بین الاقوامیاہم خبریں

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات بے نتیجہ ختم، کینیڈا کا 8 ستمبر سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف کا اعلان

مذاکرات کے خاتمے کے بعد امریکی انتظامیہ نے کینیڈا سے متعلق نئے تجارتی اقدامات پر عمل درآمد شروع کر دیا

مدثر احمد-ادارت

اوٹاوا: امریکہ اور کینیڈا کے درمیان کئی روز سے جاری انتہائی اہم تجارتی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں دیرینہ اتحادیوں اور ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان اقتصادی اور سیاسی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد امریکہ نے کینیڈین مصنوعات کی ایک بڑی تعداد پر 50 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کر دیا، جبکہ کینیڈا نے بھی واشنگٹن کے اقدام کا جواب دینے کے لیے 8 ستمبر سے امریکی مصنوعات پر ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کی بنیاد پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پیش رفت شمالی امریکہ کی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت نہ صرف کئی دہائیوں سے انتہائی وسیع پیمانے پر جاری ہے بلکہ ان کی صنعتی اور سپلائی چینز بھی ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہیں۔ تازہ تجارتی تنازع نے امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا معاہدے (USMCA) کے مستقبل کے بارے میں بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

تین روزہ مذاکرات بھی بحران ختم نہ کر سکے

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ مذاکرات کا مقصد بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کو کم کرنا اور دونوں ملکوں کے درمیان محصولات کے تنازع کا کوئی قابلِ قبول حل تلاش کرنا تھا۔ مذاکرات کے آخری مرحلے میں دونوں جانب سے شدید سفارتی اور تجارتی سرگرمی دیکھی گئی، تاہم جمعے کی رات تک فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

رائٹرز کے مطابق مذاکرات کے خاتمے کے بعد امریکی انتظامیہ نے کینیڈا سے متعلق نئے تجارتی اقدامات پر عمل درآمد شروع کر دیا، جبکہ کینیڈین حکومت نے بھی جوابی کارروائی کی تیاری مکمل کر لی۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واضح کیا کہ اوٹاوا امریکی دباؤ کے سامنے اپنی اقتصادی پالیسی اور قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے پیش کی جانے والی بعض شرائط کینیڈا کے لیے ناقابل قبول تھیں اور ان کا خیال تھا کہ ان شرائط کو قبول کرنے سے ملک کی اقتصادی خودمختاری اور مستقبل کی تجارتی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکہ کا 50 فیصد ٹیرف، تقریباً 20 ارب ڈالر کی کینیڈین برآمدات متاثر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے 50 فیصد ٹیرف کا اطلاق کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر کیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین برآمدات متاثر ہونے کا امکان ہے، جو امریکہ کو کینیڈا کی مجموعی سالانہ برآمدات کا تقریباً 5 فیصد بنتی ہیں۔

نئے امریکی محصولات کی زد میں آنے والی مصنوعات میں مختلف اقسام کی اشیا شامل ہیں، جن میں:

  • وائن اور دیگر مشروبات
  • فرنیچر
  • ڈیری مصنوعات
  • سیمنٹ
  • کپڑے اور ٹیکسٹائل
  • الیکٹرانک مصنوعات
  • ماہی گیری کا سامان
  • ہاکی کا سامان
  • کاغذ اور متعلقہ مصنوعات
  • بعض صنعتی اور صارفین کی اشیا

شامل ہیں۔

اس اقدام کی خاص بات یہ ہے کہ کچھ ایسی کینیڈین مصنوعات بھی نئے ٹیرف کی زد میں آ رہی ہیں جنہیں گزشتہ عرصے میں USMCA کے تحت نسبتاً بہتر تجارتی تحفظ حاصل رہا تھا۔ اس تبدیلی نے کینیڈین برآمد کنندگان کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مارک کارنی کا سخت ردعمل

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اوٹاوا میں پریس کانفرنس کے دوران واشنگٹن کے اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا اپنے کارکنوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے امریکی اقدامات کا جواب دے گا۔

کارنی کے مطابق کینیڈا نئے امریکی محصولات کا جواب ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کی بنیاد پر دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا یہ قدم خوشی سے نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھا رہا ہے۔

کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ نئے جوابی ٹیرف بنیادی طور پر ایسے شعبوں پر مرکوز ہوں گے جہاں کینیڈین صنعت کو امریکی درآمدات سے براہ راست مقابلے کا سامنا ہے۔ ان شعبوں میں سٹیل، ڈیری، گھریلو آلات، زرعی مشینری، پلپ اینڈ پیپر اور الیکٹرانکس شامل ہیں۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جوابی ٹیرف کینیڈین صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے اور مصنوعات کے انتخاب میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم ان کے بقول حکومت کے پاس اپنے صنعتی اور اقتصادی مفادات کے دفاع کے سوا کوئی قابلِ عمل راستہ نہیں۔

’’ہم پر حملہ کیا گیا ہے‘‘، کارنی کا سخت بیان

مارک کارنی نے امریکی اقدامات کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے تو وہ جنگ کی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے اور کینیڈا کو بھی اپنے اقتصادی مفادات کا دفاع کرنا ہوگا۔

