
تہلکہ میگزین کے بانی ترون تیج پال ریپ کیس میں مجرم قرار، ممبئی ہائی کورٹ نے بریت کا فیصلہ کالعدم کر دیا
شکایت سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ پورے بھارت میں میڈیا کی شہ سرخی بن گیا، جبکہ خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی نے بھی فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
جاوید اختر -ممبئی
ممبئی: بھارت کی عدالتی تاریخ کے اہم اور طویل عرصے سے زیرِ بحث رہنے والے مقدمات میں سے ایک میں ممبئی ہائی کورٹ نے معروف تحقیقاتی جریدے تہلکہ (Tehelka) کے بانی اور سابق ایڈیٹر ترون تیج پال کو ریپ کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے 2021 میں گوا کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنایا گیا بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کو بھارت میں خواتین کے حقوق، جنسی جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف اور عدالتی احتساب کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ مقدمہ گزشتہ ایک دہائی سے بھارتی میڈیا، عدلیہ اور سول سوسائٹی کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ عدالت کے تازہ فیصلے نے نہ صرف اس ہائی پروفائل کیس کو ایک نیا رخ دیا ہے بلکہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں عدالتی فیصلوں، شواہد کے معیار اور متاثرہ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔
2013 کا واقعہ: ہوٹل کی لفٹ میں مبینہ زیادتی
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، 63 سالہ ترون تیج پال پر الزام تھا کہ انہوں نے نومبر 2013 میں ریاست گوا کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنی جونیئر خاتون ساتھی کے ساتھ لفٹ میں دو مرتبہ جنسی زیادتی کی۔
متاثرہ خاتون، جو اس وقت تہلکہ میگزین میں صحافی کے طور پر کام کر رہی تھیں، نے الزام عائد کیا تھا کہ ادارے کے سربراہ ہونے کے باعث ترون تیج پال نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور انہیں جنسی حملے کا نشانہ بنایا۔
شکایت سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ پورے بھارت میں میڈیا کی شہ سرخی بن گیا، جبکہ خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی نے بھی فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
گرفتاری اور ضمانت
الزامات سامنے آنے کے بعد گوا پولیس نے ترون تیج پال کو گرفتار کر لیا تھا۔ وہ تقریباً سات ماہ تک جیل میں رہے، جس کے بعد بھارت کی سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔
عدالتی کارروائی کئی برس تک جاری رہی، جس کے دوران استغاثہ اور دفاع دونوں نے متعدد شواہد اور گواہان عدالت کے سامنے پیش کیے۔
2021 میں بریت، پھر حکومت کی اپیل
مئی 2021 میں گوا کی ایک ٹرائل کورٹ نے ترون تیج پال کو ریپ، جنسی ہراسانی اور خاتون کو غیرقانونی طور پر روکنے سمیت تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو خواتین کے حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ فیصلے میں متاثرہ خاتون کے بیان اور شواہد کا مناسب جائزہ نہیں لیا گیا۔
بعد ازاں گوا حکومت نے اس فیصلے کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس نے مقدمے کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ
جمعرات کو سنائے گئے فیصلے میں ممبئی ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترون تیج پال کے خلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں۔
عدالت نے انہیں ریپ کے جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے بعض اہم پہلوؤں کا درست قانونی جائزہ نہیں لیا تھا، جس کی وجہ سے بریت کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سزا کا تعین الگ عدالتی کارروائی کے بعد کیا جائے گا۔
تحقیقاتی افسر کا ردعمل
فیصلے کے بعد گوا پولیس کی تحقیقاتی افسر سونیتا ساونت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"ملزم کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کے خلاف فیصلہ نہیں بلکہ ان تمام خواتین کے لیے ایک اہم پیغام ہے جو مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے طویل قانونی جدوجہد کے باوجود متاثرہ خواتین کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
اپیل کا حق برقرار
ترون تیج پال نے مقدمے کے آغاز سے ہی تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
قانونی ماہرین کے مطابق بھارتی قانون کے تحت مجرم قرار دیے جانے کے بعد بھی ملزم کو اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
بھارت میں خواتین کے تحفظ سے متعلق اہم مقدمہ
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم پر حکومتی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں تھی۔
خصوصاً دسمبر 2012 میں نئی دہلی میں ایک 23 سالہ طالبہ کے اجتماعی ریپ اور قتل نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اس اندوہناک واقعے کے بعد لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، ملک گیر احتجاج ہوا اور عالمی سطح پر بھی بھارت میں خواتین کے تحفظ سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ان عوامی مظاہروں کے نتیجے میں بھارتی حکومت کو ریپ سے متعلق قوانین مزید سخت کرنا پڑے، جبکہ جنسی جرائم کی تحقیقات اور مقدمات کے طریقہ کار میں بھی کئی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔
تہلکہ میگزین کی ساکھ کو شدید دھچکا
ترون تیج پال کا مقدمہ صرف ایک فوجداری مقدمہ نہیں تھا بلکہ اس نے تہلکہ میگزین کی ساکھ کو بھی شدید متاثر کیا۔
تہلکہ ایک عرصے تک بھارت کے معروف تحقیقاتی جرائد میں شمار ہوتا رہا اور اس نے کرپشن، انسانی حقوق، خواتین کے مسائل اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر کئی اہم رپورٹس شائع کیں۔
اسی وجہ سے ادارے کے بانی پر جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آنے کے بعد میڈیا انڈسٹری میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جبکہ میگزین کی عوامی ساکھ اور پیشہ ورانہ اعتبار کو بڑا نقصان پہنچا۔
قانونی اور سماجی اہمیت
قانونی ماہرین کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ بھارت میں جنسی جرائم سے متعلق عدالتی نظائر میں اہم اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ بااثر شخصیات بھی قانون سے بالاتر نہیں اور جنسی جرائم کے متاثرین اگر طویل قانونی جدوجہد کریں تو انصاف حاصل کرنا ممکن ہے۔
دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمے کے خلاف ممکنہ اپیل کے بعد سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ اس کیس کی آئندہ قانونی حیثیت کا تعین کرے گا۔
آئندہ مرحلہ
اب تمام نظریں سزا کے تعین اور ممکنہ اپیل پر مرکوز ہیں۔ اگر ترون تیج پال سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہیں تو یہ مقدمہ ایک مرتبہ پھر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں زیرِ سماعت آ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات اور انصاف کے نظام کے حوالے سے ایک اہم عدالتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


