پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

فارمن کرسچن کالج اور حکومتِ بلوچستان کے درمیان طالبات کے لیے مکمل فنڈڈ وظائف کا تاریخی معاہدہ

منصوبے کے تحت بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ہر سال 30 سے 50 نمایاں طالبات کو میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا

قاسم بخاری

لاہور: بلوچستان میں خواتین کی تعلیم، اعلیٰ تعلیمی مواقع اور انسانی وسائل کی ترقی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر فارمن کرسچن کالج (اے چارٹرڈ یونیورسٹی) اور حکومتِ بلوچستان کے محکمۂ اسکول ایجوکیشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت بلوچستان کے تمام اضلاع سے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والی طالبات کو مکمل طور پر فنڈڈ اعلیٰ تعلیمی وظائف فراہم کیے جائیں گے۔

یہ شراکت داری نہ صرف بلوچستان کی باصلاحیت طالبات کے لیے معیاری تعلیم کے دروازے کھولے گی بلکہ انہیں گریجویشن کے بعد باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اقدام بلوچستان میں خواتین کی تعلیمی ترقی، سماجی شمولیت اور معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔

ایم او یو کی دستخطی تقریب

مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب 24 جولائی 2026 کو فارمن کرسچن کالج (اے چارٹرڈ یونیورسٹی) لاہور میں منعقد ہوئی، جہاں دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام، تعلیمی ماہرین اور منصوبے سے وابستہ افسران نے شرکت کی۔

تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بلوچستان کے دور دراز، پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت طالبات کو اعلیٰ تعلیم تک مساوی رسائی فراہم کرنا حکومت اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاکہ وہ بھی قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

ورلڈ بینک کے تعاون سے خصوصی تعلیمی منصوبہ

یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (BESP-GRADES) کے تحت شروع کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد بلوچستان کے نوجوانوں، خصوصاً طالبات، کو معیاری تعلیم اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کے تحت بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ہر سال 30 سے 50 نمایاں طالبات کو میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا، جنہیں فارمن کرسچن کالج میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے مکمل وظائف فراہم کیے جائیں گے۔

مکمل تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے گی

منصوبے کے تحت منتخب طالبات کے لیے صرف ٹیوشن فیس ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم سے متعلق دیگر ضروری اخراجات بھی پروگرام کے ذریعے پورے کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کسی بھی طالبہ کی تعلیمی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف ڈگری دلوانا نہیں بلکہ طالبات کو ایسی معیاری تعلیم، تربیت اور مہارتیں فراہم کرنا ہے جو انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بنا سکیں۔

تعلیم کے بعد روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے

منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ طالبات کو گریجویشن مکمل کرنے کے بعد روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

اس مقصد کے لیے صنعتی شعبے، نجی اداروں، ترقیاتی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ روابط استوار کیے جائیں گے تاکہ طالبات کو عملی میدان میں بہتر مواقع میسر آ سکیں۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف تعلیم کافی نہیں بلکہ تعلیم کو روزگار سے جوڑنا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ منصوبہ اسی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

اعلیٰ حکام کی شرکت

تقریب میں حکومت بلوچستان کی جانب سے متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں:

  • صوبائی وزیر برائے اسکول ایجوکیشن راحیلہ حمید خان درانی
  • سیکریٹری اسکول ایجوکیشن لعل جان جعفر
  • اسپیشل سیکریٹری محکمہ خزانہ عارف اچکزئی
  • پراجیکٹ ڈائریکٹر پی ایم یو-بی ای ایس پی (GRADES) حافظ محمد قاسم
  • ٹیچر ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ عتیق الرحمن
  • سینئر پراجیکٹ آفیسر اور اسکالرشپس فوکل پرسن رومیل خان

کے علاوہ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پراجیکٹ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

فارمن کرسچن کالج کی جانب سے ریکٹر ڈاکٹر جوناتھن ایس ایڈلٹن اور یونیورسٹی کی سینئر انتظامیہ نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

خواتین کی تعلیم کو قومی ترقی سے جوڑا گیا

تقریب کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی تعلیم کسی بھی معاشرے کی مجموعی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں باصلاحیت طالبات کی کمی نہیں، تاہم محدود وسائل، جغرافیائی دوریوں اور مالی مشکلات کے باعث بہت سی طالبات اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے ان رکاوٹوں کو کم کرنے کی عملی کوشش کی جا رہی ہے۔

پسماندہ اضلاع کی طالبات کو خصوصی ترجیح

حکام کے مطابق وظائف کے انتخاب میں بلوچستان کے دور افتادہ، کم ترقی یافتہ اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ اضلاع سے تعلق رکھنے والی مستحق اور باصلاحیت طالبات کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

اس سے نہ صرف تعلیمی مساوات کو فروغ ملے گا بلکہ ان علاقوں میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے مثبت رجحانات بھی مضبوط ہوں گے۔

تعلیم، خودمختاری اور سماجی ترقی کی جانب اہم قدم

ماہرین تعلیم کے مطابق یہ شراکت داری بلوچستان میں خواتین کو بااختیار بنانے، اعلیٰ تعلیم کے فروغ، ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور سماجی و معاشی ترقی کے لیے ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ثابت ہوگی۔

اس منصوبے سے نہ صرف طالبات کی انفرادی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی بلکہ ان کے خاندانوں، مقامی کمیونٹیز اور پورے صوبے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔

مشترکہ عزم کا اظہار

تقریب کے اختتام پر حکومت بلوچستان، فارمن کرسچن کالج اور ترقیاتی شراکت داروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں معیاری تعلیم کے فروغ، خواتین کو بااختیار بنانے اور نوجوان نسل کو بہتر مستقبل فراہم کرنے کے لیے باہمی تعاون کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ پروگرام نہ صرف بلوچستان کی طالبات کے لیے نئی راہیں کھولے گا بلکہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، مساوی مواقع اور انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے ایک کامیاب ماڈل کے طور پر بھی سامنے آئے گا، جس سے مستقبل میں مزید تعلیمی منصوبوں کی راہ ہموار ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button