پاکستاناہم خبریں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے صومالی وزیر دفاع کی اہم ملاقات، پاک۔صومالیہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور فوجی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور صومالیہ اپنی دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت دیں گے تاکہ دونوں ممالک کی افواج مشترکہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں۔

سید عاطف ندیم-ادارت

راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے وزیر دفاع سفیر احمد معلم فقی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں اہم ملاقات کی، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی، پیشہ ورانہ فوجی روابط اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات انتہائی خوشگوار اور باہمی اعتماد کے ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات، دفاعی شراکت داری اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی پر گفتگو

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر غور کیا گیا، جن میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تعاون، دفاعی تربیت، عسکری اداروں کے درمیان روابط اور مستقبل میں مشترکہ اقدامات شامل تھے۔

دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں سکیورٹی خطرات کی نوعیت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے دوست ممالک کے درمیان قریبی تعاون، معلومات کے تبادلے، پیشہ ورانہ تربیت اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور صومالیہ اپنی دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت دیں گے تاکہ دونوں ممالک کی افواج مشترکہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں۔

دفاعی تعاون اور استعداد کار میں اضافے پر اتفاق

دونوں ممالک کے عسکری رہنماؤں نے فوجی تعاون کے مختلف شعبوں، بالخصوص پیشہ ورانہ عسکری تربیت، دفاعی اداروں کے درمیان روابط، تجربات کے تبادلے، استعداد کار میں اضافے اور جدید دفاعی مہارتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے پر اتفاق کیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں اس امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری وفود کے تبادلے، تربیتی پروگراموں اور دفاعی تعاون کے دیگر شعبوں میں روابط کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ باہمی شراکت داری مزید مضبوط ہو سکے۔

صومالی وزیر دفاع کا پاکستان کے کردار کو خراج تحسین

صومالی وفد کے سربراہ اور وزیر دفاع سفیر احمد معلم فقی نے ملاقات کے دوران خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی امن کے فروغ، اقوام متحدہ کے امن مشنز میں مؤثر شرکت اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، نظم و ضبط، قربانیوں اور عسکری مہارت کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ صومالیہ پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے کا خواہاں ہے، خصوصاً دفاعی تربیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور سکیورٹی استعداد کار کے شعبوں میں۔

صومالی وزیر دفاع نے پاکستان کی جانب سے صومالیہ کے ساتھ مسلسل تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کو بھی سراہا۔

پاکستان کے مکمل تعاون کا اعادہ

اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صومالی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان صومالیہ کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کے سکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھانے، دفاعی تربیت، پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی، سمندری سلامتی اور دیگر غیر روایتی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی، معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

پاکستان اور صومالیہ کے تعلقات

پاکستان اور صومالیہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات موجود ہیں۔ دونوں ممالک اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے رہے ہیں، جبکہ پاکستان صومالیہ میں امن، استحکام اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔

دفاعی شعبے میں بھی پاکستان صومالی فوجی افسران کی تربیت، پیشہ ورانہ کورسز اور عسکری تعاون کے ذریعے صومالیہ کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

علاقائی امن کے لیے مشترکہ وژن

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افریقہ کے مشرقی خطے اور بحیرۂ احمر کے اطراف سلامتی کے مختلف چیلنجز، دہشت گردی، بحری قزاقی اور غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کے باعث علاقائی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی روابط میں مزید مضبوطی نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری شراکت داری کو وسعت دے گی بلکہ انسداد دہشت گردی، سمندری سلامتی، فوجی تربیت اور علاقائی استحکام کے لیے بھی مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق جی ایچ کیو میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ صومالیہ بھی اپنے دفاعی اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے حالیہ اتفاقات مستقبل میں دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button