پاکستاناہم خبریں

پاکستان اور چین کی عسکری شراکت داری مزید مضبوط، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا علاقائی امن، انسدادِ دہشت گردی اور مشترکہ تزویراتی مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

دونوں ممالک کی افواج مشترکہ تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی، عسکری تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے اور انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں اپنے روابط کو مزید مضبوط بنائیں گی۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

چیف آف ڈیفنس فورسز پاکستان، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) باہمی اعتماد، غیر متزلزل تعاون، علاقائی امن اور مشترکہ تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری میں بندھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کی دفاعی دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے اور بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی حالات میں دونوں ممالک کا تعاون مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

یہ اظہارِ خیال انہوں نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی 99ویں سالگرہ کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں پاکستان اور چین کے اعلیٰ عسکری و سول حکام، سفارتی نمائندوں اور دفاعی ماہرین نے شرکت کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تقریب کا مقصد پیپلز لبریشن آرمی کی پیشہ ورانہ خدمات، دفاعی صلاحیتوں اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط عسکری تعلقات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔

وقت کی آزمودہ دفاعی شراکت داری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات صرف سفارتی یا اقتصادی تعاون تک محدود نہیں بلکہ یہ اعتماد، احترام، مشترکہ مفادات اور دیرینہ دوستی پر مبنی ایک منفرد تزویراتی شراکت داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی معنوں میں ایسے شراکت دار ہیں جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے لیے اپنا تعاون مزید فروغ دیتے رہیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کی افواج مشترکہ تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی، عسکری تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے اور انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں اپنے روابط کو مزید مضبوط بنائیں گی۔

پی ایل اے کی خدمات کو خراجِ تحسین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کو اس کی 99 سالہ پیشہ ورانہ خدمات پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پی ایل اے نے نہ صرف چین کے دفاع، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دفاعی جدیدیت، عسکری پیشہ ورانہ صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے، جس سے خطے میں امن و استحکام کو تقویت ملی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان چین کی ترقی، خوشحالی اور دفاعی کامیابیوں کو اپنی کامیابی تصور کرتا ہے اور دونوں ممالک کی دوستی مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی۔

ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کا مشترکہ مقابلہ

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی "آہنی بھائی چارے” کی عملی مثال ہے، جو بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک دہشت گردی، انتہا پسندی، سرحدی سلامتی، سائبر خطرات، علاقائی کشیدگی اور دیگر ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل تعاون کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک ہم آہنگی دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیادی طاقت ہے، جو مستقبل میں بھی برقرار رہے گی۔

چینی سفیر کا پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف

تقریب میں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے بھی خطاب کیا اور پیپلز لبریشن آرمی کی سالگرہ کے موقع پر شاندار تقریب کے انعقاد پر پاکستانی فوج اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور گہری دوستی پر استوار ہیں، جو ہر مشکل مرحلے میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

چینی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

دفاعی تعاون میں مسلسل اضافہ

پاکستان اور چین گزشتہ کئی دہائیوں سے دفاعی شعبے میں قریبی شراکت دار رہے ہیں۔

دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی پیداوار، جدید اسلحہ سازی، فضائی، بحری اور زمینی افواج کی تربیت، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی ٹیکنالوجی کے مختلف منصوبوں پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔

پاکستانی دفاعی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبے، خصوصاً جے ایف-17 تھنڈر، فضائی دفاعی نظام، بحری جنگی جہازوں کی تیاری اور جدید دفاعی آلات کی فراہمی، دونوں افواج کے تعلقات کی مضبوطی کی واضح مثال ہیں۔

علاقائی سفارت کاری میں بھی تعاون

دفاعی تعاون کے علاوہ پاکستان اور چین حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی قریبی رابطے میں رہے ہیں۔

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں چین سے مشاورت اور تعاون حاصل کیا ہے۔

پاکستانی قیادت نے مختلف سفارتی رابطوں کے دوران چینی حکام کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

دونوں ممالک نے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ سے گریز کریں اور اختلافات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ پورے خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

پاکستان۔چین تعلقات نئی بلندیوں کی جانب

سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق پاکستان اور چین کے تعلقات اس وقت اپنی تاریخ کے مضبوط ترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تزویراتی شراکت دار، اہم اقتصادی سرمایہ کار اور قابلِ اعتماد دفاعی اتحادی ہے، جبکہ پاکستان بھی چین کے علاقائی مفادات، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) اور چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے اہم ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال، جنوبی ایشیا میں سکیورٹی چیلنجز، انسدادِ دہشت گردی، بحری سلامتی، اقتصادی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button