
میڈرڈ/رباط: شمالی افریقہ میں واقع سپین کے خودمختار شہر سیوتا (Ceuta) ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر غیرقانونی ہجرت کے بحران کا مرکز بن گیا ہے، جہاں مراکش سے ہزاروں تارکینِ وطن نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ کئی افراد سمندر کے راستے تیر کر سپین کے زیرِ انتظام علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جبکہ اس دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہو گئے۔ بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سپین نے سیوتا میں امن و امان برقرار رکھنے اور سرحدی نگرانی مزید سخت کرنے کے لیے فوج تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں سیوتا کی سرحد پر تارکینِ وطن کی سب سے بڑی نقل و حرکت میں سے ایک ہے، جس نے نہ صرف سپین بلکہ یورپی یونین کے لیے بھی ایک نیا انسانی اور سکیورٹی چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
ہزاروں افراد نے سمندر کے راستے سرحد عبور کی
رپورٹس کے مطابق جمعرات کی صبح سے ہی مراکش کے ساحلی علاقوں سے بڑی تعداد میں افراد نے سپین کے خودمختار شہر سیوتا کی جانب رخ کرنا شروع کیا۔ بہت سے افراد نے سمندر میں قائم سرحدی رکاوٹ کو تیر کر عبور کرنے کی کوشش کی، جبکہ کئی افراد ساحلی باڑ کے قریب پہنچ کر مختلف راستوں سے داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق ساحل پر مردوں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جن میں سے اکثر کے کپڑے مکمل طور پر بھیگے ہوئے تھے، جبکہ کئی افراد حفاظتی فلوٹس اور عارضی تیراکی کے آلات استعمال کرتے ہوئے سمندر عبور کر رہے تھے۔
تقریباً 60 ہزار افراد کی آمد کا دعویٰ
سیوتا کے علاقائی صدر خوان ہیسوس ویواس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس غیرمعمولی نقل مکانی کے دوران تقریباً 60 ہزار افراد سیوتا میں داخل ہوئے یا داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں افراد سرحدی رکاوٹوں کو عبور کر کے شہر میں پہنچے، تاہم انہوں نے ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پر صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے داخل ہونے والے افراد کی حتمی تعداد کا تعین ابھی ممکن نہیں۔
کم از کم 34 افراد جان کی بازی ہار گئے
اس بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت کے دوران پیش آنے والے حادثات میں کم از کم 34 تارکینِ وطن ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سیوتا میں سپینش حکومت کے وفد نے اے ایف پی کو بتایا کہ سمندر کے راستے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے نو افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ دیگر ہلاکتوں کے بارے میں مختلف ذرائع سے معلومات موصول ہو رہی ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ باقی افراد کن حالات میں جاں بحق ہوئے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر اموات سمندر میں ڈوبنے یا شدید جسمانی تھکن کے باعث ہوئیں۔
رات بھر سرحد عبور کرنے کا سلسلہ جاری رہا
پولیس ذرائع کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی سینکڑوں افراد مسلسل سیوتا کی جانب بڑھتے رہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ رات کے وقت آنے والوں کی تعداد دن کے مقابلے میں کم تھی، تاہم صبح تک غیرقانونی داخلے کی کوششوں کا سلسلہ جاری رہا۔
سکیورٹی اداروں نے سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی ہے تاکہ مزید افراد کی آمد کو روکا جا سکے۔
سپین کا فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مسلح افواج کو سیوتا میں تعینات کیا جائے گا تاکہ وہ سول گارڈز کی معاونت کرتے ہوئے امن و امان برقرار رکھنے، سرحدی نگرانی مضبوط بنانے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں کردار ادا کر سکیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق:
- فوجی دستے سول گارڈز کے ساتھ مشترکہ فرائض انجام دیں گے۔
- ضرورت پڑنے پر انہیں قانونی اختیارات کے تحت کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا۔
- سیوتا میں تعینات سول گارڈز کی تعداد تقریباً دوگنی کر دی جائے گی۔
- غوطہ خور ٹیمیں اور کوسٹ گارڈ کے اضافی بحری جہاز بھی علاقے میں بھیجے جائیں گے۔
حکام نے اگرچہ فوجیوں کی حتمی تعداد ظاہر نہیں کی، تاہم واضح کیا کہ تمام اقدامات کا مقصد شہریوں کی حفاظت اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
سیوتا اور ملیلہ کی حساس حیثیت
سیوتا اور ملیلہ شمالی افریقہ میں واقع سپین کے دو خودمختار علاقے ہیں، جو جغرافیائی طور پر مراکش کے ساتھ واقع ہیں لیکن سیاسی طور پر سپین اور یورپی یونین کا حصہ ہیں۔
یہ دونوں علاقے کئی دہائیوں سے غیرقانونی ہجرت کے حوالے سے حساس سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد یورپ پہنچنے کے لیے ان سرحدوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ راستہ یورپ میں داخل ہونے کے مختصر ترین زمینی اور سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں وقتاً فوقتاً بڑے پیمانے پر ہجرت کی کوششیں دیکھنے میں آتی ہیں۔
یورپی سطح پر سیاسی ردعمل
بحران کے دوران اٹلی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر سپین بیرونی سرحدوں کی مؤثر حفاظت نہیں کر سکتا تو اسے عارضی طور پر شینگن زون سے معطل کرنے پر غور کیا جائے۔
اس بیان پر سپین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے میڈرڈ میں تعینات اٹلی کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
سپینی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور موجودہ صورتحال ایک غیرمعمولی انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ
انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سرحدی دباؤ برقرار رہا تو مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔
اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
- تارکینِ وطن کی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔
- سمندر میں ریسکیو آپریشنز مزید مؤثر بنائے جائیں۔
- بچوں، خواتین اور کمزور افراد کے لیے فوری انسانی امداد فراہم کی جائے۔
- ہجرت کے بنیادی اسباب، جن میں غربت، تنازعات اور عدم استحکام شامل ہیں، کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھایا جائے۔
یورپ کے لیے ایک نیا امتحان
تجزیہ کاروں کے مطابق سیوتا میں حالیہ بحران ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ غیرقانونی ہجرت صرف سرحدی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ انسانی، معاشی اور سیاسی چیلنج بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات، معاشی مشکلات اور عدم استحکام برقرار رہے تو یورپی سرحدوں پر اس نوعیت کے بحران مستقبل میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جس کے لیے مربوط علاقائی اور بین الاقوامی حکمت عملی ناگزیر ہوگی۔



