بین الاقوامیاہم خبریں

امریکی گولہ بارود کے ذخائر پر تنازع: صدر ٹرمپ کا واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ مسترد، دفاعی صنعت میں تاریخی توسیع کا دعویٰ، لیکس پر سخت کارروائی کی دھمکی

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع سے استفسار کیا کہ انہیں فوجی ذخائر کی حقیقی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا گیا

مدثر احمد-ادارت

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجی گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس گولہ بارود کی "بہت بڑی مقدار” موجود ہے، جبکہ ملک بھر میں دفاعی صنعت کی تاریخ کے سب سے بڑے پیداواری منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قومی سلامتی سے متعلق معلومات افشا کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں طویل قید کی سزائیں دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جس میں انہوں نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کو ردعمل دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے درمیان فوجی گولہ بارود کی قلت اور ایران سے متعلق عسکری حکمت عملی پر اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔

اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نہ صرف اس وقت مختلف اقسام کے جدید اور روایتی گولہ بارود کے وسیع ذخائر رکھتا ہے بلکہ بڑی مقدار میں نیا اسلحہ بھی تیار کیا جا رہا ہے، جو ضرورت کے مطابق امریکی مسلح افواج کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی دفاعی صنعت ملکی تاریخ کے سب سے بڑے توسیعی مرحلے سے گزر رہی ہے اور متعدد نئے کارخانے، پیداواری یونٹس اور دفاعی تنصیبات تعمیر کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی سے متعلق معلومات میڈیا تک پہنچانے والے افراد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں "غدار” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے انہیں طویل قید کی سزائیں دلوانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ مستقبل میں حساس دفاعی معلومات کے افشا کو روکا جا سکے۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ جمعہ کو ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے درمیان فوجی ذخائر، خصوصاً جدید گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی دستیابی کے حوالے سے سخت سوال و جواب ہوا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع سے استفسار کیا کہ انہیں فوجی ذخائر کی حقیقی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا گیا، جبکہ بعض اہم ہتھیاروں کی دستیابی توقعات سے کہیں کم ہے۔

رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکہ کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں، جدید فضائی دفاعی نظام اور بعض حساس فوجی سازوسامان کی محدود دستیابی کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے امریکی عسکری منصوبہ بندی کو متاثر کیا اور ایران کے خلاف ممکنہ مزید فوجی کارروائیوں کے اختیارات کو بھی محدود کیا۔

ذرائع کے مطابق یہی صورتحال ان اہم عوامل میں شامل تھی جن کی وجہ سے صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید وسیع فضائی اور میزائل حملوں کی منظوری دینے سے گریز کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ امریکی صدر نے پیر کے روز دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے فوجی حملے کا حکم دیا تھا، تاہم بعد ازاں آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی رابطوں اور نئے مذاکرات کے امکانات سامنے آنے کے بعد اس کارروائی کو روک دیا گیا۔

واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا کہ امریکی حکومت نے دفاعی پیداوار میں اضافے کے لیے متعدد نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، جدید میزائل، گائیڈڈ راکٹس اور دیگر حساس دفاعی سازوسامان کی تیاری شامل ہے۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق ان جدید ہتھیاروں کی تیاری ایک پیچیدہ صنعتی عمل ہے جسے مکمل ہونے میں ایک سے دو سال تک کا وقت درکار ہو سکتا ہے، اس لیے اگر موجودہ ذخائر پر دباؤ برقرار رہتا ہے تو اس مسئلے کا فوری حل ممکن نہیں ہوگا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحرالکاہل میں چین کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلہ اور دنیا بھر میں امریکی اتحادیوں کو دفاعی سازوسامان کی مسلسل فراہمی نے امریکی اسلحہ سازی کی صنعت پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے۔ اگرچہ امریکہ اپنی پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، تاہم جدید میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری میں وقت، مہارت اور پیچیدہ سپلائی چین ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ان کی انتظامیہ قومی سلامتی، دفاعی تیاریوں اور ایران کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر شدید عوامی اور سیاسی بحث کا سامنا کر رہی ہے۔ اطلاعات کے افشا ہونے، فوجی تیاریوں اور دفاعی حکمت عملی کے بارے میں جاری بحث آئندہ دنوں میں بھی امریکی سیاست اور قومی سلامتی کے معاملات میں ایک اہم موضوع بنی رہنے کا امکان ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button