
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کراچی: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے اور برادر و دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس پر بطور ثالث دستخط کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
وزیراعظم ہفتہ کو پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر کراچی میں 125ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کر رہے تھے۔
تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، اعلیٰ عسکری حکام، سفارتی شخصیات، کیڈٹس کے اہل خانہ اور دیگر معزز مہمان شریک تھے۔
وزیراعظم کو گارڈ آف آنر، پریڈ کا معائنہ اور اعزازات تقسیم
تقریب میں آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے وزیراعظم کا استقبال کیا جبکہ انہیں پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیراعظم نے پریڈ کا معائنہ کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے۔

مڈشپ مین عمر مختار کو مجموعی بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا، آفیسر کیڈٹ حافظ محمد احمد منور کو چیف آف ڈیفنس فورسز گولڈ میڈل ملا، اکیڈمی ڈرِل مڈشپ مین کا اعزاز ہادی عباس خان نے حاصل کیا جبکہ شارٹ سروس کمیشن کورس کی آفیسر کیڈٹ الویرا حمزہ کو کمانڈنٹ گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔
اس موقع پر کیڈٹس نے پیشہ ورانہ حلف اٹھایا جبکہ پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹروں اور جنگی بحری جہازوں نے سلامی پیش کی۔
پاس آؤٹ ہونے والے تمام کیڈٹس کو مبارکباد
وزیراعظم نے پاس آؤٹ ہونے والے تمام کیڈٹس اور اعزازات حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس تقریب میں شرکت پر بے حد خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان افسران مستقبل میں پاکستان کی بحری سرحدوں کے محافظ اور قومی دفاع کا اہم ستون ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاس آؤٹ ہونے والوں میں پاکستان کے علاوہ ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس بھی شامل ہیں، جو اس ادارے کے بین الاقوامی معیار اور پاکستان پر دوست ممالک کے اعتماد کا مظہر ہے۔
پاکستان نیول اکیڈمی عالمی معیار کا تربیتی ادارہ
وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان نیول اکیڈمی سے حاصل ہونے والی پیشہ ورانہ تربیت، علم اور قائدانہ صلاحیتیں ان افسران کے پورے کیریئر میں ان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنیں گی۔
انہوں نے اکیڈمی کے کمانڈنٹ، فیکلٹی اور تربیتی عملے کو اعلیٰ معیار کی تربیت، نظم و ضبط اور بہترین قیادت فراہم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کیڈٹس کے والدین اور اہل خانہ کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں، قربانیاں اور تعاون ان نوجوانوں کی کامیابی میں بنیادی کردار رکھتے ہیں۔
پاکستان دنیا میں امن کا علمبردار
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا اس وقت غیر معمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور ایسے حالات میں پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی بدولت امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو عالمی امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعظم نے اس کامیابی پر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو بھی سراہا اور انہیں امن کے لیے انتھک کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا۔
ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کی سفارتی کامیابی
وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورہ پاکستان دونوں برادر ممالک کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ پاکستان کی امن پسند خارجہ پالیسی پر بین الاقوامی اعتماد کا اظہار بھی ہے۔
میری ٹائم سکیورٹی عالمی معیشت کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لیے میری ٹائم سکیورٹی کی اہمیت کئی گنا بڑھا دی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آزادانہ بحری آمدورفت اور جہازرانی کی آزادی صرف سہولت نہیں بلکہ عالمی معیشت کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پاک بحریہ کو مزید مضبوط، مؤثر اور جدید دفاعی قوت بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی تاکہ قومی دفاع کے ساتھ ساتھ خطے میں بحری امن و استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین
وزیراعظم نے کہا کہ پاک بحریہ نے معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور بحری سرحدوں کے تحفظ کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔
انہوں نے آپریشن محافظ البحر کے ذریعے بندرگاہوں تک توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاک بحریہ کی خدمات کو بھی سراہا۔
نئے افسران کے لیے اہم پیغام
وزیراعظم نے نئے کمیشن حاصل کرنے والے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاک بحریہ کے عظیم ہیروز کموڈور ایس ایم انور، کمانڈر ظفر محمد خان اور وائس ایڈمرل احمد تسنیم کی شاندار روایات کے امین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ان کے کندھوں پر سجنے والا رینک صرف اعزاز نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا:
"پرسکون سمندر کبھی ملاح کی آزمائش نہیں لیتا، بلکہ طوفانی حالات ہی اصل قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان ہوتے ہیں۔”
وزیراعظم نے افسران پر زور دیا کہ وہ جرات، نظم و ضبط، دیانت داری، وفاداری اور پیشہ ورانہ مہارت کو ہمیشہ مقدم رکھیں، کیونکہ مستقبل کی بحری جنگ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور بغیر پائلٹ نظاموں پر مشتمل ہوگی۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلح افواج کی کوششیں جاری
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی خطرات اور پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ملک گزشتہ برس کی ناکامی کے بعد پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے پراکسیوں اور دیگر بزدلانہ ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج مغربی سرحد پر غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
امن، کشمیر اور فلسطین پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کشمیر، فلسطین اور غزہ کے عوام کے حقِ خودارادیت اور انصاف پر مبنی مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مظلوم عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
تقریب کا اختتام
تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے اعزازات حاصل کرنے والے کیڈٹس کے ساتھ گروپ فوٹو بنوایا، مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور پاس آؤٹ ہونے والے افسران کے روشن مستقبل، پاکستان کی سلامتی اور پاک بحریہ کی مزید کامیابیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔





