
ایجنسیاں
گزشتہ روز کھیلے جانے والے فیفا ورلڈ کپ کے گروپ جی کے ”پرائیڈ میچ‘‘ نے ایران اور مصر کے درمیان صرف یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کون ناک آؤٹ مرحلے میں داخل ہو گا بلکہ اس میچ نے ایک بڑے سیاسی تنازعے کو بھی جنم دے دیا ہے۔ یہ اس عالمی کپ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی میچ کو سرکاری طور پر ”پرائیڈ میچ‘‘ قرار دیا گیا ہو۔
میچ سے قبل ہی سیاٹل شہر کے مختلف حصوں میں ”پرائیڈ تقریبات‘‘ جاری رہیں اور ہر طرف ”آزادی و خوشی‘‘ کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ انہی رنگوں اور شور کے درمیان شہر میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کا ایک ایسا فٹبال میچ ہوا، جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
یہ ایک ایسا مقابلہ تھا، جس میں دو ایسے ممالک آمنے سامنے ہوئے، جو ہم جنس پسندی اور مخصوص صنفی شناخت رکھنے والے افراد کے بارے میں اپنے سخت ضوابط کے سبب جانے جاتے ہیں اور ان کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا میچ ایک ”پرائیڈ میچ‘‘ تھا یعنی ایک میچ، جسے ہم جنس پسند افراد کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔

فیڈریشنز کی ناراضی اور تنقید
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صورتحال محض اتفاق ہے۔ دسمبر میں گروپ ڈرا ہونے اور میچوں کی فہرست سامنے آنے سے پہلے ہی سیاٹل کی مقامی انتظامیہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جون کے آخری ہفتے کے فیسٹیول کے دوران ہونے والا میچ ”پرائیڈ میچ‘‘ ہو گا۔ اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس میچ میں کون سی ٹیمیں شامل ہوں گی۔
لیکن جیسے ہی یہ اعلان ہوا کہ اس میچ میں ایران اور مصر آمنے سامنے ہوں گے تو دونوں ممالک کی فٹبال فیڈریشنوں نے سخت اعتراض اٹھایا۔ ایرانی ٹیم کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اتنا سنجیدگی سے کہ دونوں ممالک نے میچ سے پہلے ایک مشترکہ احتجاج بھی کیا، بالکل ویسا ہی جیسا انہوں نے اس وقت کیا تھا جب یہ میچ پہلی بار ”پرائیڈ فیسٹیول‘‘ کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی فیڈریشن نے کہا کہ مصر اور ایران دو مسلمان ممالک ہیں، جن کے درمیان مذہبی اور ثقافتی قدریں مشترک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسے ماحول میں کھیلنے پر اعتراض رکھتے ہیں، جہاں ہم جنس پسندی کی علامتیں موجود ہوں۔
ساتھ ہی انہوں نے عالمی فٹبال تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ ضروری اقدامات کرے تاکہ اسٹیڈیم میں ایسی کوئی تقریب یا تشہیر نہ ہو۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اسٹیڈیم کے اندر ہم جنس پسند افراد سے منسلک کسی بھی علامت، خصوصاً قوس قزاح کے رنگوں والے جھنڈوں کی غیر موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔
کئی ہفتوں تک یہ بات بھی گردش کرتی رہی کہ شاید یہ میچ منسوخ ہو جائے یا دونوں ٹیمیں اس کا بائیکاٹ کر دیں۔ ایران میں ہم جنس پسندی پر موت کی سزا تک دی جا سکتی ہے جبکہ مصر میں بھی اس برادری کے افراد کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عالمی فٹبال تنظیم کا مؤقف
عالمی فٹبال تنظیم نے اب تک اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کپ سب کو شامل کرنے والا ایک ایونٹ ہے اور ہر جنسی رجحان کے شائقین کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ تنظیم سیاسی پیغامات کے حوالے سے اپنی پالیسی میزبان ممالک کے ماحول کے مطابق بدلتی ہے۔

میزبان کے مطابق پالیسیز کا تعین
گزشتہ فیفا ورلڈ کپ قطر میں 2022ء میں منعقد کیا گیا تھا، جہاں اس قسم کی کسی بھی سرگرمی بشمول رنگ برنگے جھنڈے اسٹیڈیم میں لے جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی فٹبال تنظیم اکثر میزبان ملک کے سماجی اور سیاسی ماحول کے مطابق اپنے ضابطوں میں نرمی یا سختی کرتی ہے۔
سیاٹل کا دو ٹوک جواب
اس میچ سے قبل سیاٹل کے مقامی منتظمین نے واضح کر دیا تھا کہ وہ ایرانی اور مصری فیڈریشنوں کی مخالفت یا دباؤ سے متاثر نہیں ہوں گے۔ انتظامیہ کی رکن ہیڈا میک لینڈن نے کہا، "آئیے لوگوں کو سیاٹل میں خوش آمدید کہیں اور انہیں دکھائیں کہ ہم کتنے فخر سے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
ان کے مطابق پرائیڈ میچ کے حوالے سے کوئی تبدیلی ممکن نہیں تھی، چاہے کوئی کتنا ہی ناراض کیوں نا ہوتا۔