ان کا مؤقف ہے کہ امریکہ کے نئے ٹیرف محض ایک معمول کی تجارتی پالیسی نہیں بلکہ کینیڈا کی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں۔

کارنی نے مذاکرات کے دوران سامنے آنے والی امریکی شرائط پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کینیڈا واشنگٹن کی ایسی پیشکش قبول نہیں کر سکتا جو اس کے بنیادی اقتصادی یا قومی مفادات کے خلاف ہو۔

کینیڈین وزیراعظم نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ اوٹاوا اپنی مستقبل کی تجارتی پالیسی کے بارے میں خود فیصلے کرے گا اور کسی ایک ملک کے دباؤ میں آ کر دوسرے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارت کے راستے محدود نہیں کرے گا۔

8 ستمبر سے کینیڈا کا جوابی وار

کینیڈین حکومت کے مطابق امریکہ کے نئے ٹیرف کے جواب میں جوابی محصولات 8 ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے۔ یہ تاریخ لیبر ڈے کے بعد آنے والے منگل سے مطابقت رکھتی ہے۔

کینیڈا کا کہنا ہے کہ جوابی اقدامات کا مقصد امریکی کمپنیوں کو سزا دینا نہیں بلکہ کینیڈین مارکیٹ میں مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

کینیڈا نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ متاثرہ کارکنوں اور کاروباری اداروں کی مدد کے لیے مزید حکومتی اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعظم کارنی کے مطابق حکومت گزشتہ 18 ماہ کے دوران کاروباری اداروں اور کارکنوں کے لیے تقریباً 25 ارب ڈالر کی معاونت پہلے ہی فراہم کر چکی ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف: کینیڈا نے موقع ضائع کیا

دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کینیڈا پر عائد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اوٹاوا نے امریکہ کے ساتھ ایک نئے تجارتی سمجھوتے تک پہنچنے کا اہم موقع ضائع کر دیا۔

گریر نے واضح کیا کہ امریکہ فی الحال کینیڈا کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور واشنگٹن کینیڈا کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا مقصد امریکی کارکنوں، صنعتوں اور سپلائی چینز کا تحفظ ہے۔ امریکی انتظامیہ گزشتہ عرصے سے کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں اور بعض شعبوں میں امریکی مصنوعات کے ساتھ برتاؤ پر اعتراضات کرتی رہی ہے۔

یوں دونوں حکومتوں کے بیانات سے واضح ہے کہ فی الحال فریقین کے درمیان اعتماد کی سطح انتہائی کم ہو چکی ہے اور فوری طور پر مذاکرات کی بحالی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

کینیڈین صنعت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

تجارتی ماہرین کے مطابق امریکی محصولات کینیڈا کی مجموعی برآمدات کے نسبتاً محدود حصے کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں، تاہم جن شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ بعض مخصوص علاقوں اور صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

خصوصاً لکڑی، ڈیری، وائن، سٹیل، فرنیچر اور بعض مینوفیکچرنگ شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ میں مسابقتی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

امریکی مارکیٹ کینیڈین کاروباروں کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے اضافی محصولات سے بعض کمپنیوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے، منافع کم ہو سکتا ہے اور بعض صورتوں میں ملازمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کے جوابی ٹیرف کا اثر امریکی کمپنیوں پر بھی پڑے گا۔ امریکی مصنوعات مہنگی ہونے کی صورت میں کینیڈین صارفین اور کاروباروں کے لیے درآمدی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس کا کچھ حصہ بالآخر صارفین تک منتقل ہونے کا امکان ہے۔

امریکی صارفین اور کمپنیوں پر بھی اثرات

تجارتی جنگ کا اثر صرف کینیڈا تک محدود رہنے کا امکان نہیں۔ امریکہ اور کینیڈا کی معیشتیں کئی شعبوں میں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں، جس کے باعث ٹیرف میں اضافہ دونوں ممالک کے کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

کینیڈین خام مال اور تیار شدہ مصنوعات امریکی صنعتوں کی سپلائی چین کا حصہ ہیں، جبکہ امریکی مصنوعات کینیڈین مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔

اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر مسلسل زیادہ محصولات عائد کرتے رہے تو کاروباری اداروں کو نئے سپلائرز تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں، پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے اور صارفین کو بعض مصنوعات زیادہ قیمت پر خریدنا پڑ سکتی ہیں۔

سیاسی سطح پر کارنی کو حمایت

کینیڈا میں وزیراعظم مارک کارنی کے سخت مؤقف کو اپوزیشن سمیت مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے حمایت حاصل ہوئی ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے بھی امریکی اقدامات کے خلاف کینیڈین مفادات کے دفاع کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈین عوام کو اپنے روزگار، کاروبار اور معیشت کے تحفظ کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

یہ غیر معمولی سیاسی اتفاق رائے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کا معاملہ کینیڈا میں محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب یہ قومی خودمختاری، روزگار اور مستقبل کی اقتصادی سمت سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

