
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وفاقی دارالحکومت میں اتوار کے روز ایک خاتون کی جان اور عزت بچانے کی کوشش کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے پاک فضائیہ کے انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے سینیئر افسر، گروپ کیپٹن عاصم طارق کی نمازِ جنازہ منگل کے روز اسلام آباد میں ادا کر دی گئی، جس کے بعد انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
افواجِ پاکستان کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے مطابق، نمازِ جنازہ میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، فضائیہ کے اعلیٰ سینیئر افسران، ایئرمین، سیاسی و فوجی شخصیات اور عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہید کو الوداعی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سربراہِ پاک فضائیہ کا خراجِ تحسین
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کی بے مثال شجاعت کو سراہتے ہوئے کہا:
"گروپ کیپٹن عاصم طارق کی یہ لازوال قربانی پاک فضائیہ اور پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ ترین روایات کی عکاس ہے۔ ایک بے گناہ شہری کی جان اور وقار کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے انہوں نے بہادری کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پاک فضائیہ کے جوان نہ صرف وطن عزیز کی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، بلکہ اپنے ہم وطنوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کے لیے بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔”
افسوسناک واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس اور پاک فضائیہ کے ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اتوار (5 جولائی) کو اسلام آباد کے حساس علاقے نائنتھ ایونیو پر شاہین چوک (نزد ایئر یونیورسٹی و بحریہ یونیورسٹی) کے پاس پیش آیا۔ گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنے سرکاری فرائض کے سلسلے میں راولپنڈی کی طرف سفر کر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان ایک خاتون کو زبردستی کھینچ کر اپنے ساتھ لے جانے (مبینہ اغوا) کی کوشش کر رہا تھا اور خاتون شدید پریشانی کی حالت میں تھی۔
معصوم شہری کو مصیبت میں دیکھ کر گروپ کیپٹن عاصم طارق نے فوری طور پر اپنی گاڑی کا یوٹرن لیا اور موٹر سائیکل کے پاس جا کر خاتون کی مدد کے لیے مداخلت کی۔ جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے، متاثرہ خاتون تحفظ کے لیے ان کی گاڑی کی دوسری طرف بھاگی۔ اس دوران ملزم اور پاک فضائیہ کے افسر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اشتعال میں آ کر ملزم نے پستول نکالا اور گروپ کیپٹن عاصم طارق پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ملزم فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پر موقع سے فرار ہو گیا۔
پولیس کا پینترا اور ملزم کی 9 گھنٹے میں گرفتاری
آئی جی اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کے مطابق، واقعے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے جدید تکنیکی وسائل کا استعمال کیا اور محض 9 گھنٹوں کے اندر کھنہ پل کے علاقے سے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کی شناخت سعد عباسی (عمر 20 سال) کے نام سے ہوئی ہے، جو جی سکس (G-6) میں ایک کیش اینڈ کیری اسٹور پر سیلز مین کے طور پر کام کرتا تھا، اور متاثرہ خاتون بھی اسی اسٹور میں اس کی ہینڈ ورکنگ کولیگ تھی۔
خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ ملزم نے انہیں کام کے بعد لفٹ کی پیشکش کی تھی، لیکن بعد میں وہ مرضی کے خلاف گاڑی کو ایک سنسان راستے کی طرف لے گیا۔ ملزم پولیس کو چکمہ دینے کے لیے پنجاب کے مختلف علاقوں میں پینترے بدلتا رہا، لیکن جیسے ہی وہ واپس اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوا، پولیس نے اسے دھر لیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ مارگلہ میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
عدالت کی جانب سے ملزم جوڈیشل لاک اپ منتقل
ملزم سعد عباسی کو سخت سیکیورٹی میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کے سامنے پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر کی استدعا پر عدالت نے ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے اور اگلی سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔ دورانِ سماعت جب جج نے ملزم سے پوچھا کہ "یہ قدم کیوں اٹھایا؟” تو ملزم نے موقف اپنایا کہ وہ لڑکی کے ساتھ تھا اور مذکورہ شخص آ کر انہیں ڈسٹرب کر رہا تھا، جس پر معزز جج نے ریمارکس دیے کہ "وہ ڈسٹرب کر رہے تھے؟ کیا تم وہاں کوئی اچھا کام کر رہے تھے جو انہوں نے ڈسٹرب کیا!”
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بہادری کو قومی فخر قرار دیا ہے اور واقعے کی شفاف تفتیش کی ہدایت کی ہے۔




