
یوم آزادی پر پاک فوج کے سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کی خدمات کو خراج تحسین
استقبالیہ میں سابق فوجیوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے اس امر کی عکاسی کی کہ پاک فوج کے حاضر سروس اہلکاروں اور سابق فوجیوں کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعلق اور باہمی احترام آج بھی برقرار ہے۔
سید عا طف ندیم -ادارت
سابق فوجیوں کی ملکی دفاع اور قومی استحکام کے لیے تاحیات خدمات قابلِ فخر سرمایہ ہیں، COAS و CDF
اسلام آباد: یوم آزادی پاکستان کے موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (COAS & CDF) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، NI (M)، HJ نے پاک فوج کے سابق فوجیوں کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ کا اہتمام کیا، جس میں پاک فوج سے ریٹائر ہونے والے افسران اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
استقبالیہ میں سابق فوجیوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے اس امر کی عکاسی کی کہ پاک فوج کے حاضر سروس اہلکاروں اور سابق فوجیوں کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعلق اور باہمی احترام آج بھی برقرار ہے۔ تقریب کے دوران ملکی دفاع، قومی سلامتی اور پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے سابق فوجیوں کی طویل اور گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
سابق فوجیوں کی خدمات کو شاندار خراج تحسین
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سابق فوجیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی دفاع کے لیے ان کی انمول خدمات، قربانیوں اور تاحیات وابستگی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک فوج کے سابق افسران اور جوانوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران ملک کی سلامتی، دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ پاکستان کی تاریخ اور قومی اجتماعی شعور کا ایک اہم حصہ ہیں۔
COAS اور CDF نے سابق فوجیوں کے کردار کو صرف ان کی سروس کے عرصے تک محدود قرار دینے کے بجائے اسے ایک مسلسل قومی خدمت کے طور پر اجاگر کیا اور کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سابق فوجیوں کا تجربہ، مشاہدہ اور رہنمائی قومی سطح پر ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

قومی لچک مضبوط بنانے میں سابق فوجیوں کا کردار
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی لچک کو مضبوط بنانے میں سابق فوجیوں کے لازوال کردار کا بھی اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مختلف ادوار میں سیکیورٹی، معاشی اور سماجی نوعیت کے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم قوم نے اتحاد، حوصلے اور ثابت قدمی کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا۔
اس قومی لچک کی تشکیل اور مضبوطی میں پاک فوج کے سابق فوجیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

سابق فوجیوں کا تجربہ ادارہ جاتی اثاثہ ہے
COAS اور CDF نے خصوصی طور پر اس بات پر زور دیا کہ سابق فوجیوں کا وسیع پیشہ ورانہ تجربہ، رہنمائی اور مسلسل قومی معاملات میں مثبت کردار ایک قیمتی ادارہ جاتی اثاثہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سیکیورٹی کا ماحول تیزی سے پیچیدہ اور مسلسل تبدیل ہو رہا ہے، جس کے باعث تجربہ کار افراد کی بصیرت اور رہنمائی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس امر کو اجاگر کیا کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تجربے کو محفوظ رکھنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا انتہائی اہم ہے۔

بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں تجربے کی اہمیت
موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں سیکیورٹی چیلنجز کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ روایتی خطرات کے ساتھ ساتھ غیر روایتی خطرات، ہائبرڈ چیلنجز، ٹیکنالوجی کے تیز رفتار استعمال اور دیگر پیچیدہ عوامل نے قومی سلامتی کے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس صورتحال میں سابق فوجیوں کا عملی تجربہ، پیشہ ورانہ تربیت اور مختلف حالات میں فیصلہ سازی کی صلاحیت ایک اہم قومی سرمایہ تصور کی جاتی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سابق فوجیوں کی اسی تجرباتی بصیرت اور رہنمائی کو سراہتے ہوئے ان کے مسلسل کردار کی اہمیت اجاگر کی۔

سابق فوجیوں کا پاک فوج کی قیادت پر اعتماد
استقبالیہ کے دوران سابق فوجیوں نے پاک فوج کی موجودہ قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
سابق افسران اور جوانوں نے ملک کو درپیش موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلح افواج کے ساتھ اپنی مسلسل حمایت اور وابستگی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج کے سابق اہلکار کی حیثیت سے وہ قومی سلامتی، اتحاد اور استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے اپنی صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے رہیں گے۔

قومی اتحاد، امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کا عزم
سابق فوجیوں نے پاکستان میں قومی اتحاد، امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے قومی سطح پر اتحاد، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے کو فروغ دینا ضروری ہے۔
سابق فوجیوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی آواز اور تجربے کو استعمال کریں گے۔

یوم آزادی پر قومی جذبے کی تجدید
پاک فوج کے سابق فوجیوں کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ یوم آزادی کی تقریبات کا ایک اہم حصہ تھا، جس میں پاکستان کے دفاع کے لیے خدمات انجام دینے والے سابق اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
یوم آزادی کے موقع پر منعقد ہونے والی اس تقریب نے اس عزم کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے لیے مختلف نسلوں اور اداروں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
تقریب کے دوران قومی خدمت کے جذبے، قربانی، وفاداری اور پیشہ ورانہ وابستگی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔

پاک فوج کے حاضر سروس اہلکاروں اور سابق فوجیوں کے درمیان مضبوط تعلق
استقبالیہ نے پاک فوج کے حاضر سروس اہلکاروں اور سابق فوجیوں کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلق کو بھی اجاگر کیا۔
پاک فوج سے ریٹائر ہونے والے افسران اور جوان اپنی سروس کے دوران حاصل کیے گئے تجربات، تربیت اور قومی دفاع کے حوالے سے اپنی خدمات کے باعث ادارے کا ایک اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
سابق فوجیوں کی جانب سے موجودہ قیادت اور مسلح افواج کے لیے حمایت کے اظہار کو بھی اس دیرینہ تعلق اور ادارہ جاتی تسلسل کی علامت قرار دیا گیا۔
دفاعِ وطن کے جذبے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت
استقبالیہ میں سابق فوجیوں کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے اس امر کی اہمیت بھی سامنے آئی کہ دفاعِ وطن اور قومی خدمت کے جذبے کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔
سابق فوجیوں کے تجربات اور قربانیوں سے نئی نسل کو پاکستان کی دفاعی تاریخ، قومی ذمہ داری اور ملکی سلامتی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے۔
اس حوالے سے سابق فوجیوں کی رہنمائی اور تجربات نہ صرف پاک فوج بلکہ مجموعی طور پر قومی سطح پر ایک اہم علمی اور ادارہ جاتی سرمایہ ہیں۔
پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم
تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار کیا گیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سابق فوجیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے احترام اور قدر کا اظہار کیا جبکہ سابق فوجیوں نے بھی ملک کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مسلح افواج کی مسلسل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ یہ استقبالیہ اس پیغام کا مظہر تھا کہ پاکستان کے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے خدمات انجام دینے والے افراد کی قربانیوں اور خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، جبکہ سابق فوجیوں کا تجربہ، رہنمائی اور قومی معاملات میں مثبت کردار مستقبل میں بھی ملک کے لیے ایک اہم اثاثہ رہے گا۔



