کاروبارتازہ ترین

پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات کا سفر جاری، ڈسکوز کے نقصانات میں کمی کے دعوے، گردشی قرضے میں اضافہ اور نیپرا کے سوالات نے نئی بحث چھیڑ دی

پاور ڈویژن کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ آپریشنل ناکامی نہیں بلکہ وفاقی بجٹ میں مختص سبسڈی کی رقم میں کمی ہے۔

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان کے بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ ایک جانب پاور ڈویژن گزشتہ دو برس کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے مالی نقصانات میں نمایاں کمی کو اپنی اصلاحاتی حکمت عملی کی بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مالی سال 2025-26 میں گردشی قرضے میں 61 ارب روپے اضافے کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ اسی دوران قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے یہ اہم سوال اٹھایا ہے کہ آیا نقصانات میں رپورٹ ہونے والی کمی حقیقی آپریشنل بہتری کا نتیجہ ہے یا پھر زیادہ بجلی چوری والے علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ کے ذریعے نقصانات کو محدود دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس صورتحال نے توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کی نوعیت، ان کی شفافیت، پائیداری اور عوامی فوائد کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق اصلاحات کے مثبت نتائج

پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومت نے بجلی کے شعبے میں مالی نظم و ضبط بہتر بنانے، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں اضافہ کرنے، بجلی چوری کی روک تھام، وصولیوں کو بہتر بنانے اور گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں۔

حکام کے مطابق انہی اصلاحات کے نتیجے میں ڈسکوز کے نقصانات میں نمایاں کمی آئی، محصولات کی وصولی بہتر ہوئی اور گزشتہ مالی سال میں گردشی قرضے کی رفتار کو بھی محدود رکھنے میں پیش رفت ہوئی۔

توانائی کے ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کو کئی دہائیوں سے جمع ہونے والے سنگین مسائل ورثے میں ملے تھے، جن میں بڑھتا ہوا گردشی قرضہ، کمزور ریکوری، لائن لاسز، بجلی چوری، ناقص انتظامی ڈھانچہ اور سبسڈی پر انحصار جیسے مسائل شامل تھے۔

ان کے مطابق ان مسائل کے پیش نظر اگر بعض مالیاتی اشاریوں میں بہتری آئی ہے تو اسے اصلاحات کی ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا سکتا ہے۔

گردشی قرضے میں دوبارہ اضافہ

اصلاحات کے دعووں کے باوجود مالی سال 2025-26 میں گردشی قرضے میں 61 ارب روپے اضافے نے توانائی کے شعبے کی مالی پائیداری پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ آپریشنل ناکامی نہیں بلکہ وفاقی بجٹ میں مختص سبسڈی کی رقم میں کمی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے سبسڈی بروقت اور مکمل فراہم نہ کی جائے تو بجلی کے شعبے پر مالی دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں گردشی قرضہ دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اصلاحات کے باوجود بجلی کا شعبہ اب بھی سرکاری مالی معاونت پر نمایاں حد تک انحصار کرتا ہے، جبکہ طویل المدتی بنیادوں پر کسی بھی شعبے کی مالی پائیداری مسلسل حکومتی امداد پر قائم نہیں رہ سکتی۔

نیپرا نے نقصانات میں کمی پر سوال اٹھا دیا

قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپنی حالیہ مشاہداتی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کی ایک وجہ زیادہ بجلی چوری والے علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ بھی ہو سکتی ہے۔

نیپرا کے مطابق اگر ایسا ہے تو اس سے وقتی طور پر مالیاتی اشاریے بہتر ضرور نظر آ سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقی اصلاحات یا نظام کی کارکردگی میں پائیدار بہتری کا متبادل نہیں بن سکتا۔

ریگولیٹر کا مؤقف ہے کہ بجلی کے شعبے کی دیرپا بہتری کے لیے جدید میٹرنگ، اسمارٹ گرڈ، بجلی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی، تقسیم کار کمپنیوں کی انتظامی اصلاحات اور انفراسٹرکچر کی بہتری ناگزیر ہے۔

لوڈشیڈنگ مستقل حل نہیں

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نقصانات کم کرنے کے لیے زیادہ چوری والے علاقوں میں صرف بجلی کی فراہمی محدود کر دی جائے تو اس سے وقتی طور پر مالی نقصان کم ہو سکتا ہے، لیکن بجلی چوری، ناقص انفراسٹرکچر اور انتظامی کمزوری جیسے بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔

ان کے مطابق مسلسل لوڈشیڈنگ صنعتی سرگرمیوں، تجارتی کاروبار، تعلیم، صحت اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے، اس لیے اسے اصلاحات کا مستقل ذریعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

