
پاکستان:قصور کا قابلِ فخر سپوت ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر، طب، تعلیم اور سماجی خدمت میں بین الاقوامی شناخت؛ تمغۂ امتیاز دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
وہ گزشتہ پچیس برس سے زائد عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور ہمیشہ ان شخصیات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے
قصور (محمد اصغر واہلہ):
ضلع قصور کی دھرتی نے ہر دور میں ایسی شخصیات کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنے علم، کردار، خدمات اور کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف اپنے شہر بلکہ پاکستان کا نام بھی عالمی سطح پر روشن کیا۔ بابا بلھے شاہؒ، ملکۂ ترنم نور جہاں اور دیگر نامور شخصیات کی اس سرزمین سے تعلق رکھنے والے معروف معالج، ماہرِ قانون، دانشور اور سماجی رہنما ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر بھی انہی ممتاز شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے طب، تعلیم، سماجی خدمت اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر گزشتہ کئی دہائیوں سے شعبۂ طب میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، انسان دوستی، خوش اخلاقی اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ انہیں طبی برادری میں ممتاز بناتا ہے۔ ان سے علاج کرانے والے افراد کے مطابق وہ نہ صرف ایک کامیاب ڈاکٹر ہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جو ہر مریض سے شفقت، محبت اور احترام کے ساتھ پیش آتی ہے۔ ان کی مسکراہٹ، نرم لہجہ اور حوصلہ افزا گفتگو مریضوں کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور یہی خصوصیات انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہیں۔
سینئر تجزیہ نگاروں نے ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کی شخصیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ پچیس برس سے زائد عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور ہمیشہ ان شخصیات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جنہوں نے معاشرے میں مثبت کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر ان نادر شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود خدمتِ خلق، اخلاق اور پیشہ ورانہ دیانت داری کو ہمیشہ مقدم رکھا۔
ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کی طبی خدمات کا اعتراف ملکی سطح پر بھی کیا گیا ہے۔ وہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) ضلع قصور کے تین مرتبہ صدر منتخب ہو چکے ہیں اور اس وقت بھی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی سنٹرل کونسل کے رکن کی حیثیت سے طبی شعبے کی بہتری کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی خدمات کو نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ وہ دنیا بھر کے تقریباً 98 لاکھ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن (World Medical Association) کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں، جس سے 119 سے زائد ممالک کی قومی میڈیکل ایسوسی ایشنز وابستہ ہیں۔ اس عالمی فورم میں ان کی شمولیت پاکستان کے لیے اعزاز سمجھی جاتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کو متعدد بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ 5 مارچ 2024 کو برطانیہ کی معروف تنظیم رائل سوسائٹی آف آرٹس (Royal Society of Arts) نے انہیں فیلوشپ (FRSA) سے نوازا۔ یہ ادارہ 1754 میں شاہی چارٹر کے تحت قائم ہوا تھا اور دنیا کی کئی ممتاز شخصیات، جن میں البرٹ آئن سٹائن، نیلسن منڈیلا، کارل مارکس اور علامہ عنایت اللہ خان مشرقی شامل ہیں، اس کے فیلوز رہ چکے ہیں۔ اس اعزاز کو علمی، سماجی اور پیشہ ورانہ خدمات کے عالمی اعتراف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کو بینکاک (تھائی لینڈ) میں ورلڈ میٹ ایوارڈ 2024 اور جکارتہ (انڈونیشیا) میں ورلڈ میٹ ایوارڈ 2025 سے بھی نوازا گیا، جو عالمی سطح پر ان کی خدمات کے اعتراف کی واضح مثال ہیں۔
تعلیمی میدان میں بھی ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کی شخصیت انتہائی ہمہ جہت ہے۔ وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں بھی حاصل کر رکھی ہیں، جبکہ ایم اے سیاسیات اور ایم اے تاریخِ مغرب و بین الاقوامی امور بھی ان کی علمی استعداد کا حصہ ہیں۔ مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی ایسی شخصیات کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کی اہلیہ پرنسپل پروفیسر مسز اسماء عبدالقدوس بھی تعلیمی میدان میں ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ گورنمنٹ سید چراغ شاہ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین، کوٹ مراد خان، قصور کی پرنسپل ہیں اور ان کی قیادت میں ادارے نے ضلعی اور صوبائی سطح پر متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق انہوں نے طالبات کی تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کے خاندان کو مذہبی اور سماجی حوالے سے بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مقامی حلقوں کے مطابق انہیں کئی مواقع پر سلطان الہند حضرت خواجہ سید محمد نظام الدین اولیاءؒ کے سجادہ نشین کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا، جبکہ مختلف ممالک سے آنے والے وفود اور مہمانوں کی میزبانی بھی ان کے خاندان کی سماجی روایات کا حصہ رہی ہے۔
ضلع قصور کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی، فلاحی اور عوامی تنظیموں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کی طبی، سماجی، تعلیمی اور بین الاقوامی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا جائے۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ایسے افراد کی قومی سطح پر حوصلہ افزائی نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف ہوگی بلکہ نوجوان نسل کو بھی علم، تحقیق، خدمتِ خلق اور مثبت کردار کی طرف راغب کرے گی۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدوس کھوکھر کی شخصیت اس بات کی روشن مثال ہے کہ مسلسل محنت، اعلیٰ کردار، خدمتِ انسانیت اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے ذریعے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسی شخصیات کی خدمات کو قومی اعزازات کے ذریعے سراہا جائے تو یہ معاشرے میں مثبت اقدار، تحقیق، خدمت اور قومی وقار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

