پاکستاناہم خبریں

بحیرۂ احمر اور باب المندب کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں نیا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد

پاکستان سمیت 14 ممالک کی حمایت، عالمی تجارت کے اہم سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام

سید عاطف ندیم l ادارت

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات اور اہم سمندری گزرگاہوں پر سلامتی کے خدشات کے پیش نظر سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ پاکستان سمیت 14 ممالک نے اس مجوزہ اتحاد کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بحیرۂ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں جہازرانی کی آزادی، بین الاقوامی تجارتی راستوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

ریاض میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ اتحاد ایک خصوصی دفاعی پلیٹ فارم ہوگا، جس کا صدر دفتر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، جبکہ اس کا بنیادی مقصد عالمی بحری تجارت کے اہم ترین راستوں کی حفاظت، رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور سمندری سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان سمیت 14 ممالک بانی حمایت کنندگان

اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اس اتحاد کی ابتدائی حمایت کرنے والے 14 ممالک میں:

  • سعودی عرب
  • پاکستان
  • بحرین
  • بنگلہ دیش
  • کوموروس
  • جبوتی
  • مصر
  • اردن
  • کویت
  • قطر
  • صومالیہ
  • سوڈان
  • شام
  • یمن

شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق یہ ممالک اتحاد کے قیام کے لیے اپنے اپنے قانونی اور آئینی تقاضے مکمل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر اس کا حصہ بن سکیں گے۔

سعودی عرب کرے گا اتحاد کی قیادت

سعودی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اس نئے بحری اتحاد کی قیادت سعودی عرب کرے گا، جبکہ اس کا مستقل ہیڈکوارٹر بھی سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔

وزارت دفاع کے مطابق اتحاد کے تحت ایک مربوط عسکری اور انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا، جس میں:

  • مشترکہ کمانڈ (Joint Command)
  • کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر
  • کمبائنڈ میری ٹائم آپریشنز سینٹر
  • جنرل سیکریٹریٹ

قائم کیے جائیں گے تاکہ رکن ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور آپریشنل رابطوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔

اتحاد کا بنیادی مقصد کیا ہوگا؟

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ اتحاد کا بنیادی مقصد:

  • بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں جہازرانی کی آزادی کا تحفظ۔
  • عالمی تجارتی بحری راستوں کو محفوظ بنانا۔
  • بحری قزاقی، دہشت گردی، میزائل اور ڈرون حملوں جیسے خطرات کا مشترکہ مقابلہ۔
  • رکن ممالک کے درمیان بحری دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا۔
  • سمندری سلامتی کے حوالے سے مشترکہ آپریشنل حکمت عملی اختیار کرنا۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کی تمام سرگرمیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے اصولوں، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور عالمی جہازرانی کے قوانین کے مطابق انجام دی جائیں گی۔

امریکہ۔ایران کشیدگی کے بعد اہم پیش رفت

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اتحاد ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران:

  • تجارتی جہازوں پر حملے،
  • توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ڈرون اور میزائل حملے،
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی کو لاحق خطرات،

نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔

اسی تناظر میں سعودی عرب نے خطے کے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسا دفاعی پلیٹ فارم تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جس کا مقصد صرف عسکری تعاون نہیں بلکہ عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا بھی ہے۔

باب المندب کیوں اہم ہے؟

باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق:

  • دنیا کی تقریباً 12 فیصد عالمی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔
  • یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تیل، گیس اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار اسی سمندری راہداری سے منتقل ہوتی ہے۔
  • اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

حوثی حملوں نے عالمی تجارت متاثر کی

اعلامیے میں اگرچہ کسی ملک یا گروہ کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، تاہم پس منظر میں یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملے ایک اہم عنصر سمجھے جا رہے ہیں۔

2023 کے اواخر سے شروع ہونے والے ان حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہاز باب المندب کے بجائے جنوبی افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل اور مہنگے راستے سے گزارنا شروع کر دیے تھے۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں:

  • عالمی شپنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
  • سامان کی ترسیل میں تاخیر پیدا ہوئی۔
  • عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی۔
  • توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔

51 ممالک اور عالمی اداروں کی شرکت

سعودی وزارت دفاع کے مطابق ریاض میں ہونے والے اجلاس میں صرف بانی ممالک ہی نہیں بلکہ 51 ممالک اور مختلف بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں:

  • یورپی یونین کے وفد،
  • مختلف علاقائی تنظیموں،
  • بحری سلامتی سے متعلق بین الاقوامی اداروں

کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

سعودی حکام کے مطابق یہ وسیع شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ عالمی برادری سمندری سلامتی اور آزاد جہازرانی کے تحفظ کو ایک مشترکہ ذمہ داری سمجھتی ہے۔

اتحاد تمام ممالک کے لیے کھلا ہوگا

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد صرف ابتدائی 14 ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایسے تمام ممالک اس میں شامل ہو سکیں گے جو:

  • اتحاد کے مقاصد سے اتفاق رکھتے ہوں۔
  • اپنے قومی قوانین کے مطابق شمولیت کی منظوری حاصل کریں۔
  • مشترکہ دفاعی تعاون کے اصولوں پر عمل درآمد کے لیے تیار ہوں۔

سعودی وزارت دفاع نے اسے "ایک کھلا بین الاقوامی دفاعی اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں مزید ممالک کی شمولیت سے اس اتحاد کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے مشترکہ عزم

اجلاس کے اختتام پر شریک ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اتحاد کے قانونی، انتظامی اور آپریشنل ڈھانچے کو جلد از جلد حتمی شکل دیں گے تاکہ اسے باضابطہ طور پر فعال کیا جا سکے۔

مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ اتحاد نہ صرف بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں سمندری سلامتی کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ، توانائی کی محفوظ ترسیل، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی اس اتحاد میں شمولیت بحری سلامتی، علاقائی دفاعی تعاون اور عالمی تجارتی راہداریوں کے تحفظ کے حوالے سے اس کے فعال کردار کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والا یہ نیا دفاعی فورم مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ اور بحرِ احمر کے خطے میں سکیورٹی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button