کینیڈا کے مختلف صوبوں اور کاروباری حلقوں میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ ملک کو امریکی مارکیٹ پر اپنے انحصار کو کم کرنے کے لیے دیگر عالمی منڈیوں کی جانب زیادہ تیزی سے بڑھنا چاہیے۔

USMCA کا مستقبل مزید غیر یقینی

امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان آزادانہ تجارت کے لیے قائم USMCA اس تازہ بحران کے باعث مزید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔

یہ معاہدہ شمالی امریکہ کی صنعتی سپلائی چینز کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور آٹو موبائل، زراعت، مینوفیکچرنگ، توانائی اور دیگر شعبوں میں اربوں ڈالر کی تجارت کو سہولت فراہم کرتا ہے۔

حالیہ تنازع نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ اگر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان موجودہ تجارتی کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو USMCA کس حد تک مؤثر رہ سکے گا۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ مذاکرات کی ناکامی نے براعظمی آزادانہ تجارت کے مستقبل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

میکسیکو کے لیے بھی نئی صورتحال

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر میکسیکو پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ تینوں ممالک کی معیشتیں ایک ہی براعظمی تجارتی نظام سے جڑی ہوئی ہیں۔

اگر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان محصولات کی جنگ طویل ہوتی ہے تو کمپنیاں اپنی سپلائی چینز اور سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر سکتی ہیں۔ اس سے شمالی امریکہ میں صنعتی پیداوار کے مراکز، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور تجارتی راستوں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

امریکہ پہلے ہی میکسیکو کے ساتھ الگ تجارتی مذاکرات کر رہا ہے، جس سے شمالی امریکہ کی تجارتی سیاست مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

کینیڈا متبادل عالمی منڈیوں کی تلاش میں

وزیراعظم کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا اپنی معیشت کو زیادہ متنوع بنانے اور امریکہ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کرے گا۔

کینیڈین حکومت کے مطابق ملک پہلے ہی نئی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور غیر امریکی ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافے کو اپنی طویل المدتی اقتصادی حکمت عملی کا حصہ بنا رہا ہے۔

اگر امریکہ کے ساتھ موجودہ تجارتی تنازع طویل ہوتا ہے تو کینیڈین کمپنیوں کے لیے یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں نئی منڈیاں تلاش کرنا زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کے لیے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کینیڈا مختصر مدت میں امریکی مارکیٹ کا متبادل پیدا کر سکتا ہے یا نہیں۔ امریکہ کینیڈا کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی قربت کاروباری تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔

واشنگٹن اور اوٹاوا کے تعلقات میں تاریخی تبدیلی

تجارتی تنازع کی موجودہ شدت صرف ٹیرف کے اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی گہرے ہو سکتے ہیں۔

امریکہ اور کینیڈا طویل عرصے سے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ دفاع، تجارت، سرحدی سلامتی، توانائی اور صنعتی پیداوار سمیت کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

مگر حالیہ برسوں میں تجارتی محصولات، اقتصادی دباؤ اور قومی خودمختاری سے متعلق اختلافات نے اس روایتی شراکت داری کو شدید آزمائش میں ڈال دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان موجودہ اختلاف طویل عرصے تک برقرار رہا تو اس کے اثرات صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سیاسی اعتماد اور مستقبل کے دوطرفہ تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ اور کینیڈا چند ہفتوں یا مہینوں میں دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں یا تجارتی کشیدگی ایک طویل جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

کینیڈا نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی محصولات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے فی الحال فوری مذاکرات کا کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

اگر 8 ستمبر سے کینیڈا کے جوابی محصولات نافذ ہو جاتے ہیں اور امریکہ مزید محصولات عائد کرتا ہے تو دونوں ممالک کے کاروباری اداروں، صارفین اور سرمایہ کاروں کو ایک نئے غیر یقینی معاشی ماحول کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر اقتصادی دباؤ دونوں حکومتوں کو دوبارہ مذاکرات پر مجبور کرتا ہے تو ممکن ہے کہ آنے والے ہفتوں میں کسی نئے تجارتی فریم ورک پر بات چیت شروع ہو جائے۔

نتیجہ

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات کی ناکامی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے تقریباً 20 ارب ڈالر کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف اور اس کے جواب میں کینیڈا کی جانب سے 8 ستمبر سے ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ جوابی محصولات کا اعلان شمالی امریکہ کی تجارت کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔

یہ تنازع نہ صرف کینیڈین اور امریکی صنعتوں بلکہ لاکھوں صارفین، کاروباری اداروں، کسانوں اور کارکنوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ USMCA کا مستقبل، شمالی امریکہ کی سپلائی چینز اور دونوں ممالک کے دیرینہ سیاسی تعلقات بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔

فی الحال دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں، لیکن طویل مدت میں دونوں معیشتوں کے باہمی انحصار کے باعث مذاکرات کی میز پر واپسی ہی وہ راستہ ہو سکتی ہے جس کے ذریعے اس بڑھتے ہوئے تجارتی بحران کو محدود کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button