ٹرانسمیشن نظام بھی اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ

نیپرا نے اپنی رپورٹ میں بجلی کی ترسیل کے نظام (ٹرانسمیشن نیٹ ورک) کی کمزوریوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ برسوں میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جن میں کئی جدید اور نسبتاً کم لاگت والے بجلی گھر بھی شامل ہیں، تاہم قومی ٹرانسمیشن سسٹم کی محدود استعداد کے باعث ملک کے جنوبی حصوں میں پیدا ہونے والی نسبتاً سستی بجلی کو شمالی علاقوں تک مؤثر انداز میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

نتیجتاً بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے بعض اوقات زیادہ مہنگے بجلی گھروں کو چلانا پڑتا ہے، جس کی اضافی لاگت آخرکار صارفین سے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے وصول کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ اگر ویلیو چین کے ایک مرحلے میں بہتری آئے لیکن دوسرے مرحلے میں بنیادی رکاوٹیں برقرار رہیں تو مجموعی نظام مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتا۔

اصلاحات کا اگلا مرحلہ زیادہ مشکل

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پاور سیکٹر اصلاحات کے نسبتاً آسان مرحلے سے آگے نکل چکا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں ٹیرف میں اصلاح، بجلی خریداری کے معاہدوں پر نظرثانی، وصولیوں میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط اور حکومتی معاونت جیسے اقدامات کیے گئے، تاہم اب اصل چیلنج ادارہ جاتی اصلاحات کا ہے۔

ان کے مطابق آئندہ مرحلے میں درج ذیل شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی:

  • قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی توسیع اور جدیدکاری۔
  • تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیمِ نو اور انتظامی اصلاحات۔
  • بجلی چوری کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال۔
  • اسمارٹ میٹرنگ اور ڈیجیٹل نگرانی کا فروغ۔
  • اداروں کی خودمختاری اور احتساب کو مضبوط بنانا۔
  • ایسا مراعاتی نظام تشکیل دینا جو صرف نقصانات کم کرنے کے بجائے مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کی حوصلہ افزائی کرے۔

عوامی اعتماد بحال کرنا بھی بڑا چیلنج

ماہرین کے مطابق پاور سیکٹر میں اصلاحات کی کامیابی صرف مالیاتی اعداد و شمار سے نہیں ناپی جا سکتی بلکہ عوامی اعتماد بھی اتنا ہی اہم عنصر ہے۔

اگر ایک طرف نقصانات میں کمی کے دعوے کیے جائیں جبکہ دوسری جانب گردشی قرضہ بڑھے اور بجلی کے نرخ مسلسل بلند رہیں تو عام صارفین کے لیے اصلاحات کے فوائد محسوس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی لیے توانائی کے شعبے میں آزادانہ آڈٹ، بروقت اعداد و شمار کی اشاعت، شفاف کارکردگی اشاریے اور ریگولیٹر، حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا فروغ انتہائی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

اصلاحات کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

توانائی کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اصلاحات کا مقصد صرف مالیاتی اشاریوں کو بہتر بنانا نہیں بلکہ ایسا بجلی کا نظام قائم کرنا ہے جو:

  • صارفین کو قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرے۔
  • بجلی کی قیمتوں کو طویل مدت میں مستحکم اور کم رکھنے میں مدد دے۔
  • گردشی قرضے کو مستقل بنیادوں پر قابو میں رکھے۔
  • نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔
  • قومی معیشت کی مسابقت میں اضافہ کرے۔

آگے کا راستہ

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے پاور سیکٹر نے گزشتہ دو برسوں میں کئی اہم اصلاحاتی اقدامات ضرور کیے ہیں، تاہم یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔

ان کے نزدیک آئندہ کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت، ریگولیٹر اور بجلی کے شعبے سے وابستہ ادارے بنیادی ساختی مسائل، ٹرانسمیشن کی کمزوریوں، بجلی چوری، ادارہ جاتی اصلاحات اور صارفین کے اعتماد کی بحالی جیسے اہم چیلنجز سے کس حد تک نمٹنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اصلاحات کے ثمرات عام صارفین کو کم نرخوں، بہتر سروس، کم لوڈشیڈنگ اور مستحکم بجلی کی فراہمی کی صورت میں محسوس نہیں ہوتے، تب تک اصلاحات کی کامیابی پر بحث جاری رہے گی۔ اسی لیے بجلی کے شعبے کا اگلا مرحلہ صرف اعداد و شمار میں بہتری نہیں بلکہ عملی، پائیدار اور عوامی سطح پر محسوس ہونے والی تبدیلیوں سے جانچا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button