
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان کی برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی اور مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان کی آٹوموبائل صنعت نے بین الاقوامی منڈی میں ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کر لی۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار (SAPM) ہارون اختر خان کی موجودگی میں ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان (MG JW Automobile Pakistan) اور بنگلہ دیش کے معروف کاروباری ادارے RANCON گروپ کے درمیان گاڑیوں کی برآمدات کے لیے مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے، جسے پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان میں اسمبل کی جانے والی جدید گاڑیاں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش کی مارکیٹ میں برآمد کی جائیں گی، جس سے نہ صرف ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ پاکستان کی آٹو موٹیو صنعت کو عالمی سطح پر نئی شناخت بھی ملے گی۔
دستخطی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام، دونوں کمپنیوں کے نمائندگان، کاروباری شخصیات اور آٹو انڈسٹری سے وابستہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔
پاکستان سے بنگلہ دیش گاڑیوں کی برآمد کا آغاز
معاہدے کے مطابق ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان رواں سال کے دوران بنگلہ دیش کو 100 مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑیاں برآمد کرے گا، جبکہ آئندہ چار برسوں میں مجموعی طور پر 5,800 گاڑیوں کی برآمد متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی برآمدی صنعت کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا کیونکہ اس کے نتیجے میں ملک کو کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا، نئی سرمایہ کاری آئے گی، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری کو بھی نمایاں فروغ ملے گا۔
وزیراعظم کے وژن کی عملی تعبیر
تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان کو ایک برآمدات پر مبنی، صنعتی طور پر مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی معیشت بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں اور یہی معاہدہ اس وژن کی عملی شکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، برآمدات میں اضافے، مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے متعدد اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ معاشی حکمت عملی کا بنیادی مقصد درآمدات پر انحصار کم کرنا اور ملکی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
نئی آٹو پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی
ہارون اختر خان نے بتایا کہ حکومت ایک جامع نئی آٹو موٹیو پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو خطے میں ایک اہم آٹوموبائل مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نئی پالیسی کے تحت:
- گاڑیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
- مقامی سطح پر پرزہ جات (Localization) کی تیاری کو فروغ دیا جائے گا۔
- نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
- جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان منتقل کیا جائے گا۔
- مقامی صنعت کی عالمی معیار کے مطابق استعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
- روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تمام صنعتوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی جو برآمدات بڑھانے، نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں کردار ادا کریں گی۔
پاکستانی آٹو انڈسٹری عالمی معیار تک پہنچ چکی ہے
ہارون اختر خان نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی آٹوموبائل صنعت نے معیار، پیداواری صلاحیت اور مقامی پرزہ جات کی تیاری کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں اب بین الاقوامی معیار پر پورا اترتی ہیں اور عالمی منڈی میں کامیابی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان مستقبل میں نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بھی اپنی آٹوموبائل برآمدات بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
بنگلہ دیشی کمپنی کا پاکستانی صنعت پر بھرپور اعتماد
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے RANCON گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد مستفیض الرشید بھوئیاں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان صنعتی اور تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی آٹوموبائل مارکیٹ میں پاکستانی گاڑیوں کی آمد سے صحت مند مسابقت پیدا ہوگی، جس کا براہ راست فائدہ صارفین کو معیاری اور جدید گاڑیوں کی صورت میں ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی آٹو موٹیو صنعت نے بین الاقوامی مینوفیکچرنگ معیارات حاصل کر لیے ہیں اور اس کے پاس عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان کا اظہارِ عزم
ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیان کیانگ شاؤ نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی پاکستان کو ایک علاقائی آٹوموبائل برآمدی مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ مستقبل میں دیگر بین الاقوامی مارکیٹوں تک پاکستانی گاڑیوں کی رسائی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدی سرگرمیوں میں مزید توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔
تقریب میں اہم شخصیات کی شرکت
تقریب میں ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر عامر نذیر، مختلف وزارتوں کے اعلیٰ سرکاری حکام، دونوں کمپنیوں کے سینئر نمائندے، کاروباری برادری، سرمایہ کاروں اور آٹوموبائل صنعت سے وابستہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔
شرکاء نے اس معاہدے کو پاکستان کی صنعتی ترقی، علاقائی تجارت اور برآمدی صلاحیت کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور دور رس اقدام قرار دیا۔
معاہدے کی معاشی اہمیت
ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان اس وقت برآمدات میں اضافے، صنعتی پیداوار بڑھانے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ایسے میں آٹوموبائل سیکٹر سے ہونے والی برآمدات نہ صرف معیشت کے لیے مثبت ثابت ہوں گی بلکہ اس سے:
- قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
- مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔
- صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
- نئی سرمایہ کاری متوجہ ہوگی۔
- روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
- پاکستان کی عالمی تجارتی ساکھ مزید مضبوط ہوگی۔
پاکستان کو علاقائی مینوفیکچرنگ ہب بنانے کا عزم
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور جدید مینوفیکچرنگ کے ذریعے پاکستان کو خطے کا ایک مضبوط ریجنل مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی تعاون کو نئی جہت دے گا بلکہ یہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی آٹوموبائل صنعت عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت کی مجوزہ آٹو پالیسی اور برآمدی حکمت عملی مؤثر انداز میں نافذ ہوتی ہے تو آنے والے برسوں میں پاکستان آٹوموبائل برآمدات کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔



