پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

منشیات کے خلاف پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کی بڑی کامیابیاں، 24.5 ٹن منشیات کی سپلائی ناکام، 2.2 ارب روپے مالیت کی منشیات برآمد

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے "منشیات سے پاک پنجاب" ویژن پر مؤثر عملدرآمد جاری، 9 ماہ میں 2,250 سے زائد کامیاب آپریشنز

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

ڈائریکٹر جنرل و کمانڈر پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس (سی این ایف) برگیڈیئر مظہر اقبال نے انسدادِ منشیات کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "منشیات سے پاک، صحت مند اور محفوظ پنجاب” کے وژن کے تحت قائم کی گئی خصوصی فورس نے مختصر مدت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور صوبے میں منشیات کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگست 2025 میں آپریشنل ہونے والی پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس اب تک پنجاب میں 24.5 ٹن منشیات کی سپلائی ناکام بنا چکی ہے، جبکہ منشیات فروشوں کے مضبوط نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے صوبے بھر میں منشیات کی ترسیل کو مؤثر انداز میں روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

2,250 سے زائد آپریشنز، 2.2 ارب روپے مالیت کی منشیات برآمد

برگیڈیئر مظہر اقبال نے بتایا کہ اگست 2025 سے اب تک پنجاب بھر میں 2,250 سے زائد کامیاب آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن کے دوران برآمد ہونے والی منشیات کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 2.2 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے نہ صرف منشیات بلکہ دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں کی ہیں، جن کے دوران 26,700 لیٹر غیر قانونی شراب، 200 سے زائد مختلف اقسام کے اسلحہ، 5,000 سے زائد گولیاں (ایمونیشن) اور 16 کواڈ کاپٹرز (ڈرون) بھی قبضے میں لیے گئے، جو جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں میں استعمال کیے جا رہے تھے۔

440 مقدمات، 750 سے زائد گرفتاریاں، سزا کی شرح 75 فیصد

ڈی جی پنجاب سی این ایف نے بتایا کہ منشیات فروشوں کے خلاف 440 مقدمات درج کیے گئے جن میں 750 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 13 مقدمات کے ٹرائل مکمل ہو چکے ہیں، جن میں سزا کی شرح 75 فیصد رہی، جو مؤثر تفتیش، مضبوط شواہد اور پراسیکیوشن کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عدالتوں نے مختلف مقدمات میں تین منشیات فروشوں کو 14،14 سال قید با مشقت، دو ملزمان کو 10،10 سال، تین کو 9،9 سال جبکہ ایک مجرم کو 16 سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے، جو منشیات فروشوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قانون شکن عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

منشیات کی طلب میں کمی کے لیے آگاہی مہم بھی جاری

برگیڈیئر مظہر اقبال نے کہا کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس صرف منشیات کی سپلائی روکنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے استعمال کی طلب میں کمی لانے کے لیے بھی بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران 250 سے زائد تعلیمی اداروں میں انٹرایکٹو آگاہی سیمینارز کا انعقاد کیا جا چکا ہے، جہاں طلبہ کو منشیات کے جسمانی، ذہنی، سماجی اور معاشی نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان سیمینارز میں طلبہ کی کونسلنگ کے ساتھ انہیں منشیات کے خلاف آگاہی مہم کا رضاکارانہ حصہ بننے کی بھی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ نوجوان نسل خود بھی اس قومی مہم میں اپنا کردار ادا کرے۔

ہیلپ لائن 1012 کا آغاز، عوامی شمولیت کو یقینی بنایا گیا

ڈی جی پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منشیات کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں عوامی شمولیت کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اسی مقصد کے لیے ہیلپ لائن 1012 متعارف کرائی گئی ہے، جہاں شہری منشیات فروشوں یا منشیات کے استعمال سے متعلق معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اطلاع دینے والے ہر شہری کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جاتی ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر سکیں۔

پنجاب کے تمام اضلاع میں فورس فعال

برگیڈیئر مظہر اقبال نے بتایا کہ صرف 9 ماہ کی مختصر مدت میں پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نہ صرف صوبے کی 9 ڈویژنز بلکہ پنجاب کے تمام اضلاع میں بھی فعال ہو چکی ہے، جہاں منشیات فروشوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور نگرانی کا عمل مسلسل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فورس جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ مہارت اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے صوبے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔

"منشیات سے پاک پنجاب ہمارا عزم ہے”

ڈائریکٹر جنرل پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق نوجوانوں، طلبہ اور آئندہ نسلوں کو منشیات سے پاک، محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے آپریشنز، انٹیلی جنس کارروائیوں، آگاہی مہمات اور عوامی شمولیت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، تعلیمی ادارے، والدین، میڈیا اور پوری سوسائٹی کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایک محفوظ، صحت مند اور روشن پنجاب کی بنیاد رکھی جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button