پاکستاناہم خبریں

پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی جہت، اعلیٰ سطحی فوجی وفد کی ائیر ہیڈکوارٹرز آمد، فضائی اور دفاعی شراکت داری کے فروغ پر اتفاق

ملاقات میں دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان موجودہ تعاون کا جائزہ بھی لیا گیا، جبکہ دفاعی تعلقات کو مزید مؤثر، جامع اور طویل المدتی بنیادوں پر استوار کرنے کے مختلف امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: پاکستان اور جمہوریہ بیلاروس کے درمیان دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں بیلاروس کی مسلح افواج کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ائیر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں وفد نے پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، عسکری روابط، مشترکہ تربیت، دفاعی صنعت، تکنیکی اشتراک اور مستقبل میں باہمی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیلاروسی وفد کی قیادت مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف اور فرسٹ ڈپٹی ڈیفنس میجر جنرل موراویکو پاول نکولائیوچ کر رہے تھے۔ ان کے ہمراہ دفاعی اور عسکری امور سے وابستہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جدید عسکری استعداد کا قریب سے جائزہ لیا۔

علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر جامع تبادلہ خیال

ائیر ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، بدلتے ہوئے جغرافیائی و تزویراتی حالات اور مشترکہ دفاعی مفادات پر تفصیل سے گفتگو کی۔ اس موقع پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی سکیورٹی ماحول میں باہمی تعاون، معلومات کے تبادلے اور دفاعی شراکت داری کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملاقات میں دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان موجودہ تعاون کا جائزہ بھی لیا گیا، جبکہ دفاعی تعلقات کو مزید مؤثر، جامع اور طویل المدتی بنیادوں پر استوار کرنے کے مختلف امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

پاک فضائیہ کے سربراہ کا دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ

اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بیلاروسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بیلاروس کے ساتھ دفاعی تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود دوستانہ روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ پیشہ ورانہ عسکری تعاون کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں:

  • مشترکہ عسکری تربیت
  • فضائی مشقیں
  • تکنیکی مہارت کا تبادلہ
  • دفاعی ٹیکنالوجی میں اشتراک
  • دفاعی صنعتی تعاون
  • تحقیق و ترقی کے مشترکہ منصوبے

شامل ہیں۔

ائیر چیف نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا، جس سے نہ صرف دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی امن و استحکام کو بھی فروغ ملے گا۔

خود انحصاری اور جدید ٹیکنالوجی میں پاک فضائیہ کی کامیابیوں کا اعتراف

بیلاروسی وفد کے سربراہ میجر جنرل موراویکو پاول نکولائیوچ نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید آپریشنل تیاری، دفاعی خود انحصاری اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود پاک فضائیہ نے جدید عسکری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو جس انداز میں مضبوط بنایا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے بالخصوص:

  • آپریشنل تیاری
  • جدید فضائی حکمت عملی
  • تکنیکی جدت
  • مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کی ترقی
  • خود انحصاری پر مبنی اقدامات

کو پاک فضائیہ کی نمایاں کامیابیاں قرار دیا۔

دفاعی صنعت میں مشترکہ تعاون کے نئے امکانات

ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی۔

ذرائع کے مطابق گفتگو میں دفاعی سازوسامان کی تیاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، مرمت و دیکھ بھال، تحقیق و ترقی اور مستقبل میں مشترکہ صنعتی منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دفاعی صنعتی تعاون دونوں ممالک کے لیے نہ صرف اقتصادی بلکہ تزویراتی اعتبار سے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

عسکری روابط کے فروغ پر اتفاق

دونوں وفود نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی عسکری وفود کے تبادلوں، مشترکہ ورکشاپس، تربیتی کورسز، دفاعی سیمینارز اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے سے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان اعتماد اور تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

بیلاروسی وفد نے پاکستان کی دفاعی صنعت اور پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔

پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کو تقویت

دفاعی ماہرین کے مطابق بیلاروسی فوجی وفد کا یہ دورہ پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد دوست ممالک کے ساتھ عسکری تعاون کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی منصوبوں کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنا ہے۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات میں نمایاں وسعت لا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مشترکہ مشقوں، تربیتی پروگراموں، دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں متعدد اہم معاہدے سامنے آ چکے ہیں۔

مستقبل میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط، فعال اور دیرپا بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ تربیت، تکنیکی تعاون، دفاعی صنعت، عسکری تحقیق، پیشہ ورانہ تبادلوں اور باہمی اعتماد کے فروغ کے ذریعے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور دفاعی تعاون کو بھی نئی جہت ملے گی۔

دفاعی مبصرین کے مطابق بیلاروسی فوجی وفد کا یہ دورہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کا مظہر ہے، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، تکنیکی اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button