہ کریں گے جہاں ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار بھی کریں گے۔
پاکستان کے کردار کے معترف ہیں، مسعود پزشکیان
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں پاکستان کو صرف ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک برادر اسلامی ریاست قرار دیا۔
انہوں نے کہا:”پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ مستقبل، مشترکہ اہداف اور مشترکہ امنگوں کے شراکت دار ہیں۔”
صدر پزشکیان نے علامہ محمد اقبالؒ کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم اُمہ کے اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تاریخی رشتوں پر قائم ہیں اور حالیہ واقعات نے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
مفاہمتی یادداشت پاکستان پر اعتماد کا مظہر
ایرانی صدر نے امن عمل میں پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی قیادت پر اعتماد کی وجہ سے ممکن ہوئے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاکستانی پارلیمان اور عوام پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:”اگر پاکستان کی مخلصانہ کوششیں نہ ہوتیں تو شاید ہم آج اس مقام پر نہ ہوتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن، سلامتی اور ترقی صرف تعمیری مکالمے، باہمی احترام اور علاقائی روابط کے فروغ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا گیا
وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امن کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔

انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے سفارتی اور انتظامی سطح پر اہم کردار ادا کیا۔
بیلسٹک میزائل مذاکرات کا حصہ نہیں تھے
مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں دونوں رہنماؤں نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور یہ کبھی بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دوٹوک انداز میں کہا: "میں بلا خوفِ تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی کسی بھی بات چیت میں بیلسٹک میزائل موضوعِ بحث نہیں رہے اور نہ ہی ان کا مفاہمتی یادداشت میں کوئی ذکر موجود ہے۔”
تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم
دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، توانائی، علاقائی روابط اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کی موجودہ قیادت دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گی۔
مشترکہ نیوز کانفرنس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ خطے میں امن اور ترقی کے لیے بھی مشترکہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔



